حدیث نمبر: 917
917 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا ابْنُ أَبِي خَالِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسًا، يَقُولُ: ثني دُكَيْنُ بْنُ سَعِيدٍ الْمُزَنِيُّ، قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَرْبَعِمِائَةِ رَاكِبٍ نَسْأَلُهُ الطَّعَامَ، فَقَالَ: «يَا عُمْرُ اذْهَبْ فَأَطْعِمْهُمْ، وَأَعْطِهِمْ» ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا عِنْدِي إِلَّا آصِعٍ مِنْ تَمْرٍ مَا تَقِيظُ عِيَالِي، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: اسْمَعْ وَأَطِعْ، فَقَالَ عُمْرُ: سَمْعٌ وَطَاعَةٌ، قَالَ: فَانْطَلَقَ عُمَرُ حَتَّي أَتَي عِلْيَةً لَهُ، فَأَخْرَجَ مِفْتَاحًا مِنْ حُجُزَتِهِ فَفَتَحَهَا، فَقَالَ لِلْقَوْمِ: ادْخُلُوا فَدَخَلُوا، وَكُنْتُ آخِرَ الْقَوْمِ دُخُولًا، فَأَخَذْتُ وَأَخَذْتُ، ثُمَّ الْتَفَتُّ فَإِذَا مِثْلُ الْفَصِيلِ مِنَ التَّمْرِ
اردو ترجمہ مسند الحمیدی

سیدنا دکین بن سعید مزنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم 400 سواروں کے ہمراہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کھانے کے لیے مانگا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عمر! جاؤ انہیں کھانا کھلاؤ اور انہیں عطیات دو۔“ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے پاس تو کھجوروں کے چند صاع ہیں۔ جو صرف میرے گھر والوں کے اس موسم کی خوراک کے لیے کفایت کریں گے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بولے: تم اطاعت و فرمانبرداری کرو تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: میں اطاعت و فرمانبرداری کرتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں: پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ گئے اور اپنے (اناج کے کمرے کے پاس آئے) انہوں نے اپنے تہبند باندھے کی جگہ سے چابی نکالی اس کے دروازے کو کھولا اور حاضرین سے کہا: تم لوگ اندر آؤ۔ میں اندر داخل ہونے والا سب سے آخری فرد تھا۔ میں نے بھی وہاں سے خوراک حاصل کی، میں نے توجہ کی، تو وہاں اتنی کھجوریں تھیں، جتنا کہ اونٹنی کا وہ بچہ ہوتا ہے، جس سے دودھ چھڑایا گیا ہو۔

حوالہ حدیث مسند الحميدي / حدیث: 917
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6528، وأبو داود فى «سننه» برقم: 5238، وأحمد فى «مسنده» برقم: 17850، 17851، 17852، 17853، 17854، والطبراني فى "الكبير" برقم: 4207، 4208، 4209، 4210»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 5238

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ محمد ابراہیم بن بشیر
917- سیدنا دکین بن سعید مزنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم 400 سواروں کے ہمراہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کھانے کے لیے مانگا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عمر! جاؤ انہیں کھانا کھلاؤ اور انہیں عطیات دو۔‏‏‏‏ انہوں نے عرض کی: یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! میرے پاس تو کھجوروں کے چند صاع ہیں۔ جو صرف میرے گھر والوں کے اس موسم کی خوارک کے لیے کفایت کریں گے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بولے: تم اطاعت وفرمانبرداری کرو تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: میں اطاعت وفرمانبرداری کرتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں: پھر سیدنا عمر رضی۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:917]
فائدہ:
اس حدیث میں ذکر ہے کہ ضرورت مندوں کی ضرورت کا خیال رکھنا چاہیے، جس چیز کی کسی کو ضرورت ہو، وہی چیز صدقہ و خیرات کر دینی چاہیے محتاج کی حمایت میں اپیل اور تائید کر دینی چاہیے، اگر کسی کو پتہ بھی ہو کہ فلاں شخص ضرورت مند ہے، پھر وہ شخص لوگوں کو اس کے ساتھ تعاون پر رغبت بھی نہیں دلاتا، وہ گناہ کا کام کر رہا ہے، اور دین کو جھٹلا رہا ہے، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿أَرَأَيْتَ الَّذِي يُكَذِّبُ بِالدِّينِ ‎ ➊ ‏ فَذَٰلِكَ الَّذِي يَدُعُّ الْيَتِيمَ ‎ ➋ ‏ وَلَا يَحُضُّ عَلَىٰ طَعَامِ الْمِسْكِينِ ➌ ﴾ ‎ (الماعون: 1 تا 3)
کیا تو نے اسے بھی دیکھا ہے جو روز جزا کو جھٹلاتا ہے، یہی وہ شخص ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے، اور مسکین کو کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا ۔
اس حدیث سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی سخاوت بھی ثابت ہوتی ہے، اور یہ بھی ثابت ہوا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دور میں تالے تھے، اور وہ اپنی قیمتی چیزوں کو تالے میں رکھتے تھے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 916 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 5238 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´بالاخانے بنانے کا بیان۔`
دکین بن سعید مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے غلہ مانگا تو آپ نے فرمایا: عمر! جاؤ اور انہیں دے دو، تو وہ ہمیں ایک بالاخانے پر لے کر چڑھے، پھر اپنے کمرے سے چابی لی اور اسے کھولا۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5238]
فوائد ومسائل:
فی الواقع ضرورت ہو تو مکان کے اوپر مکان بنانا جائز ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5238 سے ماخوذ ہے۔