حدیث نمبر: 47
47 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا أَبُو السَّوْدَاءِ عَمْرٌو النَّهْدِيُّ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ يَمْسَحُ ظُهُورَ قَدَمَيْهِ، وَيَقُولُ: «لَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ عَلَي ظُهُورِهِمَا لَظَنَنْتُ أَنَّ بُطُونَهُمَا أَحَقُّ» قَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنْ كَانَ عَلَي الْخُفَّيْنِ فَهُوَ سُنَّةٌ، وَإِنْ كَانَ عَلَي غَيْرِ الْخُفَّيْنِ فَهُوَ مَنْسُوخٌ
اردو ترجمہ مسند الحمیدی
ابن عبدخیر اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو پاؤں کے اوپری حصے پر مسح کرتے ہوئے دیکھا وہ یہ فرما رہے تھے: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے اوپری حصے پر مسح کرتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو، میرا یہ خیال ہے کہ ان کے نیچے والا حصہ اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ اس پر مسح کیا جائے۔
امام حمیدی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: اگر یہ واقعہ موزوں پر مسح کے بارے میں ہے، تو یہ سنت ہے اور اگر موزوں کے علاوہ ہے، تو پھر یہ حکم ”منسوخ“ ہے۔
امام حمیدی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: اگر یہ واقعہ موزوں پر مسح کے بارے میں ہے، تو یہ سنت ہے اور اگر موزوں کے علاوہ ہے، تو پھر یہ حکم ”منسوخ“ ہے۔