حدیث نمبر: 950
950 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الضَّبِّيُّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمْ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِ مَعْنَاهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ: عَنْ أَبِيهِ
اردو ترجمہ مسند الحمیدی

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔

حوالہ حدیث مسند الحميدي / حدیث: 950
درجۂ حدیث محدثین: صحيح وأخرجه
تخریج حدیث «صحيح، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 878، ومالك فى «الموطأ» برقم: 371 ، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1463، 1845، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 2807، 2821، 2822، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 1422 ، 1423 ، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1122، 1123، والترمذي فى «جامعه» برقم: 533، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1607، 1608، 1609، 1648، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1119، 1281، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 5804، 5805، وأحمد فى «مسنده» برقم: 18672، 18674، والحميدي فى «مسنده» برقم: 949»

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 1425 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´نماز جمعہ میں سورتوں کی قرأت کے متعلق نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہم سے روایت کرنے میں ان کے تلامذہ کے اختلاف کا بیان۔`
حبیب بن سالم نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ میں «سبح اسم ربك الأعلى» اور «‏هل أتاك حديث الغاشية‏» پڑھتے تھے اور جب کبھی عید اور جمعہ دونوں جمع ہو جاتے تو ان دونوں میں بھی آپ انہی دونوں سورتوں کو پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1425]
1425۔ اردو حاشیہ: ➊ اگرچہ نماز جمعہ میں کوئی سی سورت بھی پڑھی جا سکتی ہے مگر مندرجہ بالا چار سورتیں مسنون و مستحب ہیں۔ امام نسائی رحمہ اللہ نے نماز جمعہ کی قرأت کے متعلق حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے مروی روایات میں راویوں کے اختلاف کو ذکر کیا ہے کہ عبیداللہ بن عبداللہ کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعے کی پہلی رکعت میں سورۂ جمعہ اور دوسری میں سورۂ غاشیہ پڑھا کرتے تھے اور حبیب بن سالم کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعے کی پہلی رکعت میں سورۂ اعلیٰ اور دوسری میں سورۂ غاشیہ پڑھا کرتے تھے۔ لیکن یہ اختلاف حدیث کی صحت پر اثر انداز نہیں ہوتا کیونکہ یہ اختلاف صرف سورتوں کی تعیین میں ہے جس کی بابت علماء نے لکھا ہے کہ ممکن ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی نماز جمعہ میں سورۂ اعلیٰ اور سورۂ غاشیہ اور کبھی سورۂ جمعہ اور سورۂ منافقون پڑھتے ہوں اور کبھی سورۂ جمعہ اور سورۂ غاشیہ۔ بنابریں کبھی سورۂ اعلیٰ اور سورۂ غاشیہ پڑھ لی جائیں اور کبھی جمعہ اور منافقون۔ انہیں آپس میں ملایا بھی جا سکتا ہے، مثلاً: سورۂ جمعہ اور سورۂ غاشیہ جیسا کہ حدیث نمبر 1424 میں بیان ہے۔
➋ اس حدیث سے ثابت ہوا کہ جمعے کے دن عید آ جائے تو عید بھی پڑھی جائے اور جمعہ بھی، خطیب اور قرب و جوار کے لوگوں کے لیے یہی افضل ہے، اگر وہ جمعے کی بجائے ظہر پڑھ لیں تو بھی جائز ہے۔ واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1425 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 1569 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´عیدین میں «سبح اسم ربک الأعلی» اور «ہل أتاک حدیث الغاشیۃ» پڑھنے کا بیان۔`
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدین میں اور جمعہ کے دن «سبح اسم ربك الأعلى» اور «هل أتاك حديث الغاشية‏» پڑھتے تھے، اور کبھی یہ دونوں ایک ساتھ ایک ہی دن میں جمع ہو جاتے، تو بھی انہیں دونوں سورتوں کو پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1569]
1569۔ اردو حاشیہ: عیدین میں مقتدیوں یا موقع ومحل کا لحاظ رکھتے ہوئے دونوں حدیثوں میں سے کسی حدیث پر بھی عمل کیا جا سکتا ہے اور یہ اولیٰ ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1569 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 1591 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´عید اور جمعہ دونوں کے اکٹھا آ پڑنے اور ان میں حاضر ہونے کا بیان۔`
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ اور عید دونوں میں «سبح اسم ربك الأعلى‏» اور «هل أتاك حديث الغاشية‏» پڑھتے تھے، اور جب جمعہ اور عید ایک ہی دن میں جمع ہو جاتے تو بھی آپ انہیں دونوں سورتوں کو پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1591]
1591۔ اردو حاشیہ: گویا نبی صلی اللہ علیہ وسلم دونوں نمازیں پڑھاتے تھے اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم بھی آپ کے پیچھے دونوں نمازیں پڑھتے تھے کیونکہ دونوں مختلف نمازیں ہیں۔ اوقات مختلف ہیں۔ ہیئت میں بھی فرق ہے۔ ایک نفل ہے دوسری فرض۔ بعض حضرات کا خیال ہے کہ عید کا خطبہ جمعے کے خطبے سے کفایت کر جائے گا اور جمعے کی جگہ اصل نماز، یعنی ظہر پڑھی جا سکتی ہے، گویا عید والے دن جمعے کے بجائے ظہر پڑھ لی جائے تو درست ہے مگر یہ انفرادی طور پر ہو سکتا ہے، اجتماعی طور پر جمع ہی پڑھا جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی سنت ہے۔ آئندہ حدیث میں رخصت کو انفراد پر محمول کیا جائے گا، نیز یہ رخصت قرب و جوار میں رہنے والے یا دور سے آنے والے سب لوگوں کے لیے یکساں ہے۔ دونوں قسم کے لوگ اس سے مستفید ہو سکتے ہیں کیونکہ حدیث عام ہے۔ کسی فرد کی تخصیص نہیں۔ واللہ اعلم۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1591 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 878 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدین اور جمعہ میں ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَ‌بِّكَ الْأَعْلَى﴾ اور ﴿هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ﴾ پڑھتے تھے اور اگر عید اور جمعہ ایک ہی دن اکھٹے ہو جاتے تو آپﷺ دونوں نمازوں میں ہی انہیں پڑھتے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:2028]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: ان دو صورتوں کے پڑھنے کی وجہ یہ ہے کہ ان میں انسان کے لیے درس عبرت ہے۔
سورہ اعلیٰ میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہر کام میں تدریج اور ترتیب ہے۔
اس لیے اپنے رب پر بھروسہ رکھو جلد وہ وقت آئے گا جب تمہاری محنت وکوشش بارآور ہو گی اور تمہاری سعی بامراد ہو گی۔
پیغمبر اور مبلغ کا کام سنانا ہے اور سنیں گے صرف وہی لوگ جو اللہ سے ڈرنے والے ہیں اور کامیابی انہیں خوش بختوں کے لیے ہے جنھوں نے اپنے آپ کو پاک کیا۔
اپنے رب کو یاد کیا اورنماز پڑھی جو لوگ دنیا کی زندگی اور اس کی لذت کو جوعارضی اور فانی ہے۔
آخرت پر جو بہتر اور پائیدار ہے ترجیح دیتے ہیں۔
وہ کامیابی اور کامرانی سے ہم کنار نہیں ہو سکتے۔
دین کی پابندی ان کے بس کا روگ نہیں ہے۔
اور سورہ غاشیہ میں بتایا گیا ہے جو لوگ قیامت سے بے فکر ہو کر زندگی گزارتے ہیں۔
ان کو قیامت کے دن کن حالات سے سابقہ پیش آئے گا اور جو لوگ قیامت سے ڈرتے ہوئے زندگی گزار دیں گے۔
ان کو کس قسم کی کامیابی نصیب ہو گی۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 878 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 533 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´عیدین میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان۔`
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عیدین اور جمعہ میں «سبح اسم ربك الأعلى» اور «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھتے تھے، اور بسا اوقات دونوں ایک ہی دن میں آ پڑتے تو بھی انہی دونوں سورتوں کو پڑھتے۔ [سنن ترمذي/أبواب العيدين/حدیث: 533]
اردو حاشہ:
1؎:
یعنی اس سند میں حبیب بن سالم اور نعمان بن بشیر کے درمیان حبیب کے والد کا اضافہ ہے، جو صحیح نہیں ہے۔

2؎:
یعنی: بغیر ’’عن أبیہ‘‘ کے اضافہ کے، یہ روایت آگے آ رہی ہے۔

3؎:
اس میں کوئی تضاد نہیں، کبھی آپ یہ سورتیں پڑھتے اور کبھی وہ سورتیں، بہر حال ان کی قراءت مسنون ہے، فرض نہیں، لیکن ایسا نہیں کہ بعض لوگوں کی طرح ان مسنون سورتوں کو پڑھے ہی نہیں۔
مسنون عمل کو بغیر کسی شرعی عذر کے جان بوجھ کر چھوڑنا سخت گنا ہ ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 533 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 949 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
949- سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: (امام حمیدی کہتے ہیں: سفیان اس روایت میں غلطی کرتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز میں سورہ الاعلیٰ اور سورہ الغاشیہ کی تلاوت کی تھی۔ جب جمعے کے دن عید آئی تھی اس دن بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہی دو سورتوں کی تلاوت کی تھی۔‏‏‏‏ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:949]
فائدہ:
اس سے ثابت ہوا کہ نماز عید اور نماز جمعہ میں سورۃ الاعلی اور سورۃ الغاشیہ کی قرٱت کرنی چاہیے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 949 سے ماخوذ ہے۔