حدیث نمبر: 1266
1266 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: نَدَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ، ثُمَّ نَدَبَهُمْ، فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ، ثُمَّ نَدَبَهُمْ، فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا، وَحَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ» وَقَالَ سُفْيَانُ: زَادَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ: «وَابْنُ عَمَّتِي»
اردو ترجمہ مسند الحمیدی
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ خندق کے موقع پر (دشمن کی جاسوسی کے لئے) لوگوں کو طلب کیا، تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے خود کو پیش کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر لوگوں کو طلب کیا، تو انہوں نے خود کو پیش کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر انہیں طلب کیا، تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے خود کو پیش کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر نبی کا ایک حواری ہوتا ہے اور میرا حواری، زبیر ہے۔“ سفیان کہتے ہیں: ہشام بن عروہ نامی راوی نے یہ الفاظ اضافی نقل کیے ہیں ”میرا پھوپھی زاد (زبیر ہے)۔“