حدیث کتب › مسند الحميدي ›
حدیث نمبر: 965
965 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْفِطْرَةُ خَمْسٌ، أَوْ خَمْسٌ مِنَ الْفِطْرَةِ: الْخِتَانُ، وَالِاسْتِحْدَادُ، وَتَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ، وَنَتْفُ الْإِبِطِ، وَقَصُّ الشَّارِبِ "اردو ترجمہ مسند الحمیدی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”فطرت پانچ چیزیں ہیں۔“ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ”پانچ چیزیں فطرت کا حصہ ہیں، ختنہ کرنا، زیر ناف بال صاف کرنا، ناخن تراشنا، بغلوں کے بال صاف کرنا اور مونچھیں چھوٹی کرنا۔“
حوالہ حدیث مسند الحميدي / حدیث: 965
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 5891 | صحيح البخاري: 6297 | صحيح مسلم: 257 | سنن ترمذي: 2756 | سنن ابي داود: 4198 | سنن نسائي: 9 | سنن نسائي: 10 | سنن نسائي: 11 | سنن نسائي: 5044 | سنن نسائي: 5046 | سنن نسائي: 5227 | سنن ابن ماجه: 292
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ محمد ابراہیم بن بشیر
965- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کایہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”فطرت پانچ چیز یں ہیں۔“ (راوی کو شک ہے شائد یہ الفاظ ہیں) ”پانچ چیز یں فطرت کا حصہ ہیں، ختنہ کرنا، زیر ناف بال صاف کرنا، ناخن تراشنا، بغلوں کے بال صا ف کرنا اور مونچھیں چھوٹی کرنا۔“ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:965]
فائدہ:
اس حدیث میں بعض فطرت کے امور کا بیان ہے، فطرت سے مراد یہ ہے کہ وہ طریقہ جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے جاری کیا۔ استعداد سے مراداسترے سے شرمگاہ کے بال صاف کرنا ہے۔
اس حدیث میں بعض فطرت کے امور کا بیان ہے، فطرت سے مراد یہ ہے کہ وہ طریقہ جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے جاری کیا۔ استعداد سے مراداسترے سے شرمگاہ کے بال صاف کرنا ہے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 964 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6297 کی شرح از محمد حسین میمن ✍️
´بوڑھا ہونے پر ختنہ کرنا اور بغل کے بال نوچنا`
«. . . عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْفِطْرَةُ خَمْسٌ: الْخِتَانُ، وَالِاسْتِحْدَادُ، وَنَتْفُ الْإِبْطِ، وَقَصُّ الشَّارِبِ، وَتَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ . . .»
”. . . ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پانچ چیزیں فطرت سے ہیں، ختنہ کرنا، زیر ناف کے بال بنانا، بغل کے بال صاف کرنا، مونچھ چھوٹی کرانا اور ناخن کاٹنا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ: 6297]
«. . . عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْفِطْرَةُ خَمْسٌ: الْخِتَانُ، وَالِاسْتِحْدَادُ، وَنَتْفُ الْإِبْطِ، وَقَصُّ الشَّارِبِ، وَتَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ . . .»
”. . . ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پانچ چیزیں فطرت سے ہیں، ختنہ کرنا، زیر ناف کے بال بنانا، بغل کے بال صاف کرنا، مونچھ چھوٹی کرانا اور ناخن کاٹنا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ: 6297]
صحیح بخاری کی حدیث نمبر: 6297 کا باب: «بَابُ الْخِتَانِ بَعْدَ الْكِبَرِ وَنَتْفِ الإِبْطِ:»
باب اور حدیث میں مناسبت: امام بخاری رحمہ اللہ نے تحت الباب چار احادیث پیش فرمائی ہیں، دو احادیث سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہیں اور دو احادیث سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ہیں، ان چاروں احادیث کا باب سے مطابقت ہونا واضح ہے، کیوں کہ ان چاروں احادیث میں بغل کے بال اور ختنہ کا ذکر موجود ہے جو کہ ترجمۃ الباب سے مناسبت ہے، مگر ترجمۃ الباب پر ایک شدید قسم کا اشکال وارد ہوتا ہے کہ ختنہ کرنا اور بغل کے بال صاف کرنا ان کا تعلق کتاب الادب سے زیادہ قریب ہے لیکن کتاب الاستئذان سے اس باب کا کوئی تعلق نہیں ہے، تو پھر امام بخاری رحمہ اللہ نے اس باب کو کتاب الاستئذان میں کیوں درج فرمایا؟
اس کا جواب یہ ہے کہ یہ حقیر اور ناچیز کہتا ہے کہ «كتاب الاستئذان» یہ مستقل کوئی کتاب نہیں ہے بلکہ یہ «كتاب الأدب» ہی کا جزء ہے، کیوں کہ آداب میں استئذان بھی شامل ہے، اس بات کو اگر سمجھنا ہے تو کتاب الادب کی آخری حدیث اور کتاب الاستئذان کے پہلی حدیث کو دیکھیں، ان دونوں کا تعلق دعا کے ساتھ ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جو تسلسل کتاب الادب میں تھا اسی تسلسل کو امام بخاری رحمہ اللہ نے کتاب الاستئذان میں جاری رکھا، جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے جو کتاب کتاب الاستئذان قائم فرمایا دراصل یہ کتاب الادب ہی کا جزء ہے، مستقل کوئی کتاب نہیں، اسی وجہ سے وہ باب جس پر ہماری گفتگو جاری ہے کہ «باب الختان بعد الكبر و نتف الإبط» کا تعلق «كتاب الاستئذان» سے ہے تو یہ باب بھی کتاب الادب ہی کا حصہ ہے جسے امام بخاری رحمہ اللہ نے «الاستئذان» میں شامل فرمایا، مزید ترجمۃ الباب کا کتاب سے کیا ربط ہے تو اس ربط کی نشاندہی کرتے ہوئے علامہ کرمانی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں: «وجه مناسبة هذه الترجمة ”بكتاب الاستئذان“ أن الختان يستدعي الاجتماع فى المنازل غالبًا.» (1)
”یعنی باب کی کتاب سے مناسبت یہ ہے کہ ختنے کی تقریب میں لوگ جمع ہوتے ہیں تو استئذان کی ضرورت پڑتی ہے، اسی لیے اس باب کو کتاب الاستئذان میں لائے۔“
یعنی «كتاب الاستئذان، كتاب الأدب» ہی کا جزء ہے، یہی اس باب کی مناسبت ہے، کیوں کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے «كتاب الأدب» میں جو تراجم الالباب قائم فرمائے، ان میں آداب، البر، الصلۃ، اپنے نفسوں کے حقوق، صحبت کے معاملات اور آداب کہ کسی کے ہاں جائیں تو کس طرح کے آداب ہونے چاہئیں اور کس طرح کے معاملات کرنے ضروری ہیں، اس کے فورا بعد «كتاب الاستئذان» کی ابتداء فرمائی اور پہلا باب «باب السلام» قائم فرمایا کہ کسی کے ہاں جانے کے لیے ان سے سلام کے ذریعے گھر میں داخل ہونے کی اجازت طلب کی جائے، چنانچہ اس نقطے کی وضاحت کرتے ہوئے امام ابی حفص البلقینی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: «فلما تحت تراجم الآداب وما فيها من البر و الصلة، و كان ذالك مما يتعلق بالآداب فى انفسنا، و فى الصحبة، و الخلطة، وما يتعلق بذالك، أورده بما يتعلق بآداب من جاء إلى قوم أو دار غيره، كيف يصنع؟ فقال كتاب الاستئذان: ثم باب بدء السلام، ثم باب قول الله تعالى: ﴿لَا تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ بُيُوتِكُمْ﴾.» (1)
باب اور حدیث میں مناسبت: امام بخاری رحمہ اللہ نے تحت الباب چار احادیث پیش فرمائی ہیں، دو احادیث سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہیں اور دو احادیث سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ہیں، ان چاروں احادیث کا باب سے مطابقت ہونا واضح ہے، کیوں کہ ان چاروں احادیث میں بغل کے بال اور ختنہ کا ذکر موجود ہے جو کہ ترجمۃ الباب سے مناسبت ہے، مگر ترجمۃ الباب پر ایک شدید قسم کا اشکال وارد ہوتا ہے کہ ختنہ کرنا اور بغل کے بال صاف کرنا ان کا تعلق کتاب الادب سے زیادہ قریب ہے لیکن کتاب الاستئذان سے اس باب کا کوئی تعلق نہیں ہے، تو پھر امام بخاری رحمہ اللہ نے اس باب کو کتاب الاستئذان میں کیوں درج فرمایا؟
اس کا جواب یہ ہے کہ یہ حقیر اور ناچیز کہتا ہے کہ «كتاب الاستئذان» یہ مستقل کوئی کتاب نہیں ہے بلکہ یہ «كتاب الأدب» ہی کا جزء ہے، کیوں کہ آداب میں استئذان بھی شامل ہے، اس بات کو اگر سمجھنا ہے تو کتاب الادب کی آخری حدیث اور کتاب الاستئذان کے پہلی حدیث کو دیکھیں، ان دونوں کا تعلق دعا کے ساتھ ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جو تسلسل کتاب الادب میں تھا اسی تسلسل کو امام بخاری رحمہ اللہ نے کتاب الاستئذان میں جاری رکھا، جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے جو کتاب کتاب الاستئذان قائم فرمایا دراصل یہ کتاب الادب ہی کا جزء ہے، مستقل کوئی کتاب نہیں، اسی وجہ سے وہ باب جس پر ہماری گفتگو جاری ہے کہ «باب الختان بعد الكبر و نتف الإبط» کا تعلق «كتاب الاستئذان» سے ہے تو یہ باب بھی کتاب الادب ہی کا حصہ ہے جسے امام بخاری رحمہ اللہ نے «الاستئذان» میں شامل فرمایا، مزید ترجمۃ الباب کا کتاب سے کیا ربط ہے تو اس ربط کی نشاندہی کرتے ہوئے علامہ کرمانی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں: «وجه مناسبة هذه الترجمة ”بكتاب الاستئذان“ أن الختان يستدعي الاجتماع فى المنازل غالبًا.» (1)
”یعنی باب کی کتاب سے مناسبت یہ ہے کہ ختنے کی تقریب میں لوگ جمع ہوتے ہیں تو استئذان کی ضرورت پڑتی ہے، اسی لیے اس باب کو کتاب الاستئذان میں لائے۔“
یعنی «كتاب الاستئذان، كتاب الأدب» ہی کا جزء ہے، یہی اس باب کی مناسبت ہے، کیوں کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے «كتاب الأدب» میں جو تراجم الالباب قائم فرمائے، ان میں آداب، البر، الصلۃ، اپنے نفسوں کے حقوق، صحبت کے معاملات اور آداب کہ کسی کے ہاں جائیں تو کس طرح کے آداب ہونے چاہئیں اور کس طرح کے معاملات کرنے ضروری ہیں، اس کے فورا بعد «كتاب الاستئذان» کی ابتداء فرمائی اور پہلا باب «باب السلام» قائم فرمایا کہ کسی کے ہاں جانے کے لیے ان سے سلام کے ذریعے گھر میں داخل ہونے کی اجازت طلب کی جائے، چنانچہ اس نقطے کی وضاحت کرتے ہوئے امام ابی حفص البلقینی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: «فلما تحت تراجم الآداب وما فيها من البر و الصلة، و كان ذالك مما يتعلق بالآداب فى انفسنا، و فى الصحبة، و الخلطة، وما يتعلق بذالك، أورده بما يتعلق بآداب من جاء إلى قوم أو دار غيره، كيف يصنع؟ فقال كتاب الاستئذان: ثم باب بدء السلام، ثم باب قول الله تعالى: ﴿لَا تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ بُيُوتِكُمْ﴾.» (1)
درج بالا اقتباس عون الباری فی مناسبات تراجم البخاری ، جلد دوئم، حدیث/صفحہ نمبر: 204 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6297 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
6297. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”پانچ چیزیں فطرتی ہیں: ختنہ کرنا، زیر ناف بال مونڈنا، بغلوں کے بال اکھیڑنا، مونچھیں چھوٹی کرنا اور ناخن کاٹنا۔“[صحيح بخاري، حديث نمبر:6297]
حدیث حاشیہ: بعض روایتوں میں داڑھی بڑھانے کا بھی ذکر ہے یہ جملہ امور سنن ابراہیمی ہیں جن کی پابندی ان کی آل کے لئے ضروری ہے۔
اللہ پاک ہر مسلمان کو ان پر عمل کی توفیق بخشے کہ وہ صحیح ترین فرزند ان ملت ابراہیمی ثابت ہوں۔
اس حدیث سے باب کا مطلب یوں نکلا کہ آپ نے ختنہ کو پیدائشی سنت فرمایا اور عمر کی کوئی قید نہیں لگائی تو معلوم ہوا کہ بڑی عمر میں بھی ختنہ ہے۔
اللہ پاک ہر مسلمان کو ان پر عمل کی توفیق بخشے کہ وہ صحیح ترین فرزند ان ملت ابراہیمی ثابت ہوں۔
اس حدیث سے باب کا مطلب یوں نکلا کہ آپ نے ختنہ کو پیدائشی سنت فرمایا اور عمر کی کوئی قید نہیں لگائی تو معلوم ہوا کہ بڑی عمر میں بھی ختنہ ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6297 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5891 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
5891. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”پانچ چیزیں۔ ختنہ کرانا، زیر ناف کی صفائی کرنا، مونچھیں پست کرنا، ناخن کاٹنا، اور بغلوں کے بال اکھیڑنا پیدائشی سنتیں ہیں۔“[صحيح بخاري، حديث نمبر:5891]
حدیث حاشیہ: ان کے خلاف کرنا فطرت سے بغاوت کرنا ہے جس کی سزا دنیا اور آخرت ہر دو جگہ ملتی ہے مگر جس نے فطرت کو اپنایا وہ بھلائی ہی بھلائی میں رہے گا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5891 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5891 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
5891. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”پانچ چیزیں۔ ختنہ کرانا، زیر ناف کی صفائی کرنا، مونچھیں پست کرنا، ناخن کاٹنا، اور بغلوں کے بال اکھیڑنا پیدائشی سنتیں ہیں۔“[صحيح بخاري، حديث نمبر:5891]
حدیث حاشیہ:
(1)
ناخن کاٹتے وقت دائیں ہاتھ سے آغاز کیا جائے کیونکہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دائیں جانب کو پسند کرتے تھے۔
شہادت کی انگلی سے ناخن کاٹنے کی ابتداء کی جائے کیونکہ یہ انگلی تمام دیگر انگلیوں سے بہتر ہے کیونکہ تشہد میں اس سے اشارہ کیا جاتا ہے۔
اس کے لیے کسی خاص دن کی تعیین ثابت نہیں ہے، البتہ جمعہ کے دن صفائی میں مبالغہ مطلوب ہوتا ہے، اس لیے جمعہ کا دن ناخن کاٹنے کے لیے مناسب ہے لیکن اپنی ضروریات کا خیال ضرور رکھا جائے۔
(2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے کہ ناخن کاٹ کر انہیں دفن کر دیا جائے، وہ اس میں ابن عمر رضی اللہ عنہ کا حوالہ دیتے تھے کہ وہ ناخن کاٹ کر انہیں دفن کر دیتے تھے۔
اس کی یہ حکمت بیان کی گئی ہے کہ اجزائے بنی آدم کو دفن کرنے کا حکم ہے، پھر یہ بھی ہے کہ جادوگر سفلی عمل کے لیے بالوں اور ناخنوں کو استعمال نہ کر سکیں۔
واللہ أعلم (فتح الباري: 425/10)
(1)
ناخن کاٹتے وقت دائیں ہاتھ سے آغاز کیا جائے کیونکہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دائیں جانب کو پسند کرتے تھے۔
شہادت کی انگلی سے ناخن کاٹنے کی ابتداء کی جائے کیونکہ یہ انگلی تمام دیگر انگلیوں سے بہتر ہے کیونکہ تشہد میں اس سے اشارہ کیا جاتا ہے۔
اس کے لیے کسی خاص دن کی تعیین ثابت نہیں ہے، البتہ جمعہ کے دن صفائی میں مبالغہ مطلوب ہوتا ہے، اس لیے جمعہ کا دن ناخن کاٹنے کے لیے مناسب ہے لیکن اپنی ضروریات کا خیال ضرور رکھا جائے۔
(2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے کہ ناخن کاٹ کر انہیں دفن کر دیا جائے، وہ اس میں ابن عمر رضی اللہ عنہ کا حوالہ دیتے تھے کہ وہ ناخن کاٹ کر انہیں دفن کر دیتے تھے۔
اس کی یہ حکمت بیان کی گئی ہے کہ اجزائے بنی آدم کو دفن کرنے کا حکم ہے، پھر یہ بھی ہے کہ جادوگر سفلی عمل کے لیے بالوں اور ناخنوں کو استعمال نہ کر سکیں۔
واللہ أعلم (فتح الباري: 425/10)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5891 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 257 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابو ہریرہ ؓسے مرفوع روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: ’’پانچ چیزیں فطرت ہیں، یا فطرت کا حصہ ہیں: ختنے کرانا، زیرِ ناف بال مونڈنا، ناخن کاٹنا، بغل کے بال اکھیڑنا اور مونچھ کترنا۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:597]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
: (1)
الْخِتَانُ: خِتانٌ مرد کے لیے ہے، کہ اس پوری کھال کو کاٹ دیا جائے، جس نے حشفہ کو چھپایا ہے، تاکہ حشفہ پوری طرح ظاہر ہو جائے۔
اور عورت کے لیے یہ ہے، کہ فرج کے اوپر والی کھال کے تھوڑے سے حصہ کو کاٹ دیا جائے۔
(2)
الِاسْتِحْدَادُ: زیر ناف بال مونڈنا، کیونکہ یہ "حَدِيْدٌ" سے ماخوذ ہے اور "حَدِيْدٌ" استرے کو کہتے ہیں۔
(3)
تَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ: تقليم، قلم سے ماخوذ ہے اور قلم کا معنی کاٹنا ہے۔
اور "ظُفر" ناخن کو کہتے ہیں، "أظفار" جمع ہے۔
(4)
نَتْفُ الْإِبِطِ: نتف اکھیڑنے یا نوچنے کو کہتے ہیں، اور "إبط" بغل کو کہتے ہیں۔
(5)
قَصُّ الشَّارِبِ: قَصٌّ، کاٹنا، شَارِبٌ: مونچھ، (فطرت کی بحث آخری حدیث میں آئے گی، جہاں تمام چیزیں بیان ہوئی ہیں)
۔
: (1)
الْخِتَانُ: خِتانٌ مرد کے لیے ہے، کہ اس پوری کھال کو کاٹ دیا جائے، جس نے حشفہ کو چھپایا ہے، تاکہ حشفہ پوری طرح ظاہر ہو جائے۔
اور عورت کے لیے یہ ہے، کہ فرج کے اوپر والی کھال کے تھوڑے سے حصہ کو کاٹ دیا جائے۔
(2)
الِاسْتِحْدَادُ: زیر ناف بال مونڈنا، کیونکہ یہ "حَدِيْدٌ" سے ماخوذ ہے اور "حَدِيْدٌ" استرے کو کہتے ہیں۔
(3)
تَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ: تقليم، قلم سے ماخوذ ہے اور قلم کا معنی کاٹنا ہے۔
اور "ظُفر" ناخن کو کہتے ہیں، "أظفار" جمع ہے۔
(4)
نَتْفُ الْإِبِطِ: نتف اکھیڑنے یا نوچنے کو کہتے ہیں، اور "إبط" بغل کو کہتے ہیں۔
(5)
قَصُّ الشَّارِبِ: قَصٌّ، کاٹنا، شَارِبٌ: مونچھ، (فطرت کی بحث آخری حدیث میں آئے گی، جہاں تمام چیزیں بیان ہوئی ہیں)
۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 257 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2756 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´ناخن کاٹنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” پانچ چیزیں فطرت سے ہیں ۱؎، (۱) شرمگاہ کے بال مونڈنا، (۲) ختنہ کرنا، (۳) مونچھیں کترنا، (۴) بغل کے بال اکھیڑنا، (۵) ناخن تراشنا۔“ [سنن ترمذي/كتاب الأدب/حدیث: 2756]
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” پانچ چیزیں فطرت سے ہیں ۱؎، (۱) شرمگاہ کے بال مونڈنا، (۲) ختنہ کرنا، (۳) مونچھیں کترنا، (۴) بغل کے بال اکھیڑنا، (۵) ناخن تراشنا۔“ [سنن ترمذي/كتاب الأدب/حدیث: 2756]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی انبیاء کی وہ سنتیں ہیں جن کی اقتداء کرنے کا ہمیں حکم دیا گیا ہے۔
یہ ساری شریعتوں میں تھیں، کیونکہ یہ فطرتِ انسانی کے اندر داخل ہیں۔
وضاحت:
1؎:
یعنی انبیاء کی وہ سنتیں ہیں جن کی اقتداء کرنے کا ہمیں حکم دیا گیا ہے۔
یہ ساری شریعتوں میں تھیں، کیونکہ یہ فطرتِ انسانی کے اندر داخل ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2756 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4198 کی شرح از الشیخ غلام مصطفےٰ ظہیر امن پوری ✍️
´میت کے زیر ناف اور بغلوں کے بال اور ناخن`
«. . . عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْفِطْرَةُ خَمْسٌ أَوْ خَمْسٌ مِنَ الْفِطْرَةِ: الْخِتَانُ وَالِاسْتِحْدَادُ وَنَتْفُ الْإِبِطِ وَتَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ وَقَصُّ الشَّارِبِ . . .»
”. . . ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: ”پانچ چیزیں فطرت ہیں یا فطرت میں سے ہیں: ختنہ کرنا، زیر ناف کے بال مونڈنا، بغل کا بال اکھیڑنا، ناخن تراشنا اور مونچھ کاٹنا . . .“ [سنن ابي داود/كِتَاب التَّرَجُّلِ: 4198]
«. . . عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْفِطْرَةُ خَمْسٌ أَوْ خَمْسٌ مِنَ الْفِطْرَةِ: الْخِتَانُ وَالِاسْتِحْدَادُ وَنَتْفُ الْإِبِطِ وَتَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ وَقَصُّ الشَّارِبِ . . .»
”. . . ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: ”پانچ چیزیں فطرت ہیں یا فطرت میں سے ہیں: ختنہ کرنا، زیر ناف کے بال مونڈنا، بغل کا بال اکھیڑنا، ناخن تراشنا اور مونچھ کاٹنا . . .“ [سنن ابي داود/كِتَاب التَّرَجُّلِ: 4198]
فوائد و مسائل:
اگر کوئی شخص کسی شرعی عذر کی بنا پر یا سستی و کاہلی کی وجہ سے زیرناف بال نہ مونڈھ سکا اور اسے موت آ گئی تو زندہ لوگ اس کے زیرناف بال نہیں مونڈھیں گے، کیونکہ اس عمل کی کوئی شرعی دلیل نہیں، نیز یہ عمل زندہ لوگوں کے لیے باعث ضرر ہے جبکہ میت کو اس کا کوئی فائدہ نہیں، جیسا کہ: ◈ امام ابن منذر رحمہ اللہ (242-391 ھ) لکھتے ہیں: «الوقوف عن أخذ ذلك أحب إلي، لأنه المأمور بأخذ ذلك من نفسه الحي، فإذا مات انقطع الامر.»
”میت کے زیرناف بالوں کو مونڈھنے سے باز رہنا ہی میرے نزدیک بہتر ہے کہ کیونکہ مرنے والے کو اپنی زندگی میں اس کام کا حکم دیا گیا تھا۔ جب اسے موت آ گئی تو یہ معاملہ ختم ہو گیا۔“ [الأوسط فى السنن والإجماع والاختلاف: 329/5]
◈ امام محمد بن سیرین تابعی رحمہ اللہ کے بارے میں روایت ہے کہ: «انهٔ كان يکرهٔ أن يوخذ من عانة أؤ ظفر الميت.»
’’ وہ میت کے زیر ناف بالوں کو مونڈھنا اور اس کے ناخنوں کو کاٹنا مکروہ جانتے تھے۔“ [مصنف ابن أبى شيبة: 246، 245/3، وسنده صحيح]
↰ اس کے خلاف اسلاف امت سے کچھ ثابت نہیں۔
ایک روایت میں ہے کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے میت کو غسل دیا اور استرا منگوایا۔ [مصنف ابن أبى شيبة: 246/3] ↰ لیکن اس کی سند ’’مرسل“ ہونے کی بنا پر ’’ ضعیف“ اور ناقابل حجت ہے۔
زیرناف بالوں کی طرح میت کے ناخن بھی اتارنا درست نہیں۔
◈ امام حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: «تقلم اظفار الميت» ’’ میت کے ناخن اتار دیے جائیں گے۔“
↰ امام شعبہ بن حجاج رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے یہ بات حماد رحمہ اللہ کے سامنے ذکر کی تو انہوں نے اس کا رد کیا اور فرمایا: «أرأيت إن كان أقلف، أيختتن؟»
’’ مجھے بتاؤ کہ اگر وہ مختون نہ ہو تو کیا اس کا ختنہ بھی کیا جائے گا؟“ [مصنف ابن أبى شيبة: 246/3، وسنده صحيح]
↰ یعنی یہ سارے کام زندگی سے متعلق ہیں۔ اگر اس نے زندگی میں سستی کاہلی کی ہے تو اس کا گناہ لکھ دیا گیا ہے اور اگر کسی شرعی عذر کی بنا پر ایسا نہ کر سکا تو اسے معاف کر دیا جائے گا۔ اب موت کے بعد کی صفائی پر کوئی جزا و سز انہیں۔
◈ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے جب اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: «من الناس من يقول ذلك، ومنهم من يقول: إذا كان أقلف أيختتن؟، يعني: لا يفعل.»
’’ بعض لوگ کہتے ہیں میت کے ناخن کاٹ دیے جائیں جبکہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر وہ مختون ہو تو کیا اس کا ختنہ کیا جائے گا؟ یعنی ایسا کرنا درست نہیں۔“ [مسائل الامام احمد لأبي داؤد: 246/3]
↰ جب غیر مختون کا موت کے بعد ختنہ کرنے کا کوئی بھی قائل نہیں تو ناخن اور بال کاٹنا بھی ناجائز ہی ہوا۔
الحاصل: میت کے زیر ناف بال مونڈھنا اور اس کے ناخن کاٹنا درست نہیں۔ یہ مردے کے لیے بے فائدہ اور زندوں کے لیے تکلیف دہ عمل ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اگر کوئی شخص کسی شرعی عذر کی بنا پر یا سستی و کاہلی کی وجہ سے زیرناف بال نہ مونڈھ سکا اور اسے موت آ گئی تو زندہ لوگ اس کے زیرناف بال نہیں مونڈھیں گے، کیونکہ اس عمل کی کوئی شرعی دلیل نہیں، نیز یہ عمل زندہ لوگوں کے لیے باعث ضرر ہے جبکہ میت کو اس کا کوئی فائدہ نہیں، جیسا کہ: ◈ امام ابن منذر رحمہ اللہ (242-391 ھ) لکھتے ہیں: «الوقوف عن أخذ ذلك أحب إلي، لأنه المأمور بأخذ ذلك من نفسه الحي، فإذا مات انقطع الامر.»
”میت کے زیرناف بالوں کو مونڈھنے سے باز رہنا ہی میرے نزدیک بہتر ہے کہ کیونکہ مرنے والے کو اپنی زندگی میں اس کام کا حکم دیا گیا تھا۔ جب اسے موت آ گئی تو یہ معاملہ ختم ہو گیا۔“ [الأوسط فى السنن والإجماع والاختلاف: 329/5]
◈ امام محمد بن سیرین تابعی رحمہ اللہ کے بارے میں روایت ہے کہ: «انهٔ كان يکرهٔ أن يوخذ من عانة أؤ ظفر الميت.»
’’ وہ میت کے زیر ناف بالوں کو مونڈھنا اور اس کے ناخنوں کو کاٹنا مکروہ جانتے تھے۔“ [مصنف ابن أبى شيبة: 246، 245/3، وسنده صحيح]
↰ اس کے خلاف اسلاف امت سے کچھ ثابت نہیں۔
ایک روایت میں ہے کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے میت کو غسل دیا اور استرا منگوایا۔ [مصنف ابن أبى شيبة: 246/3] ↰ لیکن اس کی سند ’’مرسل“ ہونے کی بنا پر ’’ ضعیف“ اور ناقابل حجت ہے۔
زیرناف بالوں کی طرح میت کے ناخن بھی اتارنا درست نہیں۔
◈ امام حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: «تقلم اظفار الميت» ’’ میت کے ناخن اتار دیے جائیں گے۔“
↰ امام شعبہ بن حجاج رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے یہ بات حماد رحمہ اللہ کے سامنے ذکر کی تو انہوں نے اس کا رد کیا اور فرمایا: «أرأيت إن كان أقلف، أيختتن؟»
’’ مجھے بتاؤ کہ اگر وہ مختون نہ ہو تو کیا اس کا ختنہ بھی کیا جائے گا؟“ [مصنف ابن أبى شيبة: 246/3، وسنده صحيح]
↰ یعنی یہ سارے کام زندگی سے متعلق ہیں۔ اگر اس نے زندگی میں سستی کاہلی کی ہے تو اس کا گناہ لکھ دیا گیا ہے اور اگر کسی شرعی عذر کی بنا پر ایسا نہ کر سکا تو اسے معاف کر دیا جائے گا۔ اب موت کے بعد کی صفائی پر کوئی جزا و سز انہیں۔
◈ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے جب اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: «من الناس من يقول ذلك، ومنهم من يقول: إذا كان أقلف أيختتن؟، يعني: لا يفعل.»
’’ بعض لوگ کہتے ہیں میت کے ناخن کاٹ دیے جائیں جبکہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر وہ مختون ہو تو کیا اس کا ختنہ کیا جائے گا؟ یعنی ایسا کرنا درست نہیں۔“ [مسائل الامام احمد لأبي داؤد: 246/3]
↰ جب غیر مختون کا موت کے بعد ختنہ کرنے کا کوئی بھی قائل نہیں تو ناخن اور بال کاٹنا بھی ناجائز ہی ہوا۔
الحاصل: میت کے زیر ناف بال مونڈھنا اور اس کے ناخن کاٹنا درست نہیں۔ یہ مردے کے لیے بے فائدہ اور زندوں کے لیے تکلیف دہ عمل ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
درج بالا اقتباس ماہنامہ السنہ جہلم ، شمارہ نمبر 42، حدیث/صفحہ نمبر: 30 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4198 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´مونچھیں کتروانے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: ” پانچ چیزیں فطرت ہیں یا فطرت میں سے ہیں: ختنہ کرنا، زیر ناف کے بال مونڈنا، بغل کا بال اکھیڑنا، ناخن تراشنا اور مونچھ کاٹنا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4198]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: ” پانچ چیزیں فطرت ہیں یا فطرت میں سے ہیں: ختنہ کرنا، زیر ناف کے بال مونڈنا، بغل کا بال اکھیڑنا، ناخن تراشنا اور مونچھ کاٹنا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4198]
فوائد ومسائل:
1) امورِ فطرت یعنی وہ اعمال جن کا اختیار کرنا اس قدر اہم ہے گو یا وہ جبلی اورخلقی امور ہوں۔
نیز تمام انبیائے کرام ؐ نے بھی ان کا التزام کیا ہے، جن کی اقتداء کا ہمیں حکم دیا گیا ہے۔
2) صحیح مسلم کی ایک روایت میں دس امور کا ذکر ہے۔
جو یہ ہیں: مو نچھیں کتروانا، داڑھی بڑھا نا، مسواک کرنا، ناک میں پانی دینا، ناخن تراشنا، جو ڑوں کا دھونا، بغلوں کے بال اُکھیڑنا، زیرِناف کی صفائی کرنا، استنجا کرنا اور کلی کرنا۔
(صحیح مسلم، الطھاة، حدیث: 261)
3) ان سب امور کا اختیار کرنا واجب ہے اور یہ اسلامی شرعی شعار بھی ہیں۔
اور اللہ عزوجل کا حکم ہے، دین میں پو رے پو رے داخل ہو جاؤ۔
(البقرة: 208) کچھ احکام کو مان لینا اور کچھ کو چھوڑ دینا اہلِ ایمان کا شیوہ نہیں ہو سکتا۔
ان امور میں تقصیر کرنا کبیرہ گناہ ہے۔
4) زیرِ ناف کے لیئے اُسترا استعمال کرنا اور بغلوں کے بالوں کو نوچنا ہی سنت ہے۔
اگرچہ دوسرے طریقوں سے بھی یہ عمل ہو سکتا ہے۔
1) امورِ فطرت یعنی وہ اعمال جن کا اختیار کرنا اس قدر اہم ہے گو یا وہ جبلی اورخلقی امور ہوں۔
نیز تمام انبیائے کرام ؐ نے بھی ان کا التزام کیا ہے، جن کی اقتداء کا ہمیں حکم دیا گیا ہے۔
2) صحیح مسلم کی ایک روایت میں دس امور کا ذکر ہے۔
جو یہ ہیں: مو نچھیں کتروانا، داڑھی بڑھا نا، مسواک کرنا، ناک میں پانی دینا، ناخن تراشنا، جو ڑوں کا دھونا، بغلوں کے بال اُکھیڑنا، زیرِناف کی صفائی کرنا، استنجا کرنا اور کلی کرنا۔
(صحیح مسلم، الطھاة، حدیث: 261)
3) ان سب امور کا اختیار کرنا واجب ہے اور یہ اسلامی شرعی شعار بھی ہیں۔
اور اللہ عزوجل کا حکم ہے، دین میں پو رے پو رے داخل ہو جاؤ۔
(البقرة: 208) کچھ احکام کو مان لینا اور کچھ کو چھوڑ دینا اہلِ ایمان کا شیوہ نہیں ہو سکتا۔
ان امور میں تقصیر کرنا کبیرہ گناہ ہے۔
4) زیرِ ناف کے لیئے اُسترا استعمال کرنا اور بغلوں کے بالوں کو نوچنا ہی سنت ہے۔
اگرچہ دوسرے طریقوں سے بھی یہ عمل ہو سکتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4198 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 9 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´ختنہ کرنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ” فطری (پیدائشی) سنتیں پانچ ہیں، ختنہ کرنا، زیر ناف کے بال صاف کرنا، مونچھ کترنا، ناخن تراشنا، اور بغل کے بال اکھیڑنا۔“ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 9]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ” فطری (پیدائشی) سنتیں پانچ ہیں، ختنہ کرنا، زیر ناف کے بال صاف کرنا، مونچھ کترنا، ناخن تراشنا، اور بغل کے بال اکھیڑنا۔“ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 9]
9۔ اردو حاشیہ: ➊ ان امور کو فطرت قرار دینے سے مراد یہ ہے کہ انسان کی فطرت سلیمہ ان چیزوں کا تقاضا کرتی ہے۔ دین اسلام کو بھی اسی لیے فطرت کہا گیا ہے کہ وہ انسانی فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔
➋ ان امور کو فطرت قرار دینے کی یہ وجہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابتدا ہی سے ہر نبی اور رسول کو ان امور کا حکم دیا، گویا یہ احکام ایسے فطری اور جبلی ہیں کہ ان پر انسانوں کی پیدائش ہوئی۔ فطرت کے معنی پیدائش ہیں۔
➌ ختنے کو فطری امور میں اس لیے شامل کیا گیا ہے کہ ختنہ نہ کرانے کی صورت میں قلفہ (حشفے پر زائد چمڑا) طہارت میں مانع بن سکتا ہے، پیشاب کے قطرے اس میں اٹک سکتے ہیں اور جماع کے بعد حشفہ کی صفائی نہ ہو سکے گی۔ طہارت سے قطع نظر قلفہ جراثیم کی آماجگاہ بھی بن سکتا ہے، لہٰذا قلفے کو کاٹ دینا عقلی اور فطری تقاضا ہے۔
➋ ان امور کو فطرت قرار دینے کی یہ وجہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابتدا ہی سے ہر نبی اور رسول کو ان امور کا حکم دیا، گویا یہ احکام ایسے فطری اور جبلی ہیں کہ ان پر انسانوں کی پیدائش ہوئی۔ فطرت کے معنی پیدائش ہیں۔
➌ ختنے کو فطری امور میں اس لیے شامل کیا گیا ہے کہ ختنہ نہ کرانے کی صورت میں قلفہ (حشفے پر زائد چمڑا) طہارت میں مانع بن سکتا ہے، پیشاب کے قطرے اس میں اٹک سکتے ہیں اور جماع کے بعد حشفہ کی صفائی نہ ہو سکے گی۔ طہارت سے قطع نظر قلفہ جراثیم کی آماجگاہ بھی بن سکتا ہے، لہٰذا قلفے کو کاٹ دینا عقلی اور فطری تقاضا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 9 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5227 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´دین فطرت والی عادات و سنن کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” پانچ چیزیں دین فطرت میں سے ہیں: مونچھ کاٹنا، بغل کے بال اکھیڑنا، ناخن کترنا، ناف کے نیچے کے بال مونڈنا اور ختنہ کرنا۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5227]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” پانچ چیزیں دین فطرت میں سے ہیں: مونچھ کاٹنا، بغل کے بال اکھیڑنا، ناخن کترنا، ناف کے نیچے کے بال مونڈنا اور ختنہ کرنا۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5227]
اردو حاشہ: تفصیل کے لیے دیکھیے‘حدیث: 5043۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5227 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 10 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´ناخن کاٹنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” پانچ چیزیں فطرت میں سے ہیں: مونچھ کترنا، بغل کے بال اکھیڑنا، ناخن تراشنا، زیر ناف کے بال صاف کرنا، اور ختنہ کرنا۔“ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 10]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” پانچ چیزیں فطرت میں سے ہیں: مونچھ کترنا، بغل کے بال اکھیڑنا، ناخن تراشنا، زیر ناف کے بال صاف کرنا، اور ختنہ کرنا۔“ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 10]
10۔ اردو حاشیہ: ➊ ناخن تراشنے کو فطری امور میں اس لیے داخل کیا گیا ہے کہ ناخن نجاست اور میل کچیل کو جمع رکھنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں، جو طہارت سے مانع ہے، نیز دیکھنے میں بھی برے لگتے ہیں اور حیوانات کے ساتھ تشبیہ ہوتی ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین شکل و صورت میں پیدا فرمایا ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ [التین /4: 95]
’’یقیناًً ہم نے انسان کو بہترین شکل و صورت میں پیدا فرمایا ہے۔“ زیادہ بڑے ناخن کسی کو یا اپنے آپ کو زخمی کرسکتے ہیں، اس لیے فطرت سلیمہ کا تقاضا ہے کہ زائد ناخن تراش دیے جائیں۔
➋ انسانیت کے ابتدائی دور میں جب آلات ایجاد نہ ہوئے تھے، ناخن ذبح وغیرہ کے کام آتے تھے۔ اب آلات کی موجودگی میں اس استعمال کی نہ صرف ضرورت باقی نہیں رہی بلکہ یہ قبیح اور ممنوع بھی ہے، اسی لیے ناخن اور دانت سے ذبح کرنے کو شریعت اسلامیہ نے ناجائز قرار دیا ہے۔ [صحيح البخاري، الشركة، حديث: 2488، وصحيح مسلم، الأضاحي، حديث: 1968]
’’یقیناًً ہم نے انسان کو بہترین شکل و صورت میں پیدا فرمایا ہے۔“ زیادہ بڑے ناخن کسی کو یا اپنے آپ کو زخمی کرسکتے ہیں، اس لیے فطرت سلیمہ کا تقاضا ہے کہ زائد ناخن تراش دیے جائیں۔
➋ انسانیت کے ابتدائی دور میں جب آلات ایجاد نہ ہوئے تھے، ناخن ذبح وغیرہ کے کام آتے تھے۔ اب آلات کی موجودگی میں اس استعمال کی نہ صرف ضرورت باقی نہیں رہی بلکہ یہ قبیح اور ممنوع بھی ہے، اسی لیے ناخن اور دانت سے ذبح کرنے کو شریعت اسلامیہ نے ناجائز قرار دیا ہے۔ [صحيح البخاري، الشركة، حديث: 2488، وصحيح مسلم، الأضاحي، حديث: 1968]
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 10 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 11 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´بغل کے بال اکھیڑنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” پانچ چیزیں فطرت میں سے ہیں: ختنہ کرنا، زیر ناف کے بال مونڈنا، بغل کے بال اکھیڑنا، ناخن تراشنا، اور مونچھ کے بال لینا (یعنی کاٹنا)۔“ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 11]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” پانچ چیزیں فطرت میں سے ہیں: ختنہ کرنا، زیر ناف کے بال مونڈنا، بغل کے بال اکھیڑنا، ناخن تراشنا، اور مونچھ کے بال لینا (یعنی کاٹنا)۔“ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 11]
11۔ اردو حاشیہ: ➊ بغلوں کے بال گلٹیوں کی حفاظت کے لیے ہوتے ہیں۔ انہیں گرم رکھتے ہیں مگر چونکہ کام کاج کے دوران میں بازو ننگے ہو جاتے ہیں، بغلیں نظر آتی ہیں جس سے بغلوں کے بال قبیح محسوس ہوں گے، نیز ان میں میل کچیل بھی جمع ہو جاتا ہے۔ پسینہ زیادہ آتا ہے اور بال صفائی سے مانع ہوں گے، اس لیے انسانی فطرت تقاضا کرتی ہے کہ بغلوں کو بالوں سے صاف رکھا جائے۔
➋ احادیث میں بغلوں کے بال مونڈنے کی بجائے اکھاڑنے کا ذکر ہے، یہ اس لیے کہ مونڈنے سے بال زیادہ اور موٹے ہو جاتے ہیں جب کہ اکھاڑنے سے بال کم اور باریک ہو جاتے ہیں۔ ان میں نرمی رہتی ہے، چبھتے نہیں۔ پسینے اور بدبو میں کمی ہوتی ہے، نیز بغل کے بال اکھاڑنے سے تکلیف بھی نہیں ہوتی، لہٰذا انہیں مونڈنے کی بجائے اکھیڑنا بہتر ہے، البتہ اگر کوئی شخص بال اکھیڑنے سے تکلیف محسوس کرے تو مونڈ بھی سکتا ہے کیوکہ اصل مقصد تو بالوں کی صفائی ہے۔
➋ احادیث میں بغلوں کے بال مونڈنے کی بجائے اکھاڑنے کا ذکر ہے، یہ اس لیے کہ مونڈنے سے بال زیادہ اور موٹے ہو جاتے ہیں جب کہ اکھاڑنے سے بال کم اور باریک ہو جاتے ہیں۔ ان میں نرمی رہتی ہے، چبھتے نہیں۔ پسینے اور بدبو میں کمی ہوتی ہے، نیز بغل کے بال اکھاڑنے سے تکلیف بھی نہیں ہوتی، لہٰذا انہیں مونڈنے کی بجائے اکھیڑنا بہتر ہے، البتہ اگر کوئی شخص بال اکھیڑنے سے تکلیف محسوس کرے تو مونڈ بھی سکتا ہے کیوکہ اصل مقصد تو بالوں کی صفائی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 11 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 292 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´امور فطرت کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” پانچ چیزیں فطرت ہیں ۱؎، یا پانچ باتیں فطرت میں سے ہیں: ختنہ کرانا، ناف کے نیچے کے بال صاف کرنا، ناخن تراشنا، بغل کے بال اکھیڑنا، مونچھوں کے بال تراشنا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 292]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” پانچ چیزیں فطرت ہیں ۱؎، یا پانچ باتیں فطرت میں سے ہیں: ختنہ کرانا، ناف کے نیچے کے بال صاف کرنا، ناخن تراشنا، بغل کے بال اکھیڑنا، مونچھوں کے بال تراشنا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 292]
اردو حاشہ: (1)
’’فطرت‘‘ اس سے مراد دین فطرت کے وہ امور ہیں جو تمام انبیائےکرام ؑ کی سنت ہیں اور تمام انبیاء ؑ کی شریعتوں میں ان پر عمل ہوتا رہا ہے۔
اس سے ان اعمال کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔
ان پانچوں کا تعلق انسان کی ظاہری صفائی سے ہےاور جب شریعت ان کا حکم دے تو حکم کی تعمیل سے باطنی طہارت میں بھی اضافہ ہوگا۔
(2)
’’ختنہ‘‘ اس سے مراد ہے مرد کے عضو خاص سے ابتدائی حصے پر موجود پردے کو کاٹ دینا حتی کہ حشفہ (عضو کا ابتدائی حصہ)
ظاہر ہوجائے۔
طبی نقطہ نظر سے بھی یہ عمل بہت مفید ہے کیونکہ اس پردے کے اندر میل کچیل جمع ہونے کی وجہ سے طرح طرح کی بیماریاں پیدا ہوجاتی ہیں اور اس کی صفائی پر عام طور پر توجہ نہیں دی جاتی۔
اس کے علاوہ اس کے اندر پیشاب کے قطرات رہ جاتے ہیں جن کی وجہ سے جسم اور کپڑے ناپاک ہوجاتے ہیں۔
بائبل میں بھی ختنہ کو ایک دائمی شرعی حکم قرار دیا گیا ہے جو کبھی منسوخ نہیں ہوگا۔ (دیکھیے: کتاب پیدائش باب: 17 فقرات: 9 تا 14)
اسی لیے یہودی ختنہ کرتے ہیں۔
عہد جدید کے بیان کے مطابق حضرت عیسی علیہ السلام کا بھی ختنہ کیا گیا تھا۔ (دیکھیے: انجیل لوقا باب: 2 فقرہ: 21)
(3)
استحداد (لوہا استعمال کرنا)
اس سے مراد اعضائے مخصوصہ کے ارد گرد اُگے ہوئے بالوں کو دور کرنا ہے، خواہ لوہے کی بنی ہوئی کسی چیز (استرے وغیرہ)
سے ہو یا اس مقصد کے لیے تیار شدہ پاؤڈر یا کریم وغیرہ سے ہو۔
(4)
بغلوں کے بال اکھاڑنا ہی مسنون ہے۔
اکھاڑنے کے بعد دوبارہ صفائی کی ضرورت کافی دیر بعد ہوتی ہے البتہ مونڈنے سے بھی صفائی کا مقصد حاصل ہوجاتا ہے۔
(5)
ناخن بڑھ جائیں تو ان میں میل کچیل جمع ہوجاتا ہے، اس لیے صفائی کا تقاضہ بھی ہے کہ انھیں کاٹ دیا جائے۔
فیشن کے طور پر ناخن بڑھا لینا خلاف فطرت بھی ہے اور ان کے ٹوٹنے کا خطرہ بھی رہتا ہے۔
جس سے نقصان اور تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے، نیز ناخن کاٹنے سے انسان اور حیوان میں قدرتی فرق برقرار رہتا ہے۔
(5)
مونچھیں بڑھانا عجمی غیر مسلموں کا رواج تھا۔
ان کو دیکھ کر عربوں نے بھی یہ طریقہ اختیار کرلیا۔
رسول اللہ ﷺ نے انھیں کاٹنے اور خوب پست کرنے کا حکم دیا۔
یہ پانچوں امور نظافت وطہارت سے تعلق رکھتے ہیں اور نظافت وطہارت تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی شریعتوں میں مطلوب اور مستحسن رہی ہے۔
میلا کچیلا یا ناپاک رہنا غیر مسلموں، مثلاً: ہندو جوگیوں یا عیسائی راہبوں کا طریقہ ہے اور ان کی خود ساختہ پابندیاں ہیں۔
جن کا کسی آسمانی شریعت سے کوئی تعلق نہیں۔
(6)
صفائی اور طہارت کے ان تمام افعال میں دائیں جانب سے شروع کرنا مسنون ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نبی اکرم ﷺ جوتا پہننے میں، کنگھی کرنے میں، پاکیزگی حاصل کرنے میں (وضو اور غسل میں)
اورہرکام میں دائیں طرف سے شروع کرنا پسند فرماتے تھے۔ (صحيح البخاري، الوضوء، باب التيمن في الوضوء والغسل، حديث: 168، وصحیح مسلم، الطھارہ، باب التیمن فی الطھور وغیرہ، حدیث: 268)
’’فطرت‘‘ اس سے مراد دین فطرت کے وہ امور ہیں جو تمام انبیائےکرام ؑ کی سنت ہیں اور تمام انبیاء ؑ کی شریعتوں میں ان پر عمل ہوتا رہا ہے۔
اس سے ان اعمال کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔
ان پانچوں کا تعلق انسان کی ظاہری صفائی سے ہےاور جب شریعت ان کا حکم دے تو حکم کی تعمیل سے باطنی طہارت میں بھی اضافہ ہوگا۔
(2)
’’ختنہ‘‘ اس سے مراد ہے مرد کے عضو خاص سے ابتدائی حصے پر موجود پردے کو کاٹ دینا حتی کہ حشفہ (عضو کا ابتدائی حصہ)
ظاہر ہوجائے۔
طبی نقطہ نظر سے بھی یہ عمل بہت مفید ہے کیونکہ اس پردے کے اندر میل کچیل جمع ہونے کی وجہ سے طرح طرح کی بیماریاں پیدا ہوجاتی ہیں اور اس کی صفائی پر عام طور پر توجہ نہیں دی جاتی۔
اس کے علاوہ اس کے اندر پیشاب کے قطرات رہ جاتے ہیں جن کی وجہ سے جسم اور کپڑے ناپاک ہوجاتے ہیں۔
بائبل میں بھی ختنہ کو ایک دائمی شرعی حکم قرار دیا گیا ہے جو کبھی منسوخ نہیں ہوگا۔ (دیکھیے: کتاب پیدائش باب: 17 فقرات: 9 تا 14)
اسی لیے یہودی ختنہ کرتے ہیں۔
عہد جدید کے بیان کے مطابق حضرت عیسی علیہ السلام کا بھی ختنہ کیا گیا تھا۔ (دیکھیے: انجیل لوقا باب: 2 فقرہ: 21)
(3)
استحداد (لوہا استعمال کرنا)
اس سے مراد اعضائے مخصوصہ کے ارد گرد اُگے ہوئے بالوں کو دور کرنا ہے، خواہ لوہے کی بنی ہوئی کسی چیز (استرے وغیرہ)
سے ہو یا اس مقصد کے لیے تیار شدہ پاؤڈر یا کریم وغیرہ سے ہو۔
(4)
بغلوں کے بال اکھاڑنا ہی مسنون ہے۔
اکھاڑنے کے بعد دوبارہ صفائی کی ضرورت کافی دیر بعد ہوتی ہے البتہ مونڈنے سے بھی صفائی کا مقصد حاصل ہوجاتا ہے۔
(5)
ناخن بڑھ جائیں تو ان میں میل کچیل جمع ہوجاتا ہے، اس لیے صفائی کا تقاضہ بھی ہے کہ انھیں کاٹ دیا جائے۔
فیشن کے طور پر ناخن بڑھا لینا خلاف فطرت بھی ہے اور ان کے ٹوٹنے کا خطرہ بھی رہتا ہے۔
جس سے نقصان اور تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے، نیز ناخن کاٹنے سے انسان اور حیوان میں قدرتی فرق برقرار رہتا ہے۔
(5)
مونچھیں بڑھانا عجمی غیر مسلموں کا رواج تھا۔
ان کو دیکھ کر عربوں نے بھی یہ طریقہ اختیار کرلیا۔
رسول اللہ ﷺ نے انھیں کاٹنے اور خوب پست کرنے کا حکم دیا۔
یہ پانچوں امور نظافت وطہارت سے تعلق رکھتے ہیں اور نظافت وطہارت تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی شریعتوں میں مطلوب اور مستحسن رہی ہے۔
میلا کچیلا یا ناپاک رہنا غیر مسلموں، مثلاً: ہندو جوگیوں یا عیسائی راہبوں کا طریقہ ہے اور ان کی خود ساختہ پابندیاں ہیں۔
جن کا کسی آسمانی شریعت سے کوئی تعلق نہیں۔
(6)
صفائی اور طہارت کے ان تمام افعال میں دائیں جانب سے شروع کرنا مسنون ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نبی اکرم ﷺ جوتا پہننے میں، کنگھی کرنے میں، پاکیزگی حاصل کرنے میں (وضو اور غسل میں)
اورہرکام میں دائیں طرف سے شروع کرنا پسند فرماتے تھے۔ (صحيح البخاري، الوضوء، باب التيمن في الوضوء والغسل، حديث: 168، وصحیح مسلم، الطھارہ، باب التیمن فی الطھور وغیرہ، حدیث: 268)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 292 سے ماخوذ ہے۔