مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 794
794 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جُنْدُبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيَّ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي غَارٍ فَنَكِبَتْ إِصْبَعُهُ، فَقَالَ: «هَلْ أَنْتِ إِلَّا إِصْبَعٌ دَمِيتِ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا لَقِيتِ»
اردو ترجمہ مسند الحمیدی

سیدنا جندب بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں غزوہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی مبارک زخمی ہوئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ شعر پڑھا۔ ”تم صرف ایک انگلی ہو، جو خون آلود ہوئی ہو تمہیں اللہ کی راہ میں اس صورت حال کا سامنا کرنا پڑا ہے۔“

حوالہ حدیث مسند الحميدي / حدیث: 794
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 2802 | صحيح مسلم: 1796 | سنن ترمذي: 3345

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ محمد ابراہیم بن بشیر
794- سیدنا جندب بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں غاز میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی مبارک زخمی ہوئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ شعر پڑھا۔ تم صر ف ایک انگلی ہو، جو خون آلود ہوئی ہو تمہیں اللہ کی راہ میں اس صورت حال کا سامنا کرناپڑا ہے۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:794]
فائدہ:
یہاں حدیث مختصر ہے جبکہ سنن ابی داود: 2499 میں اس میں اضافہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی کو مخاطب کر کے فرمایا: تو صرف خون آلود ہوئی ہے، ہلاک نہیں ہوئی اور نہ ہی کٹ کر جسم سے علیحدہ ہوئی ہے، تیرا زخمی ہونا بھی اللہ کے راستے میں ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ جہاد فی سبیل اللہ میں زخم کی بھی بڑی فضیلت ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس کی اہمیت کو واضح کرنے کے لیے باب قائم کیا ہے: جو شخص اللہ کی راہ میں زخمی ہو جائے یا اسے نیزہ مارا جائے۔ (صحیح البخاری قبل ح 2801) نیز اس سے آگے باب قائم کیا ہے جو اللہ کی راہ میں زخمی ہوا (اس کی فضیلت کا بیان) (صحيح البخاری قبل ح 2804)
اللہ تعالیٰ ہمیں شہادت کی موت عطا فرمائے۔ آمین
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 794 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2802 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
2802. حضرت جندب بن سفیان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کسی جنگ میں شریک تھے کہ آپ کی انگشت مبارک خون آلود ہوگئی۔ آپ نے اسے مخاطب ہوکر فرمایا: ’’اے انگلی! ہے تیری ہستی یہی۔۔۔ جو اللہ کی راہ میں زخمی ہوئی۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2802]
حدیث حاشیہ: ایک انگلی ہے تیری ہستی یہی جو خدا کی راہ میں زخمی ہوئی
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2802 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2802 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
2802. حضرت جندب بن سفیان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کسی جنگ میں شریک تھے کہ آپ کی انگشت مبارک خون آلود ہوگئی۔ آپ نے اسے مخاطب ہوکر فرمایا: ’’اے انگلی! ہے تیری ہستی یہی۔۔۔ جو اللہ کی راہ میں زخمی ہوئی۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2802]
حدیث حاشیہ:

رسول اللہ ﷺ نے اپنی انگلی کو مخاطب ہوکرفرمایا: ’’تو صرف خون آلود ہوئی ہے،ہلاک نہیں ہوئی اور نہ ہی کٹ کر جسم سے علیحدہ ہوئی ہے،تیرا زخمی ہونا بھی اللہ کے راستے میں ہے۔
‘‘ 2۔
اس عنوان سے امام بخاری ؒ نے آئندہ باب میں پیش کردہ حدیث کی طرف اشارہ کیا ہے جس میں خون آلودہ ہونے کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔
اس کے علاوہ ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو اللہ کے راستے میں نکل کھڑا ہواور اسے گھوڑے نے گرادیا،یاکسی زہریلی چیز نے ڈس لیا یا کسی بیماری کی وجہ سے اسے موت آگئی تو اس کا شمار شہداء میں ہوگا۔
‘‘ (سنن أبي داود، الجھاد، حدیث 2499)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2802 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3345 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´سورۃ والضحی سے بعض آیات کی تفسیر۔`
جندب بجلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غار میں تھا، آپ کی انگلی سے (کسی سبب سے) خون نکل آیا، اس موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو صرف ایک انگلی ہے جس سے خون نکل آیا ہے اور یہ سب کچھ جو تجھے پیش آیا ہے اللہ کی راہ میں پیش آیا ہے ، راوی کہتے ہیں: آپ کے پاس جبرائیل علیہ السلام کے آنے میں دیر ہوئی تو مشرکین نے کہا: (پروپگینڈہ کیا) کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) چھوڑ دئیے گئے، تو اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے (سورۃ والضحیٰ کی) آیت «ما ودعك ربك وما قلى» نہ تو تیرے رب نے تجھے چھوڑا ہے ا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3345]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
نہ تو تیرے رب نے تجھے چھوڑا ہے اور نہ بیزار ہوا ہے (الضحیٰ: 3) (وحی میں یہ تاخیرکسی وجہ سے ہوئی تھی)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3345 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔