845 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثني زِيَادُ بْنُ عِلَاقَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أُسَامَةَ بْنَ شَرِيكٍ الْعَامِرِيَّ، قَالَ: شَهِدْتُ الْأَعَارِيبَ يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، هَلْ عَلَيْنَا جُنَاحٌ فِي كَذَا فِي كَذَا؟ فَقَالَ: «عِبَادَ اللَّهِ، وَضَعَ اللَّهُ الْحَرَجَ إِلَّا مَنِ اقْتَرَضَ مِنْ عِرْضِ أَخِيهِ شَيْئًا فَذَلِكَ الَّذِي حَرِجَ وَهَلَكَ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ نَتَدَاوَي؟ قَالَ: «تَدَاوَوْا عِبَادَ اللَّهِ، فَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يُنْزِلْ دَاءً إِلَّا وَقَدْ أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً، إِلَّا الْهَرَمَ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا خَيْرُ مَا أُعْطِيَ الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ؟ قَالَ: «خُلُقٌ حَسَنٌ»سیدنا اسامہ بن شریک عامری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں اس وقت ان دیہاتیوں کے پاس موجود تھا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کر رہے تھے کیا ہم پر اس معاملے میں گناہ ہوگا۔ اس معاملے میں ہوگا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے بندو! ”اللہ تعالیٰ نے حرج کو اٹھا لیا ہے ماسوائے اس شخص کے جو شخص اپنے کسی بھائی کی عزت کے درپے ہوتا ہے، تو یہ چیز ہے، جو حرج میں مبتلا کرتی ہے اور ہلاک کا شکار کر دیتی ہے۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا ہم دوا استعمال کیا کریں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ کے بندو! تم دوا استعمال کیا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جو بھی بیماری نازل کی ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے شفا بھی نازل کی ہے۔ البتہ بڑھاپے کا حکم مختلف ہے۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! بندہ مسلم کو جو چیزیں دی گئی ہیں ان میں سے سب سے بہتر کیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھے اخلاق۔“
تشریح، فوائد و مسائل
اسامہ بن شریک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اعرابیوں (بدوؤں) نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا ہم (بیماریوں کا) علاج کریں؟ آپ نے فرمایا: ” ہاں، اللہ کے بندو! علاج کرو، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے جو بیماری پیدا کی ہے اس کی دوا بھی ضرور پیدا کی ہے، سوائے ایک بیماری کے “، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ کون سی بیماری ہے؟ آپ نے فرمایا: ” بڑھاپا “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الطب عن رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2038]
وضاحت:
1؎:
معلوم ہواکہ مرض کے ساتھ ساتھ رب العالمین نے دوا اور علاج کا بھی بندوبست فرمایا ہے، لیکن بڑھاپا ایسا مرض ہے جس کا کوئی علاج نہیں، یہی وجہ ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ بھی اس سے پناہ مانگتے تھے، یہ بھی معلوم ہواکہ علاج ومعالجہ کرنا مباح ہے اور مرض کی شفاء کے لیے اسباب تلاش کرنا جائز ہے۔
اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ کے اصحاب اس طرح (بیٹھے) تھے گویا ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں، تو میں نے سلام کیا پھر میں بیٹھ گیا، اتنے میں ادھر ادھر سے کچھ دیہاتی آئے اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم دوا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” دوا کرو اس لیے کہ اللہ نے کوئی بیماری ایسی نہیں پیدا کی ہے جس کی دوا نہ پیدا کی ہو، سوائے ایک بیماری کے اور وہ بڑھاپا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3855]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علاج کروانے کی تلقین فرمائی ہے یہ علاج کرنا کروانا توکل کے خلاف نہیں اورخود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمنے بھی علاج کروایا۔
2) بڑھاپا زندگی کا ایک فطری مرحلہ ہے جس میں قویٰ مضحمل ہو جاتے ہیں ا گر بڑھاپا طاری ہو جائے تواس کو واپس نہیں کیا جا سکتا انسان کو بوقت ضرورت ادویہ کا استعمال کرنا چاہیئے تا کہ وہ بالکل ہی عاجز نہ ہو جائے۔
3 صحابہ کرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں انتہائی پر سکون ہو کر بیٹھتے تھے اور یہی ادب طلبہ علم کے لیئے ہے کہ اپنے اساتذہ کے سامنے باادب ہو کر بیٹھا کریں۔
اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اعرابیوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرتے دیکھا کہ کیا فلاں معاملے میں ہم پر گناہ ہے؟ کیا فلاں معاملے میں ہم پر گناہ ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ کے بندو! ان میں سے کسی میں بھی اللہ تعالیٰ نے گناہ نہیں رکھا سوائے اس کے کہ کوئی اپنے بھائی کی عزت سے کچھ بھی کھیلے، تو دراصل یہی گناہ ہے “، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! اگر ہم دوا علاج نہ کریں تو اس میں بھی گناہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ کے بندو! دوا علاج کرو، اس لیے کہ اللہ ت۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3436]
فوائد و مسائل:
(1)
یہ رسول اللہ ﷺ کے حسن اخلاق کا مظہر ہے کہ آپ اسلام میں نئے داخل ہونے والوں کے نامناسب رویے کو خندہ پیشانی سے برداشت کرتے تھے۔
(2)
اسلام کے احکام انسانی فطرت کے مطابق ہیں۔
اس لئے ان میں ایک طرح کی سہولت موجود ہے۔
(3)
عزت میں سے حصہ کاٹنے کامطلب ہے کہ اس کی آبرو ریزی کی یا ایسا کام کیا یا ایسی بات کہی جس سے اس کی عزت میں فرق آئے۔
(4)
بیماری کا علاج کرانا بھی جائز اسباب میں سے ہے۔
جنھیں اختیار کرنے میں کوئی حرج نہیں
(5)
ہر بیماری کا علاج موجو د ہے۔
یہ انسان کی محنت سمجھ اور توجہ پر مبنی ہے کہ مریض بیماری کوسمجھے اور مناسب دوا کاانتخاب کرے۔
(6)
بچپن کے بعد جوانی اور جوانی کے بعد بوڑھاپا اللہ کا بنایا ہوا مستقل نظام ہے۔
اس لئے یہ اپنے وقت پر آتا ہی ہے۔
انسان کو جوانی کی قوتوں سے محروم ہونے سے پہلے نیکیاں کرلینی چاہیے۔
تاکہ بڑھاپے میں حسرت وندامت نہ ہو۔
(7)
خوش اخلاقی انسان کی ایسی خوبی ہے۔
جس سے دنیا میں بھی فائدہ ہوتا ہے اور آخرت میں بھی اس لئے یہ اللہ کاعظیم احسان ہے۔