حدیث نمبر: 476
476 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابِنْ عَبَّاسٍ قَالَ: «صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ مِنْ غَيْرِ سَفَرٍ وَلَا خَوْفٍ ثَمَانِيًا جَمِيعًا وَسَبْعًا جَمِيعًا» قُلْتُ: لِمَ فَعَلَ ذَلِكَ؟ قَالَ قُلْتُ: أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ
اردو ترجمہ مسند الحمیدی
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے مدینہ منورہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں کسی سفر کے علاوہ (یعنی حضر کی حالت میں) اور خوف کے بغیر آٹھ رکعات ایک ساتھ اور سات رکعات ایک ساتھ ادا کی ہیں۔ راوی کہتے ہیں: میں نے اپنے استاد سے دریافت کیا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیوں کیا تھا؟ تو انہوں نے جواب دیا: میرا خیال ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ چاہتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کو حرج میں مبتلا نہ کریں۔