حدیث نمبر: 108
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الأَسْوَدِ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ : " مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ هَلَكَ "، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنَّ اللَّهَ يَقُولُ : فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ { 7 } فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا سورة الانشقاق آية 7-8، قَالَ : " ذَلِكَ الْعَرْضُ " .
ترجمہ:جناب یاسر عرفات
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس سے حساب میں مناقشہ (پوچھ گچھ) کی گئی، وہ ہلاک ہو جائے گا۔“ میں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! بے شک اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿فَأَمَّا مَنْ أُوتِیَ کِتَابَهُ بِیَمِینِهِ فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَسِیرًا﴾ (الانشقاق: 7،8) ”پس لیکن وہ شخص جسے اس کا اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں دیا گیا، سو عنقریب اس سے حساب لیا جائے گا، نہایت آسان حساب۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ محض پیشی ہوگی۔“