حدیث کتب › مسند الحميدي ›
مسند الحميدي
— سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے منقول روایات
باب: (نماز میں ہاتھ گھٹنوں کے درمیان رکھنے کی ممانعت)
حدیث نمبر: 79
79 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا أَبُو يَعْفُورَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ صَلَّيْتُ إِلَي جَنْبِ أَبِي فَطَبَّقْتُ فَنَهَانِي وَقَالَ «قَدْ كُنَّا نَفْعَلُهُ فَنُهِينَا يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»اردو ترجمہ مسند الحمیدی
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے مصعب بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے والد کے پہلو میں نماز ادا کی، تو میں نے اپنے دونوں ہاتھ گھٹنوں کے درمیان رکھ لیے انہوں نے مجھے ایسے کرنے سے منع فرمایا اور ارشاد فرمایا: ہم پہلے ایسے کیا کرتے تھے، پھر ہمیں اس سے منع کر دیا گیا (یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کر دیا)۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ محمد ابراہیم بن بشیر
79- سیدنا سعد بن ابی وقاص کے صاحبزادے مصعب بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے والد کے پہلو میں نماز ادا کی، تو میں نے اپنے دونوں ہاتھ گھٹنوں کے درمیان رکھ لئے انہوں نے مجھے ایسے کرنے سے منع فرمایا اور ارشاد فرمایا: ہم پہلے ایسے کیا کرتے تھے، پھر ہمیں اس سے منع کردیا گیا (یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کردیا) [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:79]
فائدہ:
تطبیق کا مفہوم یہ ہے کہ رکوع میں دونوں ہاتھوں کو ملاکر انگلیوں میں انگلیاں ڈال کر رانوں کے درمیان رکھنا۔ پہلے رکوع اس طرح کیا جاتا تھا لیکن پھر یہ طریقہ منسوخ ہو گیا، اور اب رکوع کی حالت میں دونوں ہاتھوں کو گھٹنوں پر اس طرح رکھا جائے جس طرح گھٹنوں کو پکڑا جا تا ہے۔ (سنن ابی داود: 730، سندہ صحیح - جامع ترمذی: 304)
تطبیق کا مفہوم یہ ہے کہ رکوع میں دونوں ہاتھوں کو ملاکر انگلیوں میں انگلیاں ڈال کر رانوں کے درمیان رکھنا۔ پہلے رکوع اس طرح کیا جاتا تھا لیکن پھر یہ طریقہ منسوخ ہو گیا، اور اب رکوع کی حالت میں دونوں ہاتھوں کو گھٹنوں پر اس طرح رکھا جائے جس طرح گھٹنوں کو پکڑا جا تا ہے۔ (سنن ابی داود: 730، سندہ صحیح - جامع ترمذی: 304)
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 79 سے ماخوذ ہے۔