حدیث نمبر: 97
97 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ بَنِي أَسَدٍ أَتَتِ ابْنَ مَسْعُودٍ فَقَالَتْ لَهُ: بَلَغَنِي أَنَّكَ لَعَنْتَ ذَيْتَ وَذَيْتَ وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ وَإِنِّي قَدْ قَرَأْتُ مَا بَيْنَ اللَّوْحَيْنِ فَلَمْ أَجِدِ الَّذِي تَقُولُ، وَإِنِّي لَأَظُنُّ عَلَي أَهْلِكَ مِنْهَا فَقَالَ لَهَا عَبْدُ اللَّهِ: فَادْخُلِي وَانْظُرِي، فَدَخَلَتْ وَنَظَرَتْ، فَلَمْ تَرَ شَيْئًا قَالَ: فَقَالَ لَهَا عَبْدُ اللَّهِ: " أَمَا قَرَأْتِ ﴿ مَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا﴾ " قَالَتْ: بَلَي، قَالَ: «فَهُوَ ذَلِكَ»
اردو ترجمہ مسند الحمیدی
علقمہ بیان کرتے ہیں: بنو اسد سے تعلق رکھنے والی ایک عورت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس نے ان سے کہا: مجھے یہ پتہ چلا ہے کہ آپ فلاں، فلاں پر اور جسم گودنے والی اور گودوانے والی عورتوں پر لعنت کرتے ہیں؟ حالانکہ میں نے قرآن پڑھ لیا ہے مجھے اس میں یہ حکم نہیں ملا، جو آپ کہتے ہیں اور میرا خیال ہے آپ کی بیگم بھی ایسا کرتی ہیں، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس خاتون سے کہا: تم جاؤ اور جا کر خود جائزہ لو۔ وہ عورت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر گئی اس نے وہاں کا جائزہ لیا تو اسے وہاں ایسی کوئی چیز نظر نہیں آئی۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس عورت سے کہا: کیا تم نے یہ آیت پڑھی ہے: ”رسول تمہیں جو کچھ دیں اسے حاصل کر لو اور جس سے تمہیں منع کر دیں اس سے باز آ جاؤ۔“ اس عورت نے جواب دیا: جی ہاں، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ وہی ہے۔