مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 94
94 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَاصِمُ بْنُ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ قَبْلَ أَنْ نَأْتِيَ أَرْضَ الْحَبَشَةِ فَيَرُدُّ عَلَيْنَا، فَلَمَّا رَجَعْنَا سَلَّمْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ، فَأَخَذَنِي مَا قَرُبَ وَمَا بَعُدَ، فَجَلَسْتُ حَتَّي قَضَي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ سَلَّمْتُ عَلَيْكَ وَأَنْتَ تُصَلِّي فَلَمْ تَرُدَّ عَلَيَّ السَّلَامَ، فَقَالَ: «إِنَّ اللَّهَ قَدْ يُحْدِثُ مِنْ أَمْرِهِ مَا يَشَاءُ، وَإِنَّهُ مِمَّا أَحْدَثَ أَنْ لَا تَكَلَّمُوا فِي الصَّلَاةِ» قَالَ سُفْيَانُ: هَذَا أَجْوَدُ مَا وَجَدْنَا عِنْدَ عَاصِمٍ فِي هَذَا الْوَجْهِ
اردو ترجمہ مسند الحمیدی

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حبشہ سے آنے سے پہلے ہم نماز کے دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں جواب دے دیا کرتے تھے، جب ہم (حبشہ) سے واپس آئے، تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت نماز ادا کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سلام کا جواب نہیں دیا تو مجھے پریشان کن قسم کے خیالات آنے لگے، میں وہاں بیٹھ گیا، یہاں تک کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی، تو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سلام کا جواب نہیں دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کسی بھی معاملے میں جو چاہے نیا حکم دے سکتا ہے اور اس بارے میں نیا حکم یہ ہے کہ تم لوگ نماز کے دوران کلام نہ کرو۔“ سفیان کہتے ہیں: عاصم سے ہمیں جو روایات ملی ہیں: یہ ان میں سب سے بہترین ہے۔

حوالہ حدیث مسند الحميدي / حدیث: 94
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 1199 | صحيح البخاري: 1216 | صحيح البخاري: 3875 | صحيح مسلم: 538 | سنن ابي داود: 923

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ محمد ابراہیم بن بشیر
94- سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حبشہ سے آنے سے پہلے ہم نماز کے دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں جواب دے دیا کرتے تھے، جب ہم (حبشہ) سے واپس آئے، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت نماز ادا کررہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سلام کا جواب نہیں دیا تو مجھے پریشان کن قسم کے خیالات آنے لگے، میں وہاں بیٹھ گیا، یہاں تک کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی، تو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا تھا، جب آپ ص۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:94]
فائدہ:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ پہلے دوران نماز سلام کا جواب زبان سے دینا درست تھا۔ اس طرح نماز میں باتیں کرنا بھی درست تھا لیکن بعد میں نماز میں سلام کا جواب زبان سے دینا یا کسی سے بات کرنا منع کر دیا گیا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: «وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ» سورة البقرة آية 238، یادر ہے دوران نماز سلام کا جواب انگلی یا ہاتھ کے اشارے سے دینا درست ہے۔ (سنن أبي داود: 925، 927 صحیح) نماز میں زبان سے سلام کا جواب دینا منع ہے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 95 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3875 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
3875. حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نماز پڑھ رہے ہوتے اور ہم آپ کو سلام کرتے تو آپ ہمیں اس کا جواب دیتے تھے لیکن جب ہم شاہ حبشہ نجاشی کے پاس سے واپس آئے اور ہم نے دوران نماز میں آپ کو سلام کیا تو آپ نے سلام کا جواب نہ دیا۔ ہم نے عرض کی: اللہ کے رسول! قبل ازیں ہم آپ کو سلامتی کہتے تھے تو آپ ہمیں اس کا جواب دیتے تھے۔ (اب کیا ہوا ہے؟) آپ نے فرمایا: ’’نماز میں ایک مشغولیت ہوتی ہے۔‘‘ میں نے ابراہیم نخعی سے پوچھا کہ آپ کیسے کرتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: میں دل سے جواب دے دیتا ہوں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3875]
حدیث حاشیہ: یہ حدیث کتاب الصلوٰۃ میں گزر چکی ہے، اس باب میں اسے حضرت امام بخاری ؒ اس لئے لائے کہ اس میں حضرت ابن مسعود ؓ کے حبش سے لوٹنے کا بیان ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3875 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3875 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3875. حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نماز پڑھ رہے ہوتے اور ہم آپ کو سلام کرتے تو آپ ہمیں اس کا جواب دیتے تھے لیکن جب ہم شاہ حبشہ نجاشی کے پاس سے واپس آئے اور ہم نے دوران نماز میں آپ کو سلام کیا تو آپ نے سلام کا جواب نہ دیا۔ ہم نے عرض کی: اللہ کے رسول! قبل ازیں ہم آپ کو سلامتی کہتے تھے تو آپ ہمیں اس کا جواب دیتے تھے۔ (اب کیا ہوا ہے؟) آپ نے فرمایا: ’’نماز میں ایک مشغولیت ہوتی ہے۔‘‘ میں نے ابراہیم نخعی سے پوچھا کہ آپ کیسے کرتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: میں دل سے جواب دے دیتا ہوں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3875]
حدیث حاشیہ:

اس حدیث میں صراحت ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ حبشہ سے لوٹ کر مدینہ طیبہ آئے۔
آپ ان لوگوں میں سے ہیں جنھوں نے حبشے کی طرف دوسری ہجرت میں شمولیت کی تھی اور آپ اس وقت مدینہ طیبہ واپس آئے تھے جب رسول اللہ ﷺ غزوہ بدر کی تیاری میں مصروف تھے۔
چونکہ آپ کو حبشے میں پتہ چلا کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ طیبہ چلے گئے ہیں، اس لیے انھوں نے مدینہ طیبہ کا رخ کیا۔
(فتح الباري: 239/7)

اس حدیث میں دوران نماز میں دل سے سلام کا جواب دینے کا ذکر ہے، حالانکہ حدیث میں ہاتھ کے اشارے سے جواب دینا بھی ثابت ہے، چنانچہ حضرت ابن عمر ؓ نے حضرت بلال ؓ سے پوچھا کہ جب لوگ رسول اللہ ﷺ کو دوران نماز میں سلام کرتے تو آپ انھیں کیسے جواب دیتے تھے؟ تو انھوں نے کہا: اس طرح کرتے اور انھوذں نے اپنا ہاتھ پھیلادیا۔
(سنن أبي داود، الصلاة، حدیث: 927)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3875 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1199 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
1199. حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم نبی ﷺ کو سلام کہتے جبکہ آپ نماز میں ہوتے تھے، تو آپ ہمیں اس کا جواب دیتے تھے، لیکن جب ہم نجاشی ؓ کے پاس واپس آئے تو ہم نے آپ کو (دورانِ نماز میں) سلام کہا تو آپ نے جواب نہ دیا اور فرمایا: ’’بلاشبہ نماز میں مشغولیت ہوتی ہے۔‘‘ ہریم بن سفیان نے بھی عبداللہ بن مسعود ؓ کی اس روایت کو اسی طرح بیان کیا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:1199]
حدیث حاشیہ: حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ ان بزرگوں میں سے ہیں جنہوں نے ابتدائے اسلام میں حبشہ میں جا کر پناہ لی تھی اور نجاشی شاہ حبشہ نے جن کو بڑی عقیدت سے اپنے ہاں جگہ دی تھی۔
اسلام کا بالکل ابتدائی دورتھا، اس وقت نماز میں باہمی کلام جائز تھا بعد میں جب وہ حبشہ سے لوٹے تو نماز میں باہمی کلام کرنے کی ممانعت ہوچکی تھی۔
آنحضرت ﷺ کے آخری جملہ کا مفہوم یہ کہ نماز میں تو آدمی حق تعالی کی یاد میں مشغول ہوتا ہے ادھر دل لگارہتا ہے اس لیے یہ لوگوں سے بات چیت کا موقع نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1199 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1199 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
1199. حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم نبی ﷺ کو سلام کہتے جبکہ آپ نماز میں ہوتے تھے، تو آپ ہمیں اس کا جواب دیتے تھے، لیکن جب ہم نجاشی ؓ کے پاس واپس آئے تو ہم نے آپ کو (دورانِ نماز میں) سلام کہا تو آپ نے جواب نہ دیا اور فرمایا: ’’بلاشبہ نماز میں مشغولیت ہوتی ہے۔‘‘ ہریم بن سفیان نے بھی عبداللہ بن مسعود ؓ کی اس روایت کو اسی طرح بیان کیا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:1199]
حدیث حاشیہ:
(1)
ایک روایت میں ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے ہمارے سلام کا جواب نہ دیا تو ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم پہلے آپ کو سلام کہتے تھے تو آپ اس کا جواب دیا کرتے تھے؟ تو آپ نے فرمایا: ’’بلاشبہ نماز میں مشغولیت ہوتی ہے۔
‘‘ (صحیح البخاري، مناقب الأنصار، حدیث: 3875)
ابوداود کی روایت میں ہے: ’’اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے نیا حکم دے دیتا ہے۔
اب اس نے نیا حکم دیا ہے کہ دوران نماز میں کلام مت کرو۔
‘‘ (سنن أبي داود، الصلاة، حدیث: 924) (2)
مسند ابی یعلیٰ میں ہے: ’’جب تم نماز میں ہو تو فرماں بردار رہو اور کلام نہ کرو۔
‘‘ (مسند أبي یعلیٰ: 384/3)
واضح رہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ حبشہ سے ہجرت کر کے واپس مدینہ آئے تھے۔
ابتدائے اسلام میں دوران نماز گفتگو کرنا جائز تھا اور سلام وغیرہ کا جواب بھی دیا جاتا تھا، بالآخر آخری حکم نازل ہوا کہ دوران نماز سلام و کلام منع کر دیا گیا اور اشارے سے سلام کا جواب دینے کا کہا گیا۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1199 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1216 کی شرح از الشیخ غلام مصطفےٰ ظہیر امن پوری ✍️
´نماز میں زبان سے سلام کا جواب لوٹانا منسوخ ہے`
«. . . عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ:" كُنْتُ أُسَلِّمُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ فَيَرُدُّ عَلَيَّ، فَلَمَّا رَجَعْنَا سَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ وَقَالَ: إِنَّ فِي الصَّلَاةِ لَشُغْلًا . . .»
. . . عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ (ابتداء اسلام میں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں ہوتے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جواب دیتے تھے۔ مگر جب ہم (حبشہ سے جہاں ہجرت کی تھی) واپس آئے تو میں نے (پہلے کی طرح نماز میں) سلام کیا۔ مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا (کیونکہ اب نماز میں بات چیت وغیرہ کی ممانعت نازل ہو گئی تھی) اور فرمایا کہ نماز میں اس سے مشغولیت ہوتی ہے . . . [صحيح البخاري/كتاب العمل في الصلاة: 1216]
فقہ الحدیث
↰ یہ حدیث دلیل ہے کہ نماز میں زبان سے سلام کا جواب لوٹانا منسوخ ہے، اس سے ہاتھ کے اشارے سے سلام کا جواب لوٹانے کی نفی نہیں ہوتی، بلکہ اس کا جواز دوسری صحیح احادیث سے ثابت ہے۔
درج بالا اقتباس ماہنامہ السنہ جہلم ، شمارہ نمبر 16، حدیث/صفحہ نمبر: 17 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1216 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
1216. حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نبی ﷺ کو سلام کرتا جبکہ آپ نماز میں ہوتے تھے اور آپ سلام کا جواب دیتے تھے۔ جب ہم (حبشہ سے) واپس لوٹے تو میں نے آپ کو (دوران نماز) سلام کیا تو آپ نے مجھے اس کا جواب نہ دیا اور (فراغت کے بعد) فرمایا: ’’نماز میں مشغولیت ہوتی ہے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:1216]
حدیث حاشیہ: علماء کا اس میں اختلاف ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی یہ واپسی مکہ شریف کوتھی یا مدینہ منورہ کو۔
حافظ نے فتح الباری میں اسے ترجیح دی ہے کہ مدینہ منورہ کو تھی جس طرح پہلے گزر چکا ہے اور جب یہ واپس ہوئے تو آپ ﷺ بدر کی لڑائی کے لیے تیاری فرما رہے تھے۔
اگلی حدیث سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے کہ نماز کے اندر کلام کرنا مدینہ میں حرام ہوا۔
کیونکہ حضرت جابر انصاری مدینہ کے باشندے تھے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1216 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 538 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت عبداللّٰہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کو سلام کہا کرتے تھے جبکہ آپﷺ نے نماز پڑھ رہے ہوتے تھے اور آپﷺ ہمارے سلام کو جواب دیتے تھے، جب ہم نجاشی کے ہاں سے واپس آئے، ہم نے آپﷺ کو (نماز میں) سلام کہا تو آپﷺ نے ہمیں جواب نہ دیا تو ہم نے آپﷺ سے پوچھا، اے اللّٰہ کے رسول ﷺ! ہم نماز میں آپﷺ کو سلام کہا کرتے تھے اور آپﷺ ہمیں جواب دیا کرتے تھے تو آپﷺ نے فرمایا: ’’نماز خود ایک مشغولیت رکھتی ہے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1201]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: (1)
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہما حبشہ سے مکہ واپس آ گئے تھے اور پھر دوبارہ حبشہ چلے گئے تھے پھر ہجرت نبویﷺ کے بعد مستقل طور پر مدینہ واپس آ گئے تھے اور یہاں یہ مدینہ والی واپسی مراد ہے کیونکہ نماز میں کلام کی حرمت مدینہ میں نازل ہوئی ہے۔
(2) (إنَّ في الصَّلَاةِ شُغْلاً)
اگر (شُغْلاً)
کی تنوین کو تنکیر کے لیے بنائیں تو معنی ہو گا کہ ایک قسم کی مصروفیت ہے یعنی تلاوت قرآن تسبیح و تمحید اور تکبیر کے سوا انسانی کلام درست نہیں ہے۔
اور اگر تنوین کو تعظیم کے لیے مانیں تو معنی ہو گا کہ نماز میں ایک بہت بڑی مصروفیت ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ مناجات (سر گوشی)
کر رہا ہوتا ہے اس لیے کسی اور طرف توجہ یا دھیان کرنا ممکن نہیں ہے یا انسان جو کچھ کہہ رہا ہوتا ہے اس میں غور و تدبر میں مبتلا ہوتا ہے اس لیے کوئی اور کام نہیں کر سکتا۔
(3)
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ، شافعی رحمۃ اللہ علیہ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ اور محدثین کے نزدیک سلام کا جواب اشارہ سے دینا چاہیے اور احناف کے نزدیک اشارہ سے جواب دینا بھی جائز نہیں ہے سلام پھیرنے کے بعد جواب دے گا اور عذر بھی بیان کر دے گا کہ میں نماز کی بنا پر جواب نہیں دے سکتا تھا حالانکہ آپﷺ کو عذر بیان کرنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی تھی کہ وہ زبان سے سلام کا جواب لینے کے عادی تھے اشارہ کو سمجھ نہ سکے تھے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 538 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 923 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´نماز میں سلام کا جواب دینا۔`
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتے اس حال میں کہ آپ نماز میں ہوتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے سلام کا جواب دیتے تھے، لیکن جب ہم نجاشی (بادشاہ حبشہ) کے پاس سے لوٹ کر آئے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا تو آپ نے سلام کا جواب نہیں دیا اور فرمایا: نماز (خود) ایک شغل ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 923]
923۔ اردو حاشیہ:
➊ نماز میں قرات قرآن، اللہ کا ذکر اور دعا میں مشغولیت ہوتی ہے اس لئے کسی اور طرف متوجہ ہونا مناسب نہیں سوائے اس کے جس کی رخصت آئی ہے۔
➋ دوران نماز میں عمداً بات کرنے سے نماز باطل ہو جاتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 923 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔