حدیث نمبر: 339
339 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ السَّعِيدِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ خَالِدٍ بِنْتِ خَالِدٍ قَالَتْ: قَدِمْتُ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ وَأنا جُوَيْرِيَةٌ فَكَسَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمِيصَةً لَهَا أَعْلَامٌ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ الْأَعْلَامَ بِيَدِهِ، وَيَقُولُ «سَنَاهُ سَنَاهُ» قَالَ أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي حَسَنٌ حَسَنٌ
اردو ترجمہ مسند الحمیدی
سیدہ ام خالد رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں حبشہ کی سرزمین سے آئی تو میں کم سن بچی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک چادر اوڑھنے کے لیے دی جس پر نقش و نگار بنے ہوئے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دست مبارک کے ذریعے ان نقش و نگار پر ہاتھ پھیرتے ہوئے فرما رہے تھے: یہ کتنے اچھے ہیں۔ یہ کتنے اچھے ہیں۔
امام حمیدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: (روایت کے متن میں استعمال ہونے والے لفظ ”سناہ“ کا مطلب) اچھا ہونا ہے۔
امام حمیدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: (روایت کے متن میں استعمال ہونے والے لفظ ”سناہ“ کا مطلب) اچھا ہونا ہے۔