کتب حدیثمسند عبدالله بن مباركابوابباب: حدیث نمبر: 23
حدیث نمبر: 23
عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، نا الْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ جُنْدَبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ سُفْيَانَ بْنَ عَوْفٍ الْقَارِي، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، وَنَحْنُ عِنْدَهُ : " طُوبَى لِلْغُرَبَاءِ، طُوبَى لِلْغُرَبَاءِ "، فَقِيلَ : وَمَنِ الْغُرَبَاءُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " نَاسٌ صَالِحُونَ قَلِيلٌ فِي نَاسِ سَوْءٍ كَثِيرٍ، مَنْ يَعْصِيهِمْ أَكْثَرُ مِمَّنْ يُطِيعُهُمْ "، وَكُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا آخَرَ حِينَ طَلَعَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ : " سَيَأْتِي نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ نُورُهُمْ كَضَوْءِ الشَّمْسِ "، قُلْنَا : وَمَنْ أُولَئِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ يُتَّقَى بِهِمُ الْمَكَارِهُ، يَمُوتُ أَحَدُهُمْ وَحَاجَتُهُ فِي صَدْرِهِ يُحْشَرُونَ مِنْ أَقْطَارِ الأَرْضِ " .
ترجمہ:جناب یاسر عرفات
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ارشاد فرمایا اور ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے: ”خوش خبری ہے اجنبیوں کے لیے، خوش خبری ہے اجنبیوں کے لیے!“ کہا گیا کہ وہ اجنبی کون ہیں اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تھوڑے نیک لوگ جو زیادہ برے لوگوں میں ہوں گے، ان میں نافرمان اطاعت شعاروں سے زیادہ ہوں گے۔“ اور وہ ایک دن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے، جب سورج طلوع ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب قیامت والے دن میری امت کے کچھ لوگ آئیں گے، ان کا نور سورج کی روشنی جیسا ہوگا۔“ ہم نے کہا کہ وہ لوگ کون ہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہاجر فقراء، جن کے ذریعے ناپسندیدگیوں سے بچا جاتا ہے، ان میں سے کوئی ایک اس عالم میں فوت ہو جاتا ہے کہ اس کی حاجت اس کے دل میں ہوتی ہے، وہ زمین کے اطراف و اکناف سے اکٹھے کیے جائیں گے۔“
حوالہ حدیث مسند عبدالله بن مبارك / حدیث: 23
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغیرہ
تخریج حدیث «الزهد، ابن مبارك : 267، جامع ترمذي: 76/380۔ شیخ شعیب نے اسے ’’حسن لغیرہ‘‘ قرار دیا ہے۔»