حدیث نمبر: 960
960 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ، أَخْبَرَنِي وَهْبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِبٍ، أَوْ مَارِبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجَّةِ الْوَدَاعِ، يَقُولُ: «يُرْحَمُ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ» وَأَشَارَ بِيَدِهِ هَكَذَا، وَمَدَّ الْحُمَيْدِيُّ يَمِينَهُ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالْمُقَصِّرِينَ، فَقَالَ: «يَرْحَمُ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ» ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالْمُقَصِّرِينَ، فَقَالَ: «يَرْحَمُ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ» ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالْمُقَصِّرِينَ، فَقَالَ: «وَالْمُقَصِّرِينَ» وَأَشَارَ الْحُمَيْدِيُّ بِيَدِهِ، فَلَمْ يَمُدَّ مِثْلَ الْأَوَّلِ، قَالَ سُفْيَانُ: " وَجَدْتُ فِي كِتَابِي عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَارِبٍ، وَحِفْظِي قَارِبٍ، وَالنَّاسُ يَقُولُونَ: قَارِبٌ كَمَا حَفِظْتُ، فَأَنَا أَقُولُ: قَارِبٌ، أَوْ مَارِبٌ "
اردو ترجمہ مسند الحمیدی
وہب بن عبداللہ اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: حجۃ الوداع کے موقع پر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ تعالیٰ سر منڈوانے والوں پر رحم کرے۔“ پھر
امام حمیدی نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اس طرح اشارہ کیا انہوں نے اپنے دائیں ہاتھ کو پھیلایا۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! بال چھوٹے کروانے والوں کے لیے بھی (دعا کر دیجئے)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ سر منڈوانے والوں پر رحم کرے۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! بال چھوٹے کروانے والوں کے لیے بھی (دعا کر دیجئے)، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ سر منڈوانے والوں پر رحم کرے۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! بال چھوٹے کروانے والوں کے لیے بھی (دعا کر دیجئے) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اللہ تعالیٰ) بال چھوٹے کروانے والوں (پر بھی رحم کرے)“ اس مرتبہ حمیدی نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کیا لیکن انہوں نے پہلی مرتبہ کی مانند اسے نہیں پھیلایا۔ سفیان کہتے ہیں: میں نے اپنی تحریر میں راوی کا نام ”مارب“ دیکھا ہے اور میری یادداشت کے مطابق ان کا نام ”قارب“ ہے۔ لوگ بھی انہیں ”قارب“ ہی بیان کرتے ہیں: جس طرح مجھے یاد ہے۔ تاہم میں یہ کہتا ہوں کہ اس کا نام یا ”قارب“ ہے یا ”مارب“ ہے۔
امام حمیدی نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اس طرح اشارہ کیا انہوں نے اپنے دائیں ہاتھ کو پھیلایا۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! بال چھوٹے کروانے والوں کے لیے بھی (دعا کر دیجئے)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ سر منڈوانے والوں پر رحم کرے۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! بال چھوٹے کروانے والوں کے لیے بھی (دعا کر دیجئے)، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ سر منڈوانے والوں پر رحم کرے۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! بال چھوٹے کروانے والوں کے لیے بھی (دعا کر دیجئے) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اللہ تعالیٰ) بال چھوٹے کروانے والوں (پر بھی رحم کرے)“ اس مرتبہ حمیدی نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کیا لیکن انہوں نے پہلی مرتبہ کی مانند اسے نہیں پھیلایا۔ سفیان کہتے ہیں: میں نے اپنی تحریر میں راوی کا نام ”مارب“ دیکھا ہے اور میری یادداشت کے مطابق ان کا نام ”قارب“ ہے۔ لوگ بھی انہیں ”قارب“ ہی بیان کرتے ہیں: جس طرح مجھے یاد ہے۔ تاہم میں یہ کہتا ہوں کہ اس کا نام یا ”قارب“ ہے یا ”مارب“ ہے۔