حدیث کتب › مسند الحميدي ›
حدیث نمبر: 844
844 - وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «الصَّدَقَةُ عَلَي الْمِسْكِينِ صَدَقَةٌ، وَهِيَ عَلَي ذِي الرَّحِمِ الْمِسْكينِ ثِنْتَانِ صَدَقَةٌ وَصِلَةٌ»اردو ترجمہ مسند الحمیدی
(سیدنا سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”غریب کو صدقہ دینا صرف صدقہ دینا ہے اور غریب رشتے دار کو صدقہ دینے میں دو پہلو پائے جاتے ہیں، صدقہ کرنا اور صلہ رحمی کرنا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1844 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´صدقہ و خیرات کی فضیلت کا بیان۔`
سلمان بن عامر ضبی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مسکین و فقیر کو صدقہ دینا (صرف) صدقہ ہے، اور رشتہ دار کو صدقہ دینا دو چیز ہے، ایک صدقہ اور دوسری صلہ رحمی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1844]
سلمان بن عامر ضبی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مسکین و فقیر کو صدقہ دینا (صرف) صدقہ ہے، اور رشتہ دار کو صدقہ دینا دو چیز ہے، ایک صدقہ اور دوسری صلہ رحمی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1844]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل: (1)
زکاۃ اور صدقہ دینے میں اپنے عزیز و اقارب کو زیادہ اہمیت دینی چاہیے۔
(2)
زکاۃ و صدقات جس طرح کسی اجنبی کو دینے سے ادا ہو جاتے ہیں، اسی طرح اپنے عزیز و اقارب کو ادا کرنے سے بھی ادا ہو جاتے ہیں بلکہ زیادہ ثواب کا باعث ہوتے ہیں۔
(3)
جن افراد کا نان و نفقہ شرعاً صدقہ دینے والے کے ذمے ہے، انہیں دینے سے زکاۃ و صدقات ادا نہیں ہوتے، لہٰذا ان کے علاوہ دیگر رشتے داروں کو دینا چاہیے۔
فوائد ومسائل: (1)
زکاۃ اور صدقہ دینے میں اپنے عزیز و اقارب کو زیادہ اہمیت دینی چاہیے۔
(2)
زکاۃ و صدقات جس طرح کسی اجنبی کو دینے سے ادا ہو جاتے ہیں، اسی طرح اپنے عزیز و اقارب کو ادا کرنے سے بھی ادا ہو جاتے ہیں بلکہ زیادہ ثواب کا باعث ہوتے ہیں۔
(3)
جن افراد کا نان و نفقہ شرعاً صدقہ دینے والے کے ذمے ہے، انہیں دینے سے زکاۃ و صدقات ادا نہیں ہوتے، لہٰذا ان کے علاوہ دیگر رشتے داروں کو دینا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1844 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 2583 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´رشتہ داروں کو صدقہ دینے کا بیان۔`
سلمان بن عامر رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ” مسکین کو صدقہ کرنا صرف صدقہ ہے، اور رشتہ دار مسکین کو صدقہ کرنا صدقہ بھی ہے، اور صلہ رحمی بھی۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2583]
سلمان بن عامر رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ” مسکین کو صدقہ کرنا صرف صدقہ ہے، اور رشتہ دار مسکین کو صدقہ کرنا صدقہ بھی ہے، اور صلہ رحمی بھی۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2583]
اردو حاشہ: فقیر قرابت دار اپنے قرب کی وجہ سے زیادہ مستحق ہے، لہٰذا اسے دینے میں دگنا ثواب ہے۔ صدقے کا بھی اور صلہ رحمی کا بھی، مگر جس قرابت دار کے اخراجات کی ذمہ داری زکاۃ دینے والے پر ہے، اسے وہ زکاۃ نہیں دے سکتا، مثلاً: بیوی، بچے، ماں، باپ، البتہ بہن بھائیوں کو، جو الگ رہتے ہوں، زکاۃ دے سکتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2583 سے ماخوذ ہے۔