حدیث نمبر: 119
عَنْ رِشْدِينَ بْنِ سَعْدٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلانِيُّ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ مَالِكٍ الْجَنْبِيُّ، أَنَّ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ، وَعُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ حَدَّثَاهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ فَرَغَ اللَّهُ مِنْ قَضَاءِ الْخَلْقِ، فَيَبْقَى رَجُلانِ يُؤْمَرُ بِهِمَا إِلَى النَّارِ فَيَلْتَفِتُ أَحَدُهُمَا، فَيَقُولُ الْجبَّارُ : رُدُّوهُ، فَيُرَدُّ، فَيُقَالُ لَهُ : لِمَ الْتَفَتَّ ؟ قَالَ : كُنْتُ أَرْجُو أَنْ تُدْخِلَنِي الْجَنَّةَ، قَالَ : فَيُؤْمَرُ بِهِ إِلَى الْجَنَّةِ، قَالَ : فَيَقُولُ : هَذَا عَطَاءُ رَبِّي حَتَّى إِنِّي لَوْ أَطْعَمْتُ أَهْلَ الْجَنَّةِ مَا نَقَصَ ذَلِكَ مِمَّا عِنْدِي شَيْئًا "، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَكَرَهُ يُرَى السُّرُورُ فِي وَجْهِهِ .
ترجمہ:جناب یاسر عرفات
سیدنا فضالہ بن عبید اور عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب قیامت کا دن ہوگا اور اللہ مخلوق کے فیصلے سے فارغ ہو جائے گا تو دو آدمی باقی رہ جائیں گے، انہیں آگ کی طرف (لے جانے کا) حکم دے دیا جائے گا تو ان میں سے ایک مڑ کر دیکھے گا، جبار کہے گا: اسے لوٹاؤ تو اسے لوٹایا جائے گا اور اس سے کہا جائے گا کہ تو نے مڑ کر کیوں دیکھا؟ وہ کہے گا: میں امید رکھتا ہوں کہ وہ مجھے جنت میں داخل کر دے گا۔“ فرمایا: ”اسے جنت کی طرف (لے جانے کا) حکم دے دیا جائے گا۔“ فرمایا: ”وہ کہے گا کہ یقیناً میرے رب نے مجھے (اتنا) دیا ہے۔ یہاں تک کہ بے شک اگر میں (تمام) اہل جنت کو کھلا دوں تو جو میرے پاس یہ (کھلانا) اس میں سے کچھ بھی کم نہیں کرے گا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اسے ذکر فرماتے تو آپ کے چہرے سے خوشی دیکھی جاتی تھی۔