کتب حدیثمسند الحميديابوابباب: (شعبان کے نفلی روزوں اور تیرہ رکعات کی روایت)
حدیث نمبر: 173
173 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي لَبِيدٍ وَكَانَ مِنْ عُبَّادِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَقُولُ: دَخَلْتُ عَلَي عَائِشَةَ فَقُلْتُ: أَيْ أُمَّهْ أَخْبِرِينِي عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ وَعَنْ صِيَامِهِ فَقَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّي نَقُولَ قَدْ صَامَ، وَيُفْطِرُ حَتَّي نَقُولَ قَدْ أَفْطَرَ، وَمَا رَأَيْتُهُ صَائِمًا فِي شَهْرٍ قَطُّ أَكْثَرَ مِنْ صِيَامِهِ فِي شَعْبَانَ، كَانَ يَصُومُهُ كُلَّهُ، بَلْ كَانَ يَصُومُهُ إِلَّا قَلِيلًا، وَكَانَتْ صَلَاتُهُ بِاللَّيْلِ فِي رَمَضَانَ وَغَيْرِهِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً مِنْهَا رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ»
اردو ترجمہ مسند الحمیدی
ابوسلمہ بن عبدالرحمان بیان کرتے ہیں: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے ان سے کہا: امی جان! آپ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نفل نماز کے بارے میں بتائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نفلی روزوں کے بارے میں بتائیں۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نفلی روزے رکھا کرتے تھے یہاں تک کہ ہم یہ سوچتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل نفلی روزے رکھتے رہیں گے، لیکن پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل نفلی روزے ترک کر دیتے تھے یہاں تک کہ ہم یہ سوچتے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی نفلی روزہ نہیں رکھیں گے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی بھی مہینے میں شعبان کے مہینے سے زیادہ نفلی روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تقریباً پورا مہینہ روزے رکھا کرتے تھے صرف چند دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کے روزے نہیں رکھتے تھے اور رمضان میں اور غیر رمضان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز تیرہ رکعات ہوتی تھی جس میں فجر کی دو رکعات (سنت) بھی شامل ہوتی تھیں۔
حوالہ حدیث مسند الحميدي / حدیث: 173
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه مسلم 738، وابن حبان فى ”صحيحه“ برقم: 353، 1578، 2430، 2571، 2613، 2616،2634، 3516، 3637، 3648،6385، وأحمد فى ”مسنده“ : ، برقم: 24707، وأبو يعلى فى ”مسنده“ برقم: 4533،4633،4650، 4786، 4788، 4860»