882 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ زَيْدٍ: إِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَهَي عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ» فَقَالَ: قَدْ كَانَ يَقُولُ ذَلِكَ عِنْدَنَا الْحَكَمُ بْنُ عَمْرٍو الْغِفَارِيُّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَكِنْ أَبَي ذَلِكَ الْبَحْرُ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ، وَقَرَأَ: ﴿ قُلْ لَا أَجِدُ فِيمَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا﴾ الْآيَةَعمرو بن دینار کہتے ہیں: میں نے جابر بن زید سے کہا: لوگ یہ کہتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع کر دیا تھا، تو انہوں نے بتایا: سیدنا حکم بن عمرو رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات ہمارے سامنے بیان کی تھی لیکن (علم کے) سمندر یعنی سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا انہوں نے یہ آیت تلاوت کی: «قُلْ لا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا» (6-الأنعام:145) ”تم یہ فرما دو! جو چیز میری طرف وحی کی گئی ہے اس میں، میں اسے حرام نہیں پاتا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ بعض چیزوں کو کھاتے تھے اور بعض چیزوں کو ناپسندیدہ سمجھ کر چھوڑ دیتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا، اپنی کتاب نازل کی اور حلال و حرام کو بیان فرمایا، تو جو چیز اللہ نے حلال کر دی وہ حلال ہے اور جو چیز حرام کر دی وہ حرام ہے اور جس سے سکوت فرمایا وہ معاف ہے، پھر ابن عباس نے آیت کریمہ: «قل لا أجد فيما أوحي إلى محرما» ” آپ کہہ دیجئیے میں اپنی طرف نازل کی گئی وحی میں حرام نہیں پاتا “ اخیر تک پڑھی۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3800]
فائدہ: عادات کے امور میں اصل حلت ہے۔
سوائے اس کے کہ ان کےحرام ہونے کا حکم ہو۔
اور یہ حکم صرف وحی کے ذریعے ہی سے معلوم ہو سکتا ہے۔
نہ کہ خواہش نفس سے لہذا جن چیزوں کے حرام ہونے کی شریعت میں صراحت نہیں ہے۔
علمائے کرام اصول شریعت اور ان چیزوں کے خواص وصفات کی بنا پر ان کا حکم بتاتے ہیں۔
لہذا ہر علاقے کے ثقہ علماء کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔
مذید آیت کریمہ کی تفسیر کےلئے تفسیر احسن البیان وغیرہ دیکھی جائے۔