حدیث کتب › مسند الحميدي ›
حدیث نمبر: 802
802 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ يَنَاقٍ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ لَقيَ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ، فَجَعَلَ يَسْتَذْكِرُهُ حَدِيثًا، فَقَالَ: كَيْفَ حَدَّثْتَنِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لَحْمِ الصَّيْدِ؟ فَذَكَرَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَ حَدِيثِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَاردو ترجمہ مسند الحمیدی
طاؤس بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو دیکھا۔ ان کی ملاقات سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو انہوں نے سیدنا زید رضی اللہ عنہ کو حدیث یاد کروائی، اور بولے: آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث مجھے کیسے سنائی تھی؟ جو شکار کے گوشت کے بارے میں ہے، تو سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے ان کے سامنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اس کی مانند روایت نقل کی، جیسی روایت سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 2823 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´کس طرح کا شکار کھانا محرم کے لیے ناجائز ہے؟`
عطاء سے روایت ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ کو معلوم نہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی شکار کا کوئی عضو ہدیہ بھیجا گیا، اور آپ محرم تھے تو آپ نے اسے قبول نہیں کیا، انہوں نے کہا: جی ہاں، (ہمیں معلوم ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2823]
عطاء سے روایت ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ کو معلوم نہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی شکار کا کوئی عضو ہدیہ بھیجا گیا، اور آپ محرم تھے تو آپ نے اسے قبول نہیں کیا، انہوں نے کہا: جی ہاں، (ہمیں معلوم ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2823]
اردو حاشہ: یہ روایت دلالت کرتی ہے کہ وہ جانور زندہ آپ کی خدمت میں پیش نہیں کیا گیا تھا بلکہ ذبح شدہ جانور کا ٹکڑا پیش کیا گیا تھا۔ احناف کہتے ہیں کہ آپ نے اس لیے واپس فرما دیا کہ اس نے زندہ شکار پیش کیا تھا۔ اور ذبح کرنا محرم کے لیے جائز نہیں تھا، حالانکہ اگر یہی بات ہوتی تو آپ فرما سکتے تھے کہ تم ذبح کر کے لاؤ۔ اس روایت سے احناف کی تردید ہوتی ہے۔ صحیح بات حدیث نمبر 2821 میں گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2823 سے ماخوذ ہے۔