779 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مُطَرِّفُ بْنُ طَرِيفٍ، وَعَبْدُ الْمَلْكِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبْجَرَ، جَمِيعًا سَمِعَا الشَّعْبِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ عَلَي الْمِنْبَرِ يَرْفَعُهُ إِلَي النَّبِيِّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " أَنَّ مُوسَي سَأَلَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ: أَيْ رَبِّ أَيُّ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَدْنَي مَنْزِلَةً؟ فَقَالَ: رَجُلٌ يَجِيءُ بَعْدَمَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ، فَيُقَالُ لَهُ: ادْخُلْ وَقَدْ نَزَلُوا مَنَازِلَهُمْ، وَأَخَذُوا أَخَذَاتِهِمْ، قَالَ: فَيُقَالُ لَهُ: أَتَرْضَي أَنْ يَكُونَ لَكَ مِثْلُ مَا كَانَ لِمَلِكٍ مِنْ مِلُوكِ الدُّنْيَا؟ قَالَ: فَيَقُولُ: نَعَمْ، أَيْ رَبِّ قَدْ رَضِيتُ، قَالَ: فَيُقَالُ لَهُ: فَإِنَّ لَكَ هَذَا وَمِثْلَهُ وَمِثْلَهُ وَمِثْلَهُ وَمِثْلَهُ، قَالَ: فَيَقُولُ: رَضِيتُ أَيْ رَبِّ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ: فَإِنَّ لَكَ هَذَا وَعَشْرَةَ أَمْثَالِهِ مَعَهُ، فَيَقُولُ: رَضِيتُ أَيْ رَبِّ، قَالَ: فَيُقَالَ لَهُ: فَإِنَّ لَكَ مَعَ هَذَا مَا اشْتَهَتْ نَفْسُكَ، وَلَذَّتْ عَيْنُكَ، فَقَالَ مُوسَي: أَيْ رَبَّ، فَأَيُّ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَرْفَعُ مَنْزِلَةً؟ قَالَ: إِيَّاهَا أَرَدْتَ، وَسَأُحَدِّثُكَ عَنْهُمْ، إِنِّي غَرَسْتُ كَرَامَتَهُمْ بِيَدِي، وَخَتَمْتُ عَلَيْهَا، فَلَا عَيْنٌ رَأَتْ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ، وَلَا خَطَرَ عَلَي قَلْبِ بَشَرٍ " قَالَ: وَمِصْدَاقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: ﴿ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ﴾ الْآيَةَسیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے منبر تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک ”مرفوع“ حدیث کے طور پر یہ بات بیان کی: ”سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اپنے پروردگار سے سوال کیا۔ انہوں نے عرض کی۔ اے میرے پروردگار! جنت میں قدر و منزلت کے اعتبار سے سب سے کم مرتبے کا شخص کون ہوگا؟“ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”وہ ایک ایسا شخص ہوگا، جو اس کے بعد آئے گا، جب اہل جنت، جنت میں داخل ہو چکے ہوں گے، تو اسے کہا جائے گا: تم جنت میں داخل ہو جاؤ۔ حالانکہ اہل جنت اپنی، اپنی جگہ پر پہنچ چکے ہوں گے۔ اور انہوں نے اپنی مخصوص جائے قیام پر پڑاؤ کر لیا ہوگا، تو اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تمہیں (جنت میں) اتنی جگہ مل جائے، جو دنیا میں کسی بادشاہ کے پاس ہوتی تھی؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ ”وہ شخص عرض کرے گا۔ اے میرے پروردگار! جی ہاں! میں اس سے راضی ہوں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، تو اس سے کہا جائے گا: ”تمہیں یہ اور اس کی مانند (مزید) اور اس کی مانند (مزید) اور اس کی مانند (مزید) اور اس کی مانند (مزید) جگہ ملتی ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”وہ شخص عرض کرے گا۔ اے میرے پروردگار! میں راضی ہوں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، تو اس شخص سے کہا جائے گا۔ ”تمہیں یہ بھی ملتی ہے اور اس کے ساتھ اس کی دس گنا (مزید جگہ بھی) ملتی ہے“، تو وہ عرض کرے گا: ”اے میرے پروردگار! میں راضی ہوں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ ”اس سے کہا جائے گا: اس کے ساتھ تمہیں وہ سب کچھ ملے گا، جس کی تمہارے نفس کو خواہش ہے اور جس سے تمہاری آنکھوں کو لذت حاصل ہوتی ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی۔ ”اے پروردگار! جنت میں سب سے بلند ترین مرتبہ کس کا ہوگا؟“، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”تم اس کا ارادہ رکھتے ہو؟ میں تمہیں ان لوگوں کے بارے میں بتاتا ہوں۔ میں نے اپنے دست قدرت کے ذریعے ان کی کرامت کا پودا لگایا ہے اور میں نے اس پر مہر لگا دی ہے، تو کسی آنکھ نے اسے دیکھا نہیں، کسی کان نے اس کے بارے میں سنا نہیں اور کسی انسان کے ذہن میں اس کا خیال تک نہیں آیا ہوگا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی کتاب میں اس کی تائید موجود ہے (ارشاد باری تعالیٰ ہے) «فَلا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ» (32-السجدة:14) ”کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا کچھ پوشیدہ رکھا گیا ہے؟“
تشریح، فوائد و مسائل
اس حدیث میں کم تر جنتی کی جنت کا ذکر ہے سبحان اللہ۔ اللہ تعالیٰ کس قدر اپنے بندوں سے محبت کرتا اور کتنا فیاض ہے میرا رب۔ اس حدیث میں ادنٰی جنتی پر رب کے انعامات کا ذکر ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ افضل جنتی کی جنت کے کیا کہنے۔ اے اللہ تعالیٰ ہم فقیروں کو، ہمارے اساتذہ اور والدین اور اہل وعیال کو بھی جنت الفردوس عطافرما۔ آمین
شعبی کہتے ہیں: میں نے مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کو منبر پر کھڑے ہو کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، آپ نے فرمایا: " موسیٰ علیہ السلام نے اپنے رب سے پوچھتے ہوئے کہا: اے میرے رب! کون سا جنتی سب سے کمتر درجے کا ہو گا؟ اللہ فرمائے گا: جنتیوں کے جنت میں داخل ہو جانے کے بعد ایک شخص آئے گا، اس سے کہا جائے گا: تو بھی جنت میں داخل ہو جا، وہ کہے گا: میں کیسے داخل ہو جاؤں جب کہ لوگ (پہلے پہنچ کر) اپنے اپنے گھروں میں آباد ہو چکے ہیں اور اپنی اپنی چیزیں لے لی ہیں "، آپ نے فرمایا: " اس سے کہا جائے گا: دنیا کے بادشاہوں میں۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3198]
وضاحت:
1؎:
مؤلف نے یہ حدیث مذکورہ آیت ہی کی تفسیر میں ذکر کی ہے۔