حدیث نمبر: 77
77 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَهِيكٍ قَالَ: لَقِيَنِي سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ فِي السُّوقِ فَقَالَ: اتِّجَارُ كَسْبَةٍ اتِّجَارُ كَسْبَةٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ»
اردو ترجمہ مسند الحمیدی

عبداللہ بن ابونہیک بیان کرتے ہیں: سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی بازار میں مجھ سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے فرمایا: کیا تاجر لوگ کمائی کرنے والے ہیں؟ کیا تاجر لوگ کمائی کرنے والے ہیں؟ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص قرآن خوش الحانی سے نہیں پڑھتا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔“

حوالہ حدیث مسند الحميدي / حدیث: 77
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «في إسناده عنعنة ابن جريج وأخرجه الحاكم : 569/1 برقم: 2100-2105، وانظر الحديث سابق»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ محمد ابراہیم بن بشیر
77- عبداللہ بن ابونہیک بیان کرتے ہیں: سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی بازار میں مجھ سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے فرمایا: کیا تاجر لوگ کمائی کرنے والے ہیں؟ کیا تاجر لوگ کمائی کرنے والے ہیں؟ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے، جو شخص قرآن خوش الحانی سے نہیں پڑھتا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:77]
فائدہ:
ان دونوں احادیث (حدیث نمبر: 76، 77) میں ایک مسئلہ بیان ہوا ہے کہ قرآن مجید کو اونچی آواز میں پڑھنا چاہیے۔ اس فن کو علم تجوید کہتے ہیں۔ اس کے متعلق امام جزری فرماتے ہیں: اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ جس طرح امت مسلمہ کے لیے قرآن مجید کے معانی کا جاننا اور حدود کا قائم رکھنا ضروری ہے، بعینہٖ قرآن مجید کے الفاظ کی تشریح اور حروف کو ان صفات کی ادائیگی کے ساتھ ادا کرنا بھی ضروری ہے جو صفات ائمہ قراء نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے متصل سند کے ساتھ حاصل کی ہیں، ان کی مخالفت کسی صورت بھی جائز نہیں ہے۔ یہاں پر ایک تنبیہ ضروری ہے کہ بعض پیشہ ور قراء تکلف اور غلط انداز میں قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہیں۔ جو کہ درست نہیں ہے، واللہ اعلم بالصواب۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 77 سے ماخوذ ہے۔