حدیث کتب › مسند الحميدي ›
حدیث نمبر: 933
933 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مُطَرَّحٌ أَبُو الْمُهَلَّبِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ، عَنِ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «أَغْبَطُ أَوْلِيَائِي عِنْدِي مَنْزِلَةً رَجُلٌ مُؤْمِنٌ خَفِيفُ الْحَاذِ ذُو حَظٍّ مِنَ الصَّلَاةِ غَامِضًا فِي النَّاسِ، فَعَجَّلْتُ مَنِيَّتَهُ، وَقَلَّتْ بَواكِيهِ، وَقَلَّ تُرَاثُهُ»اردو ترجمہ مسند الحمیدی
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میرے ساتھیوں میں قدر و منزلت کے اعتبار سے میرے نزدیک سب سے زیادہ قابل رشک وہ مومن ہے، جس کی پشت کا بوجھ کم ہو (یعنی جس کا مال اور عیال کم ہوں) جو بکثرت نوافل ادا کرتا ہو اگرچہ وہ لوگوں میں مشہور نہ ہو۔ جب اسے موت آ جائے، تو اس پر رونے والے کم ہوں اور اس کی وراثت کا مال بھی کم ہو۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ محمد ابراہیم بن بشیر
933- سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میرے ساتھیوں میں قدرو منزلت کے اعتبار سے میرے نزدیک سب سے زیادہ قابل رشک وہ مومن ہے، جس کی پشت کا بوجھ کم ہو (یعنی جس کا مال اور عیال کم ہوں) جو بکثرت نوافل ادا کرتا ہو اگرچہ وہ لوگوں میں مشہور نہ ہو۔ جب اسے موت آجائے، تواس پر رونے والے کم ہوں اور اس کی وراثت کا مال بھی کم ہو۔“ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:933]
فائدہ:
اس حدیث سے نیک گمنامی کو پسند کر نے والے غریب انسان کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
اس حدیث سے نیک گمنامی کو پسند کر نے والے غریب انسان کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 932 سے ماخوذ ہے۔