حدیث نمبر: 827
827 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ أَبِي صَفِيَّةَ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ زَاذَانَ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّحْدُ لَنَا، وَالشَّقُّ لِغَيْرِنَا»
اردو ترجمہ مسند الحمیدی

سیدنا جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا۔ ”(قبر بناتے ہوئے) لحد کا طریقہ ہمارے لیے ہے اور شق کا طریقہ دوسروں کے لیے ہے۔“

حوالہ حدیث مسند الحميدي / حدیث: 827
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لضعف ثابت بن أبى صفية ، ولكنه صحيح بطرقه و شواهده أخرجه ابن ماجه فى «سننه» ، برقم: 1555، والبيهقي فى«سننه الكبير»، برقم: 6820، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 19465 برقم: 19466، وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» ، برقم: 11748، وأخرجه الطبراني فى «الكبير» ، برقم: 2328»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 1555

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1555 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´بغلی قبر (لحد) کے مستحب ہونے کا بیان۔`
جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بغلی قبر (لحد) ہمارے لیے ہے، اور صندوقی اوروں کے لیے ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1555]
اردو حاشہ:
فائدہ: یہ روایت معناً صحیح ہے۔
بلکہ بعض حضرات کے نزدیک سنداً بھی صحیح ہے۔
تفصیل کے لئے گزشتہ حدیث کے فوائد ملاحظہ ہوں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1555 سے ماخوذ ہے۔