کتب حدیثمسند الحميديابوابباب: (سورہ نساء کی تلاوت پر آنسوؤں کی روایت)
حدیث نمبر: 101
101 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ: «اقْرَأْ» فَقَالَ: أَقْرَأُ وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ؟ قَالَ: «إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي» قَالَ: فَقَرَأْتُ سُورَةَ النِّسَاءِ حَتَّي إِذَا بَلَغَ ﴿ فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدِ وَجِئْنَا بِكَ عَلَي هَؤُلَاءِ شَهِيدًا﴾ اسْتَعْبَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَفَّ عَبْدُ اللَّهِ
اردو ترجمہ مسند الحمیدی
قاسم بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تلاوت کرو! تو انہوں نے عرض کی: کیا میں تلاوت کروں؟ جبکہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اسے اپنے علاوہ کسی دوسرے کی زبانی سننا چاہتا ہوں۔“ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے سورہ نساء پڑھنی شروع کی، یہاں تک کہ جب یہ آیت تلاوت کی: ”تو اس وقت کیا عالم ہو گا کہ جب ہم امت میں سے ایک گواہ کو لے کر آئیں گے اور تمہیں ان سب پر گواہ بنا کر لائیں گے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آنسو بہنے لگے، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ رک گئے۔
حوالہ حدیث مسند الحميدي / حدیث: 101
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، فيه عبد الرحمن بن عبدالله المسعودي ، والقاسم بن عبدالرحمن لم يدرك النبى صلى الله عليه وسلم ، فالإسناده منقطع۔ غيران الحديث متفق عليه ، وأخرجه البخاري فى ”صحيحه“ برقم: 4582، 5049، 5050،5055، 5056، ومسلم فى ”صحيحه“ ، برقم: 800، وأبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“: 5019، وابن حبان فى "صحيحه" برقم: 735، 7065 »