حدیث کتب › مسند الحميدي ›
حدیث نمبر: 881
881 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَبُو الزِّنَادِ، قَالَ: ثني آلُ جَرْهَدٍ، عَنْ جَرْهَدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُاردو ترجمہ مسند الحمیدی
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ محمد ابراہیم بن بشیر
881-یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:881]
فائدہ:
سيدنا عبدالله بن عباس رضی اللہ عنہما کے علم وفضل کی بنا پرانھیں «بحر الأمة يا حبر الأمة» کہا: جا تا ہے۔ اور گدھوں کے بارے میں ان کا یہ قول شاہد وضاحت کے ساتھ حدیث نہ پہنچنے کے سبب تھا صحیحین میں شعمی کے حوالے سے ان کا قول مروی ہے کہ مجھے معلوم نہیں کہ خیبر کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وجہ سے گدھوں کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا کہ لوگ سواریوں سے محروم نہ ہو جائیں یا ان کو حرام قرار دیا تھا۔ لیکن بالآخر جب انھیں بالوضاحت حرمت کی احادیث پہنچیں اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے بھی ان کی بحث ہوئی تو یقین کے ساتھ وہ ان کی حرمت کے قائل ہو گئے تھے۔ فوائد ابن القیم (سنن ابی داود: 3 / 4۔۔۔۔ دارالسلام)۔
سيدنا عبدالله بن عباس رضی اللہ عنہما کے علم وفضل کی بنا پرانھیں «بحر الأمة يا حبر الأمة» کہا: جا تا ہے۔ اور گدھوں کے بارے میں ان کا یہ قول شاہد وضاحت کے ساتھ حدیث نہ پہنچنے کے سبب تھا صحیحین میں شعمی کے حوالے سے ان کا قول مروی ہے کہ مجھے معلوم نہیں کہ خیبر کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وجہ سے گدھوں کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا کہ لوگ سواریوں سے محروم نہ ہو جائیں یا ان کو حرام قرار دیا تھا۔ لیکن بالآخر جب انھیں بالوضاحت حرمت کی احادیث پہنچیں اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے بھی ان کی بحث ہوئی تو یقین کے ساتھ وہ ان کی حرمت کے قائل ہو گئے تھے۔ فوائد ابن القیم (سنن ابی داود: 3 / 4۔۔۔۔ دارالسلام)۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 881 سے ماخوذ ہے۔