حدیث کتب › مسند الحميدي ›
حدیث نمبر: 888
888 - قَالَ سُفْيَانُ: وَذُكِرَ لِي أَنَّ الزُّهْرِيَّ كَانَ يَقُولُ فِيهِ: وَلَمْ أَسْمَعْهُ أَنَا: «لَيْسَ مِنَ امْبِرٍّ امْصِيَامٌ فِي امْسَفَرٍ»اردو ترجمہ مسند الحمیدی
سفیان کہتے ہیں: مجھے یہ بات بتائی گئی کہ زہری اس روایت میں یہ بات کہتے ہیں: حالانکہ میں نے زہری کی زبانی یہ بات نہیں سنی۔ ”سفر کے دوران روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے۔“ (یعنی یہاں الفاظ کے تلفظ میں کچھ فرق ہے)
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ محمد ابراہیم بن بشیر
888- سفیان کہتے ہیں: مجھے یہ بات بتائی گئی کہ زہری اس روایت میں یہ بات کہتے ہیں: حالا نکہ میں نے زہری کی زبانی یہ بات نہیں سنی۔ ”سفر کے دوران روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے۔“ (یعنی یہاں الفاظ کے تلفظ میں کچھ فرق ہے) [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:888]
فائدہ:
حالت سفر میں روزہ رکھنا اور ترک کرنا دونوں صورتیں جائز ہیں۔ البتہ جن لوگوں کو سفر میں روزہ رکھنے سے سخت مشقت اٹھانا پڑے اور وہ بے حال ہو جائیں کہ دوسروں پر بوجھ بن جائے۔ ایسے لوگوں کے لیے روزہ نہ رکھنا، روزہ رکھنے سے افضل ہے۔ اور ایسی حالت سے دو چار لوگوں کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حالت سفر میں روزہ رکھنا ان کے لیے نیکی نہیں۔ بلکہ ایسے لوگوں کو روزہ ترک کر دینا چاہیے اور اختتام رمضان کے بعد ان کی قضا دے لینی چاہیے یہ ان کے حق میں بہتر ہے
حالت سفر میں روزہ رکھنا اور ترک کرنا دونوں صورتیں جائز ہیں۔ البتہ جن لوگوں کو سفر میں روزہ رکھنے سے سخت مشقت اٹھانا پڑے اور وہ بے حال ہو جائیں کہ دوسروں پر بوجھ بن جائے۔ ایسے لوگوں کے لیے روزہ نہ رکھنا، روزہ رکھنے سے افضل ہے۔ اور ایسی حالت سے دو چار لوگوں کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حالت سفر میں روزہ رکھنا ان کے لیے نیکی نہیں۔ بلکہ ایسے لوگوں کو روزہ ترک کر دینا چاہیے اور اختتام رمضان کے بعد ان کی قضا دے لینی چاہیے یہ ان کے حق میں بہتر ہے
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 887 سے ماخوذ ہے۔