حدیث کتب › مسند الحميدي ›
حدیث نمبر: 756
756 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو عُمَيْرٍ الْحَارِثُ بْنُ عُمَيْرٍ، أَنَّهُمَا سَمِعَا مِنْ أَبِي طُوَالَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ نَهَّارٍ الْعَبْدِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ اللَّهَ لَيَسْأَلُ الْعَبْدَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّي يَقُولَ: مَا مَنَعَكَ إِذَا رَأَيْتَ الْمُنْكَرِ فِي الدُّنْيَا أَنْ تَكْرَهَ، فَإِذَا لَقَّنَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَبْدَهُ حُجَّتَهُ، قَالَ: يَا رَبِّ رَجَوْتُكَ وَخِفْتُ النَّاسَ "اردو ترجمہ مسند الحمیدی
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت بیان کرتے ہیں، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”بے شک اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بندے سے سوال کرے گا اور فرمائے گا تمہیں کس بات نے روک لیا تھا کہ، جب تم نے دنیا میں منکر چیز کو دیکھا تو تم نے اس کا انکار کیوں نہیں کیا؟ پھر اللہ تعالیٰ بندے کو اس کی دلیل کی تلقین کرے گا، تو وہ بندہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! میں نے تجھ سے امید رکھی اور میں لوگوں سے خوفزدہ ہو گیا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 4017 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ”مومنوں اپنی جانیں بچاؤ“۔`
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ” اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بندے سے سوال کرے گا یہاں تک کہ وہ پو چھے گا کہ تم نے جب خلاف شرع کام ہوتے دیکھا تو اسے منع کیوں نہ کیا؟ تو جب اس سے کوئی جواب نہ بن سکے گا تو اللہ تعالیٰ خود اس کو جواب سکھائے گا اور وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! میں نے تیرے رحم کی امید رکھی، اور لوگوں کا خوف کیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4017]
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ” اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بندے سے سوال کرے گا یہاں تک کہ وہ پو چھے گا کہ تم نے جب خلاف شرع کام ہوتے دیکھا تو اسے منع کیوں نہ کیا؟ تو جب اس سے کوئی جواب نہ بن سکے گا تو اللہ تعالیٰ خود اس کو جواب سکھائے گا اور وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! میں نے تیرے رحم کی امید رکھی، اور لوگوں کا خوف کیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4017]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اللہ تعالی بعض اوقات کسی نیکی کی وجہ سے گناہ معاف فرمادیتا ہے۔
(2)
جسے اللہ تعالی معاف فرمانا چاہے گا۔
اس کے دل میں صحیح جواب ڈال دے گا۔
(3)
اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے لیکن اس پر اعتماد کرکے گناہوں میں بے باک ہوجانا اور نیکیوں کے بارے بے پروا ہوجانا سراسر گمراہی ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
اللہ تعالی بعض اوقات کسی نیکی کی وجہ سے گناہ معاف فرمادیتا ہے۔
(2)
جسے اللہ تعالی معاف فرمانا چاہے گا۔
اس کے دل میں صحیح جواب ڈال دے گا۔
(3)
اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے لیکن اس پر اعتماد کرکے گناہوں میں بے باک ہوجانا اور نیکیوں کے بارے بے پروا ہوجانا سراسر گمراہی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4017 سے ماخوذ ہے۔