حدیث نمبر: 267
267 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَي عَنْ عَمَّتِهِ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ خَالَتِهَا عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَبِيٍّ مِنْ صِبْيَانِ الْأَنْصَارِ لِيُصَلِّي عَلَيْهِ فَقُلْتُ: طُوبَي لَهُ عُصْفُورٌ مِنْ عَصَافِيرِ الْجَنَّةِ لَمْ يَعْمَلْ سُوءًا قَطُّ، وَلَمْ يُدْرِكْهُ ذَنْبٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوْ غَيْرُ ذَلِكَ يَا عَائِشَةُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ الْجَنَّةَ وَخَلَقَ لَهَا أَهْلًا وَخَلَقَهُمْ وَهُمْ فِي أَصْلَابِ آبَائِهِمْ، وَخَلَقَ النَّارَ وَخَلَقَ لَهَا أَهْلًا وَخَلَقَهُمْ وَهُمْ فِي أَصْلَابِ آبَائِهِمْ»
اردو ترجمہ مسند الحمیدی
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک انصاری بچے کو لایا گیا، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ ادا کریں، تو میں نے کہا: یہ کتنا خوش نصیب ہے، یہ جنت کی چڑیا ہے، جس نے کبھی کوئی برا عمل نہیں کیا اور اسے گناہ پہنچا ہی نہیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عائشہ! اس سے مختلف بھی تو ہو سکتا ہے، بے شک اللہ تعالیٰ نے جنت کو پیدا کیا ہے اور اس کے اہل پیدا کئے ہیں اس نے ان اہل کو اس وقت پیدا کیا جب وہ اپنے آباؤ اجداد کی پشتوں میں تھے اور اس نے جہنم کو پیدا کیا ہے اور اس کے اہل پیدا کئے ہیں اس نے ان کو اس وقت پیدا کیا ہے، جب وہ اپنے آباؤ اجداد کی پشتوں میں تھے۔“