حدیث نمبر: 967
967 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ كَمَا أَقُولُ لَكَ لَا نَحْتَاجُ فِيهِ إِلَي أَحَدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: دَخَلَ أَعْرَابِيٌّ الْمَسْجِدَ، وَالنَّبِيُّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ، قَالَ: فَقَامَ فَصَلَّي، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ، قَالَ: اللَّهُمُّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا، وَلَا تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَدًا، فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «لَقَدْ تَحَجَّرْتَ وَاسِعًا» ، فَمَا لَبِثَ أَنْ بَالَ فِي الْمَسْجِدِ، فَأَسْرَعَ النَّاسُ إِلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَهْرِيقُوا عَلَيْهِ سَجْلًا مِنْ مَاءٍ، أَوْ دَلْوًا مِنْ مَاءٍ» ، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِينَ، وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَسِّرِينَ»
اردو ترجمہ مسند الحمیدی

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دیہاتی مسجد میں داخل ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے۔ اس نے کھڑے ہو کر نماز ادا کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد اس نے دعا مانگی: ”اے اللہ! مجھ پر اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رحم کر اور ہمارے ساتھ اور کسی پر رحم نہ کرنا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا: ”تم نے ایک کشادہ چیز کو تنگ کر دیا ہے۔“ اس کے بعد وہ مسجد میں ہی پیشاب کرنے لگا، تو لوگ تیزی سے اس کی طرف لپکنے لگے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس پر پانی کا ایک ڈول بہا دو۔“ (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہیں آسانی فراہم کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے تمہیں تنگی کرنے کے لیے نہیں بھیجا گیا۔“

حوالہ حدیث مسند الحميدي / حدیث: 967
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 220، 6010، 6128، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 297، 298، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 985، 987، 1399، 1400، 1402، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 56 ، 329 ، وأبو داود فى «سننه» برقم: 380، 882، والترمذي فى «جامعه» برقم: 147، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 529، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 4306، 4307، 4308، 4309، وأحمد فى «مسنده» 7375، 7914»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 380

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ محمد ابراہیم بن بشیر
967- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دیہاتی مسجد میں داخل ہوا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے۔ اس نے کھڑے ہوکر نماز ادا کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد اس نے دعا مانگی۔ اے اللہ! مجھ پر اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رحم کر اور ہمارے ساتھ اور کسی پر رحم نہ کرنا۔‏‏‏‏ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا: تم نے ایک کشادہ چیز کو تنگ کردیا ہے۔‏‏‏‏ اس کے بعد وہ مسجد میں ہی پیشاب کرنے لگا، تو لوگ تیزی سے اس کی طرف لپکنے لگے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس پر پانی کا ایک ڈول بہادو۔‏‏‏‏ (یہاں ایک لفظ کے بارے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:967]
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ سے زیادہ سے زیادہ اور وسیع چیز مانگنی چاہیے، کیونکہ خود اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ﴾ (البقره: 186) ہر پکارنے والے کی پکار کو جب بھی وہ مجھے پکارے، میں قبول کرتا ہوں ۔
اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ ناپاک جگہ پر پانی بہا کر اس کو پاک کیا جا سکتا ہے۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدو لوگوں میں اخلاق کے ساتھ اسلام نافذ کیا، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اسلام آسان دین ہے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 966 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 380 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´زمین پر پیشاب پڑ جائے تو کیا کرنا چاہئے؟`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی مسجد میں آیا، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے، اس نے نماز پڑھی (ابن عبدہ نے اپنی روایت میں کہا: اس نے دو رکعت نماز پڑھی)، پھر کہا: اے اللہ! مجھ پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رحم کر اور ہمارے ساتھ کسی اور پر رحم نہ کرنا، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اللہ کی وسیع رحمت کو تنگ اور محدود کر دیا، پھر زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ مسجد کے ایک کونے میں وہ پیشاب کرنے لگا تو لوگ اس کی طرف دوڑے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اعرابی کو ڈانٹنے سے منع کیا اور فرمایا: تم لوگ لوگوں پر آسانی کرنے کے لیے بھیجے گئے ہو، سختی کرنے کے لیے نہیں، اس پر ایک ڈول پانی ڈال دو۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة /حدیث: 380]
380۔ اردو حاشیہ:
➊ زمین اور دیگر جمادات (پتھر، شیشہ او ر لکڑی وغیرہ) پر نجاست لگ جائے تو اس کا عین دور کر دینا اور پیشاب کی صورت میں پانی بہا دینا کافی ہوتا ہے، مٹی کھرچنے کی چنداں ضرورت نہیں۔
➋ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں تحیۃ المسجد پڑھنے کا معمول تھا۔
➌ دعا ہمیشہ جامع اور وسعت کی حامل ہونی چاہیے۔
➍ جاہل لوگوں کے ساتھ معاملہ بالعموم اور بالخصوص دین کی تعلیم میں ہمدردی کا ہونا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 380 سے ماخوذ ہے۔