761 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو صَالِحٍ السَّمَّانُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمُ، وَالدِّينَارُ بِالدِّينَارِ، مِثْلَا بِمِثْلٍ، لَيْسَ بَيْنَهُمَا فَضْلٌ» ، فَقُلْتُ لِأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: فَإِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ لَا يَرَي بِهِ بَأْسًا ¤ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: قَدْ لَقِيتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقُلْتُ لَهُ: أَخْبِرْنِي عَنْ هَذَا الَّذِي تَقُولُ، أَشَيْءٌ وَجَدْتَهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ؟ أَوْ شَيْءٌ سَمِعْتَهُ مَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: مَا وَجَدْتُهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ، وَلَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَأَنْتُمْ أَعْلَمُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِّي، وَلَكِنْ أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ»سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”درہم کے عوض میں درہم اور دینار کے عوض میں دینار کا برابر، برابر لین دین کیا جائے گا۔ اور اس میں کوئی اضافی ادائیگی نہیں ہوگی۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے گزارش کی سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما تو اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے ہیں۔ پھر سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بولے: میری سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ملاقات ہوئی تھی۔ میں نے ان سے کہا: آپ مجھے اس کے بارے میں بتائیے جو آپ کہتے ہیں: کیا آپ نے اس بارے میں اللہ کی کتاب میں کوئی حکم پایا ہے؟ یا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی اس بارے میں کوئی بات سنی ہے؟ انہوں نے بتایا: میں نے اللہ کی کتاب میں اس بارے میں کوئی حکم نہیں پایا ہے اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی بھی کوئی بات نہیں سنی۔ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں مجھ سے زیادہ جانتے ہیں تاہم سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بتائی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”سود، ادھار میں ہوتا ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ جب ایک جنس کا باہمی تبادلہ ہو تو وزن میں برابر اور نقد بنقد ہونا چاہیے لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا مؤقف اس کے الٹ تھا۔ وہ فرمایا کرتے تھے کہ دست بدست ایک دینار کو دو دینار کے عوض فروخت کیا جا سکتا ہے ان کے نزدیک سود صرف اس وقت ہوتا ہے جب ایک طرف سے ادھار ہو۔
سیدنا ابوسعید خدری نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو سمجھایا تو ابن عباس رضی اللہ عنہا نے اپنے مؤقف سے رجوع کر لیا۔ رجوع کے بعد سيدنا عبدالله بن عباس رضی اللہ عنہما بھی سختی سے منع کرتے تھے۔ [مستدرك حاكم: 43/2]
اختلاف کی صورت میں احترام کو لازم پکڑنا چاہیے اور دلیل کی بناء پر فیصلہ کرنا چاہیے عمر یا اکثریت کی بناء پر نہیں۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ درہم کو درہم سے، اور دینار کو دینار سے برابر برابر بیچنا چاہیئے، تو میں نے ان سے کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو کچھ اور کہتے سنا ہے، ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے جا کر ملا، اور میں نے ان سے کہا: آپ بیع صرف کے متعلق جو کہتے ہیں مجھے بتائیے، کیا آپ نے کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ کتاب اللہ (قرآن) میں اس سلسلہ میں آپ کو کوئی چیز ملی ہے؟ اس پر وہ بولے: نہ تو میں نے اس کو کتاب اللہ (قرآن) میں پایا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2257]
فوائد و مسائل:
(1)
سونے کا چاندی سے یا چاندی کا سونے سے تبادلہ دست بدست ہونا چاہیے۔
(2)
مختلف ممالک کی کرنسی کا تبادلہ بھی موجود شرح کے مطابق ہاتھوں ہاتھ ہونا چاہیے۔
اگر کوئی کہے کہ میرے پاس امریکی ڈالر ہیں اور میں ان کے بدلے سعودی ریال لینا چاہتا ہوں، ‘ دوسرا شخص کہے کہ مجھے ڈالر دے دو، میں ان کے بدلے میں اتنے ریال تمہیں کل دے دوں گا، یہ درست نہیں۔
(3)
صحابہ کرام ؓ حدیث کو حجت سمجھتے تھے، اور جو حدیث رسول اللہ ﷺ سے براہ راست نہ سنی ہو بلکہ کسی دوسرے شخص کے واسطے سے پہنچے اس پر عمل کرنا بھی ضروری سمجھتے تھے۔
(4)
سود صرف ادھار میں ہوتا ہے‘ یہ اس صورت میں ہے جب تبادلہ کی جانے والی اشیاء مختلف اجناس سے تعلق رکھتے ہوں‘ مثلاً: سونا اور چاندی، یا گندم اور کھجور۔
ان کا باہمی تبادلہ کمی بیشی کے ساتھ درست ہے۔
ایک گرام سونے کے بدلے میں دس پندرہ گرام چاندی کا تبادلہ یا ایک من گندم کے بدلے میں دو من جو کا تبادلہ جائز ہے بشرطیکہ دونوں طرف سے نقد ادائیگی ہو ایک ہی چیز کا تبادلہ کمی بیشی کے ساتھ نقد بھی درست نہیں۔
ایک من اچھی گندم کے بدلے میں دو من ہلکی قسم کی گندم لینا دینا جائز نہیں اگرچہ دونوں طرف سے گندم فوراً ادا کر دی جائے۔
اس حدیث میں سود کی ایک قسم کا بیان ہے، اور وہ ادھار میں سود ہے، اس کی ایک شکل یہ بنتی ہے کہ نقد قیمت اور ہو اور ادھار اور ہو، یہ واضح سود ہے۔ موجودہ دور میں سود کے نئے نئے نام سامنے آ رہے ہیں، وہ حقیقت میں سود ہی ہیں، لیکن ان کے نام تبدیل کر دیے گئے ہیں، یہ ایک لعنت ہے، اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس سے محفوظ فرماۓ، آمین۔