حدیث کتب › مسند الحميدي ›
حدیث نمبر: 912
912 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيَّ، يَقُولُ: «كُنْتُ يَوْمَ حَكَمَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ فِي بَنِي قُرَيْظَةَ غُلَامًا، فَنَظَرُوا إِلَي مُؤْتَزَرِي، فَلَمْ يَجِدُونِي أَنْبَتُّ، فَهَا أَنَا ذَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ»اردو ترجمہ مسند الحمیدی
سیدنا عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جس دن سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو بنو قریظہ کے بارے میں ثالث مقرر کیا گیا تھا اس وقت میں لڑکا تھا۔ لوگوں نے میرے زیر ناف حصے کا جائزہ لیا وہاں زیر ناف بال نہیں اگے ہوئے تھے اسی وجہ سے میں تمہارے درمیان موجود ہوں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ محمد ابراہیم بن بشیر
912- سیدنا عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جس دن سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو بنوقریظہ کے بارے میں ثالث مقرر کیا گیا تھا اس وقت میں لڑکا تھا۔ لوگوں نے میرے زیر ناف حصے کا جائزہ لیا وہاں زیر ناف بال نہیں اگے ہوئے تھے اسی وجہ سے میں تمہارے درمیان موجود ہوں۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:912]
فائدہ:
(1) بنوقریظہ کا مسلمانوں سے یہ معاہدہ ہو چکا تھا کہ وہ مسلمانوں کے خلاف قریش مکہ کی مدد نہیں کریں گے لیکن بنونضیر کے سردار حی بن اخطب کے بہکانے سے بنو قریظہ کا سردار کعب بن اسد عہد شکنی پر آمادہ ہوگیا۔ اور بنوقریظہ نے جنگ خندق میں عملاً کفار کی مدد کی، اور ایسی کاروائیاں کیں جس سے مسلمانوں کی مشکلات میں اضافہ ہوا۔ اس طرح قبیلہ بنو قریظہ عہد شکنی کا مرتکب ہوا۔
جنگ خندق سے فارغ ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قریظہ کی بستی کا محاصرہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں رعب ڈال دیا اور وہ ہتھیار ڈالنے پر آمادہ ہو گئے اور کہا کہ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ جو فیصلہ کریں گے وہ ہمیں قبول ہوگا۔
سیدنا سعد بن معاذ نے فیصلہ دیا کہ بنو قریظہ کے سب مردوں کو قتل کر دیا جائے۔ عورتوں اور بچوں کو قیدی بنالیا جائے اور ان کا مال اسباب مسلمانوں میں تقسیم کر دیا جائے۔ [الرحيق المختوم: 509]
② جوانی کی علامت زیر ناف بال آ جانا ہے، یا داڑھی اور مونچھوں کا اگ آنا ہے۔
③ نابالغ بچوں پر حد نافذ نہیں ہوتی البتہ مناسب تعزیر لگائی جا سکتی ہے۔
(1) بنوقریظہ کا مسلمانوں سے یہ معاہدہ ہو چکا تھا کہ وہ مسلمانوں کے خلاف قریش مکہ کی مدد نہیں کریں گے لیکن بنونضیر کے سردار حی بن اخطب کے بہکانے سے بنو قریظہ کا سردار کعب بن اسد عہد شکنی پر آمادہ ہوگیا۔ اور بنوقریظہ نے جنگ خندق میں عملاً کفار کی مدد کی، اور ایسی کاروائیاں کیں جس سے مسلمانوں کی مشکلات میں اضافہ ہوا۔ اس طرح قبیلہ بنو قریظہ عہد شکنی کا مرتکب ہوا۔
جنگ خندق سے فارغ ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قریظہ کی بستی کا محاصرہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں رعب ڈال دیا اور وہ ہتھیار ڈالنے پر آمادہ ہو گئے اور کہا کہ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ جو فیصلہ کریں گے وہ ہمیں قبول ہوگا۔
سیدنا سعد بن معاذ نے فیصلہ دیا کہ بنو قریظہ کے سب مردوں کو قتل کر دیا جائے۔ عورتوں اور بچوں کو قیدی بنالیا جائے اور ان کا مال اسباب مسلمانوں میں تقسیم کر دیا جائے۔ [الرحيق المختوم: 509]
② جوانی کی علامت زیر ناف بال آ جانا ہے، یا داڑھی اور مونچھوں کا اگ آنا ہے۔
③ نابالغ بچوں پر حد نافذ نہیں ہوتی البتہ مناسب تعزیر لگائی جا سکتی ہے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 912 سے ماخوذ ہے۔