حدیث نمبر: 24
24 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثني عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ: أَرْسَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَي شَيْخٍ مِنْ بَنِي زُهْرَةَ مِنْ أَهْلِ دَارِنَا قَدْ أَدْرَكَ الْجَاهِلِيَّةَ فَجِئْتُ مَعَ الشَّيْخِ إِلَي عُمَرَ وَهُوَ فِي الْحِجْرِ، فَسَأَلَهُ عُمَرُ عَنْ وِلَادٍ مِنْ وِلَادِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَالَ الشَّيْخُ: أَمَّا النُّطْفَةُ فَمِنْ فُلَانٍ، وَأَمَّا الْوَلَدُ فَعَلَي فِرَاشِ فُلَانٍ، فَقَالَ عُمَرُ صَدَقْتَ «وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَي بَالْفِرَاشِ» فَلَمَّا وَلَّي الشَّيْخُ دَعَاهُ عُمَرُ فَقَالَ " أَخْبِرْنِي عِنْ بِنَاءِ الْكَعْبَةِ فَقَالَ إِنَّ قُرَيْشًا تَقَرَّبَتْ لِبِنَاءِ الْكَعْبَةِ فَعَجَزُوا وَاسْتَقْصَرُوا فَتَرَكُوا بَعْضًا فِي الْحِجْرِ فَقَالَ عُمَرُ: صَدَقْتَ "
اردو ترجمہ مسند الحمیدی
عبید اللہ بن ابویزید بیان کرتے ہیں: میرے والد نے مجھے یہ بات بتائی ہے ایک مرتبہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بنوزہرہ سے تعلق رکھنے والے ایک بزرگ کو پیغام بھیج کر اسے بلوایا وہ ہمارے محلے میں رہتا تھا اس نے زمانہ جاہلیت پایا ہوا تھا۔ میں اس بزرگ کے ساتھ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اس وقت حطیم میں موجود تھے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس سے زمانہ جاہلیت میں پیدا ہونے والی (ناجائز اولاد کے بارے میں) دریافت کیا، تو وہ بزرگ بولا: جہاں تک نطفے کا تعلق ہے، تو وہ فلاں شخص کا تھا جہاں تک پیدائش کا تعلق ہے، تو وہ فلاں شخص کے فراش پر ہوئی تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بولے: تم نے ٹھیک کہا ہے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فراش کے حق میں فیصلہ دیا ہے۔ جب وہ عمر رسیدہ شخص واپس مڑ گیا، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اسے بلایا اور دریافت کیا: تم مجھے خانہ کعبہ کی تعمیر کے بارے میں بتاؤ؟ اس نے بتایا: قریش خانہ کعبہ کی تعمیر کر کے نیکی حاصل کرنا چاہتے تھے، لیکن وہ اس کو بنانے سے عاجز ہو گئے، ان کے پاس (ساز و سامان) کم ہو گیا تو انہوں نے حطیم والی جگہ کا کچھ حصہ چھوڑ دیا۔ تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نے سچ کہا ہے۔