حدیث نمبر: 910
910 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدَلْوٍ مِنْ زَمْزَمَ فَشَرِبَ، ثُمَّ تَوَضَّأَ، وَمَضْمَضَ، ثُمَّ مَجَّهُ فِي الدَّلْوِ مِسِكًا، أَوْ قَالَ أَطْيَبَ مِنَ الْمِسْكِ، وَاسْتَنْثَرَ خَارِجًا مِنَ الدَّلْوِ»
اردو ترجمہ مسند الحمیدی

سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں زمزم کا ڈول پیش کیا گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا پھر کلی کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کلی کو اس ڈول میں انڈیل دیا تو وہ مشک کی مانند تھا یا اس سے بھی زیادہ پاکیزہ تھا۔ تاہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناک کو ڈول سے باہر صاف کیا۔

حوالہ حدیث مسند الحميدي / حدیث: 910
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لانقطاعة، عبدالجبار لم يسمع عن أبيه۔ وأخرجه ابن ماجه فى «سننه» برقم: 659، وأحمد فى «مسنده» برقم: 19140، 19153، 19176، والطبراني فى "الكبير" برقم: 70، 119، 120»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ محمد ابراہیم بن بشیر
910- سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں زم زم کا ڈول پیش کیا گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا پھر کلی کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کلی کو اس ڈول میں انڈیل دیا تو وہ مشک کی مانند تھا یا اس سے بھی زیادہ پاکیزہ تھا۔ تاہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناک کو ڈول سے باہر صاف کیا۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:910]
فائدہ:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آب زمزم سے وضو کرنا درست ہے، یہ روایت اگر چہ ضعیف ہے، لیکن یہ مسئلہ ٹھیک ہے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 909 سے ماخوذ ہے۔