کتب حدیثمسند الحميديابوابباب: (مہر زیادہ نہ کرنے اور شہادت کا بیان )
حدیث نمبر: 23
23 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا أَيُّوبُ السِّخْتِيَانِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي الْعَجْفَاءِ السُّلَمِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ: " أَلَا لَا تُغْلُوا صُدُقَ النِّسَاءِ فَإِنَّهَا لَوْ كَانَتْ مَكْرُمَةً فِي الدُّنْيَا، أَوْ تَقْوًي عِنْدَ اللَّهِ كَانَ أَوْلَاكُمْ أَوْ أَحَقُّكُمْ بِهَا النَّبِيَّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا عَلِمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِ، وَلَا أَنْكَحَ ابْنَةً مِنْ بَنَاتِهِ عَلَي أَكْثَرَ مِنْ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً، وَإِنَّ أَحَدَكُمُ الْيَوْمَ لَيُغْلِي بِصَدَقَةِ الْمَرْأَةِ حَتَّي تَكُونَ لَهَا عَدَاوَةً فِي نَفْسِهِ يَقُولُ: كَلِفْتُ إِلَيْكِ عَلَقَ الْقِرْبَةِ قَالَ: وَكُنْتُ غُلَامًا شَابَّا فَلَمْ أَدْرِ مَا عَلَقُ الْقِرْبَةِ " ¤قَالَ: وَأُخْرَي تَقُولُونَهَا لِبَعْضِ مَنْ يُقْتَلُ فِي مَغَازِيكُمْ هَذِهِ قُتِلَ فُلَانٌ شَهِيدًا، أَوْ مَاتَ فُلَانٌ شَهِيدًا، وَلَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ قَدْ أَوْقَرَ دُفَّ رَاحِلَتِهِ أَوْ عَجُزَهَا ذَهَبًا، وَقَامَ يَلْتَمِسُ التِّجَارَةَ فَلَا تَقُولُوا ذَاكُمْ، وَلَكِنْ قُولُوا كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ كَمَا قَالَ مُحَمَّدٌ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ فِي الْجَنَّةِ» قَالَ سُفْيَانُ: كَانَ أَيُّوبُ أَبَدًا يَشُكُّ فِيهِ هَكَذَا أَوْ قَالَ سُفْيَانُ: فَإِنْ كَانَ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَ بِهِ هَكَذَا وَإِلَّا فَلَمْ يَحْفَظْ
اردو ترجمہ مسند الحمیدی
ابوعجفاء سلمی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: خبردار! تم لوگ عورتوں کے مہر زیادہ مقرر نہ کرو، کیونکہ اگر یہ چیز دنیا میں عزت افزائی کا، یا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تقویٰ کا ذریعہ ہوتی، تو تم میں سے زیادہ لائق تم میں سے زیادہ حقدار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ میرے علم کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج میں سے جس خاتون کے ساتھ بھی شادی کی، یا اپنی صاحبزادیوں میں سے جس صاحبزادی کی بھی شادی کی، ان میں سے کسی کا مہر ”بارہ اوقیہ“ سے زیادہ نہیں تھا، لیکن آج تم میں سے کوئی ایک شخص اپنی بیوی کا مہر زیادہ ادا کرتا ہے، یہاں تک کہ اس کے دل میں اس عورت کے لیے عداوت پیدا ہو جاتی ہے اور وہ یہ کہتا ہے: تمہاری وجہ سے مجھے پریشانی اٹھانا پڑی ہے۔ راوی کہتے ہیں: میں ایک نوجوان شخص تھا مجھے یہ سمجھ نہیں آئی کہ ”علق القربہ“ سے کیا مراد ہے۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے یہ بھی ارشاد فرمایا: دوسری بات یہ ہے کہ تم لوگ کسی جنگ میں قتل ہوجانے والے شخص کے بارے میں یہ کہتے ہو فلاں شخص شہادت کی موت مارا گیا ہے یا فلاں شخص شہادت کی موت مرا ہے، حالانکہ ہو سکتا ہے اس نے اپنی سواری کے جانور پر بوجھ لادا ہوا ہو، یا وہ سونے اور چاندی کو لے کر تجارت کرنے جا رہا ہو، تم لوگ یہ بات نہ کہو، بلکہ تم یوں کہو، جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص اللہ کی راہ میں قتل ہوگا وہ جنت میں جائے گا۔“ سفیان کہتے ہیں: ایوب نامی راوی ہمیشہ اس روایت کے الفاظ میں اسی طرح شک کا اظہار کرتے تھے۔ سفیان نامی راوی کہتے ہیں: اگر حماد بن زید نے بھی اس روایت کو انہی الفاظ میں نقل کیا ہے، پھر تو ٹھیک ہے ورنہ یہ روایت محفوظ نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند الحميدي / حدیث: 23
درجۂ حدیث محدثین: إسناد صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، وقد استوفينا تخريجه في موارد الظمآن 184/4-185 برقم 1259، وصحيح ابن حبان برقم 4620 »