حدیث نمبر: 858
858 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا حُصَيْنٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَةٍ»
اردو ترجمہ مسند الحمیدی

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”دم صرف نظر لگنے کا ہوتا ہے یا بچھو کے کاٹنے کا ہوتا ہے۔“

حوالہ حدیث مسند الحميدي / حدیث: 858
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 5705، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 220، 2196، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6104، 6430، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 8365، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 7499، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3884، 3889، والترمذي فى «جامعه» 2056، 2057، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3513، 3516، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 19602، 19611، 19648، 19649، 19650، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 2487 برقم: 12356»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 3884

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ محمد ابراہیم بن بشیر
858- سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کایہ فرمان نقل کرتے ہیں: دم صرف نظر لگنے کا ہوتا ہے یا بچھو کے کاٹنے کا ہوتا ہے۔‏‏‏‏ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:858]
فائدہ:
صحیح بخاری میں یہ موقوفاً ہے۔ نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ نظر لگنے یا بخار کی وجہ سے دم کرانا مسنون ہے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 857 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3884 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´تعویذ لٹکانے کا بیان۔`
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جھاڑ پھونک، نظر بد یا زہریلے ڈنک کے علاوہ کسی اور چیز کے لیے نہیں۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3884]
فوائد ومسائل:
دیگر صحیح روایات میں یہ الفاظ ہیں کہ دم جھاڑ نظرِبد، بخار یا زہریلے ڈنگ میں ہے۔
نیز صحیح احادیث سے ثابت ہو تا ہے کہ دم جھاڑ جو اسمائے الہی اور مسنون دُعائوں میں سے ہوں سبھی امراض میں مفید ہوتے ہیں۔
بد نظری اور زہریلے ڈنگ میں ان کی اہمیت اور تاثیر زیادہ ہوتی ہے.
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3884 سے ماخوذ ہے۔