799 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: وَسُئِلَ عَنْ أَهْلِ الدَّارِ مِنَ الْمُشْرِكِينَ يَبِيتُونَ، فَيْصَابُ مِنْ نِسَائِهِمْ وَذَرِارِيِّهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هُمْ مِنْهُمْ» قَالَ سُفْيَانُ: وَكَانَ عَمْرٌو حَدَّثَنَاهُ أَوَّلَا، عَنِ الزُّهْرِيِّ، فَقَالَ فِيهِ: «هُمْ مِنْ آبَائِهِمْ» فَلَمَّا جَاءَنَا الزُّهْرِيُّ تَفَقَدْتُهُ فَلَمْ يَقُلْ إِلَّا: «هُمْ مِنْهُمْ»سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں۔ سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بتائی ہے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی علاقے کے رہنے والے مشرکین کے بارے میں دریافت کیا گیا: جن پر رات کے وقت حملہ کیا جاتا ہے، اور اس میں ان کی خواتین اور بچے مارے جاتے ہیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ لوگ ان کا حصہ ہیں۔“ سفیان کہتے ہیں۔ عمر و نامی راوی نے پہلے یہ روایت زہری کے حوالے سے سنائی تھی۔ اور اس میں یہ الفاظ نقل کیے تھے۔ ”وہ اپنے آباؤ اجداد میں سے ہیں۔“ لیکن جب ہمارے پاس زہری تشریف لائے، تو یہ الفاظ میں نے ان سے نہیں سنے۔ انہوں نے صرف یہی الفاظ بیان کیے۔ ”وہ ان کا حصہ ہیں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
جہاد میں خواتین اور بچوں کوقتل کرنا منع ہے۔ [صحيح البخاري 3015] اسی طرح بوڑھوں کو بھی قتل سے منع کیا گیا ہے۔ لیکن اگر دار الحرب والوں پر شب خون مارا جائے اور (اس میں بغیر کسی ارادے کے) ان کے بچے اور اولاد ہلاک ہو جائیں تو ان کا وہی حکم ہوگا، کیونکہ رات کو اندھیرے میں بچوں اور خواتین کی تمیز مشکل ہو جاتی ہے۔ ایسی صورت میں اگر بچے، بوڑھے یا خواتین مارے جائیں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کے گھروں کے بارے میں پوچھا کہ اگر ان پر شب خون مارا جائے اور ان کے بچے اور بیوی زخمی ہوں (تو کیا حکم ہے؟)، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” وہ بھی انہیں میں سے ہیں “ اور عمرو بن دینار کہتے تھے: ” وہ اپنے آباء ہی میں سے ہیں۔“ زہری کہتے ہیں: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرما دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2672]
عورتوں اور بچوں کو عمدا ًقتل کرنا منع ہے۔
اور شب خون وغیرہ میں جب تمیز کرنا مشکل ہو تو معاف ہے۔
یا جب بڑوں تک پہنچنے کےلئے ان کو قتل کرنا پڑے تو جائز ہے۔
شیخ البانی فرماتے ہیں کہ رسول للہ ﷺ نےاس کے بعد عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرما دیا تھا کے الفاظ صحیح نہیں ہیں۔