حدیث نمبر: 839
839 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الْمَلْكِ بْنُ نَوْفَلِ بْنِ مُسَاحِقٍ، أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا مِنْ مُزَيْنَةَ يُقَالُ لَهُ ابْنُ عِصَامٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ سَرِيَّةً، قَالَ: «إِذَا رَأَيْتُمْ مَسْجِدًا، أَوْ سَمِعْتُمْ مُؤَذِّنًا فَلَا تَقْتُلُنَّ أَحَدًا» ، قَالَ: فَبَعَثْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ، فَأَمَرَنَا بِذَلِكَ، فَخَرَجْنَا قِبَلَ تِهَامَةَ، فَأَدْرَكْنَا رَجُلًا يَسُوقُ بِظَعَايِنَ، فَقُلْنَا لَهُ: أَسْلِمْ، فَقَالَ: وَمَا الْإِسْلَامُ؟ فَأَخْبَرْنَاهُ بِهِ، فَإِذَا هُوَ لَا يَعْرِفُهُ، فَقَالَ: أَفَرَأَيْتُمْ إِنْ أَنَا لَمْ أَفْعَلْ فَمَا أَنْتُمْ صَانِعُونَ؟ قَالَ: قُلْنَا: نَقْتُلُكَ، قَالَ: فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْظِرِيَّ حَتَّي أُدْرِكَ الظَّعَايِنَ؟ قُلْنَا: نَعَمْ، وَنَحْنُ مُدْرِكُوكَ، قَالَ: فَأَدْرَكَ الظَّعَايِنَ، فَقَالَ: أَسْلِمِي حُنَيْشُ قَبْلَ نَفَادِ الْعَيْشِ، فَقَالَتِ الْأُخْرَي: أَسْلِمْ عَشْرًا، وَسَبْعًا وِتْرًا، وَثَمَانِيًا تَتْرًا، ثُمَّ قَالَ شِعْرًا: ¤ أَتَذْكُرُ إِذْ طَالَبْتُكُمْ فَوَجُدْتُكُمْ بِحَلْبَةٍ ... أَوْ أَدْرَكْتُكُمْ بِالْخَوَانِقِ ¤ أَلَمْ يَكُ حَقًّا أَنْ يَنُولَ عَاشِقٌ ... تَكَلَّفَ إِدْلَاجَ السُّرَي وَالْوَدَائِقِ ¤ فَلَا ذَنْبَ لِي إِذْ قُلْتُ إِذْ أَهْلُنَا مَعًا ... أَثِيبِي بِوَصْلٍ قَبْلَ إِحْدَي الصَّفَائِقِ ¤ أَثِيبِي بِوَصْلٍ قَبْلَ أَنْ يَشْحَطَ النَّوَي ... وَيَنْأَي الْأَمِيرُ بِالْحَبِيبِ الْمُفَارِقِ ¤ قَالَ: ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْنَا، فَقَالَ: شَأْنَكُمْ، فَقَدَّمْنَاهُ وَضَرَبْنَا عُنُقَهُ، وَانْحَدَرَتِ الْأُخْرَي مِنْ هَوْدَجِهَا امْرَأَةٌ أَدْمَاءُ بِحَصٍّ، فَجَثَتْ عَلَيْهِ حَتَّي مَاتَتْ ¤
اردو ترجمہ مسند الحمیدی

عبدالملک بن نوفل بیان کرتے ہیں: انہوں نے مزینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب جن کا نام ابن عصام تھا انہیں یہ بیان کرتے ہوئے سنا: انہوں نے اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مہم کو روانہ کرتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ ارشاد فرماتے تھے: ”جب تم (کسی علاقے میں) کوئی مسجد دیکھو یا تم مؤذن کو سنو تو وہاں کسی کو قتل نہ کرنا۔“ راوی بیان کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک مہم پر روانہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہی ہدایت کی ہم تہامہ کی سمت روانہ ہوئے وہاں ہمیں ایک شخص ملا جو کچھ خواتین کو لے جا رہا تھا ہم نے اس سے کہا: تم اسلام قبول کر لو اس نے دریافت کیا: اسلام سے مراد کیا ہے؟ ہم نے اسے اس بارے میں بتایا تو وہ اس سے واقف نہیں تھا۔ وہ بولا: اگر میں ایسا نہیں کرتا تو پھر تمہارا کیا خیال ہے، پھر تم لوگ کیا کرو گے؟ راوی کہتے ہیں: ہم نے کہا: ہم تمہیں قتل کر دیں گے۔ وہ بولا: کیا تم میرا انتظار کرو گے؟ میں ان خواتین تک جاؤں۔ ہم نے کہا: ٹھیک ہے ہم تم تک پہنچ جائیں گے۔ راوی کہتے ہیں: وہ ان خواتین کے پاس گیا اور بولا: ”حبیش“ تم اسلام قبول کر لو۔ اس سے پہلے کہ زندگی ختم ہو جائے، تو ایک دوسری عورت بولی: تم دس لوگ اسلام قبول کرو، سات لوگ کرو جو طاق ہوتے ہیں، یا آٹھ کرو جو یکے بعد دیگرے ہوتے ہیں۔ پھر اس شخص نے یہ پڑھا۔ ”کیا تمہیں وہ دن یاد ہے، جب میں تمہاری تلاش میں نکلا تھا، تو میں نے تمہیں ”حلیہ“ کے مقام پر پایا تھا یا میں نے تمہیں ”خوانق“ کے مقام پر پایا تھا کیا یہ بات لازمی نہیں تھی کہ عشق کرنے والے کو رات کے وقت کے سفر اور تپتی ہوئی دوپہر کے سفر کا معاوضہ دیا جائے میں نے جو کہا ہے اس پر مجھے کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ اگر میری بیوی میرے ساتھ ہو اور وہ مجھے غسل کی اجازت دے دے اس سے پہلے کہ حادثات میں کوئی ایک حادثہ لاحق ہو جائے۔ وہ مجھے وصل کی اجازت دے دے اس سے پہلے کہ گھر دور ہو جائے اور حاکم محبوب کے بارے میں علیحدگی کا حکم دے دے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: پھر وہ شخص ہمارے پاس آیا اور بولا: اب تم اپنا کام کر لو آگے بڑھے اور ہم نے اس کی گردن اڑا دی تو ایک عورت اپنے ہودج سے تیزی سے نیچے آئی وہ انتہائی گندمی رنگت کی مالک تھی وہ آ کر اس پر گری اور وہ بھی فوت ہو گئی۔

حوالہ حدیث مسند الحميدي / حدیث: 839
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف إبن عصام المزني مجهول وأخرجه النسائي فى «الكبریٰ» برقم: 8780، 8787، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2635، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1549، والبيهقي فى«سننه الكبير»برقم: 18305، 18697، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 15955، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 33749، والطبراني فى "الكبير" برقم: 467»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 1549 | سنن ابي داود: 2635

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1549 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´جہاد سے متعلق ایک اور باب۔`
عصام مزنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی لشکر یا سریہ بھیجتے تو ان سے فرماتے: جب تم کوئی مسجد دیکھو یا مؤذن کی آواز سنو تو کسی کو نہ مارو ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب السير/حدیث: 1549]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی جب اسلام کی کوئی علامت اورنشانی نظر آجائے تواس وقت تک حملہ نہ کیاجائے جب تک مومن اور کافر کے درمیان فرق واضح نہ ہوجائے۔

نوٹ:
(سند میں ’’عبد الملک بن نوفل‘‘ لین الحدیث، اور ’’ابن عصام‘‘ مجہول راوی ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1549 سے ماخوذ ہے۔