754 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثني الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ، مَوْلَي الْحُرَقَةِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، يَقُولُ: أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، فَسَأَلْتُهُ هَلْ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْإِزَارِ شَيْئًا؟ فَقَالَ: نَعَمْ، تَعَلَّمْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «إِزْرَةُ الْمُؤْمِنِ إِلَي أَنْصَافِ سَاقَيْهِ، لَا جُنَاحَ عَلَيْهِ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَعْبَيْنِ، مَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ فِي النَّارِ، لَا يَنْظُرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَي مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ بَطَرًا»علاء بن عبدالرحمٰن بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے والد کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا۔ میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے ان سے سوال کیا۔ کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تہبند کے بارے میں کوئی بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: انہوں نے جواب دیا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”بندہ مومن کا تہبند اس کی نصف پنڈلی تک ہوتا ہے، تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوگا، جو اس نصف پنڈلی اور ٹخنوں کے درمیان ہو۔ لیکن جو ٹخنوں سے نیچے ہو وہ جہنم میں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اس شخص کی طرف نظر رحمت نہیں کرے گا، جو تکبر کے طور پر اپنے تہبند کو لٹکائے گا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
عبدالرحمٰن کہتے ہیں میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے تہ بند کے متعلق پوچھا تو وہ کہنے لگے: اچھے جانکار سے تم نے پوچھا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مسلمان کا تہ بند آدھی پنڈلی تک رہتا ہے، تہ بند پنڈلی اور ٹخنوں کے درمیان میں ہو تو بھی کوئی حرج یا کوئی مضائقہ نہیں، اور جو حصہ ٹخنے سے نیچے ہو گا وہ جہنم میں رہے گا اور جو اپنا تہ بند غرور و تکبر سے گھسیٹے گا تو اللہ اسے رحمت کی نظر سے نہیں دیکھے گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4093]
1: مردوں کا اپنی شلوار، تہ بند یا پاجامے وغیرہ کو ٹخنوں سے نیچے رکھنا حرام ہے اور اپنی غفلت اور جہالت کی لایعنی تاویلات میں الجھنا تکبر ہے۔
2: ٹخنوں سے نیچے پاوں۔
۔
۔
۔
۔
یا۔
۔
۔
۔
لٹکنے والا کپڑا۔
۔
۔
۔
۔
جہنم میں ہیں اور کپڑا اپنے پہننے والے کو بھی ساتھ گھسیٹ لے گا۔
3: اللہ عزوجل کا بندے کی طرف نہ دیکھنا اظہار غضب کی علامت ہے۔
عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تہبند کے بارے میں کچھ سنا ہے؟ فرمایا: ہاں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ” مومن کا تہبند اس کی آدھی پنڈلی تک ہوتا ہے، اور اگر وہ اس کے اور ٹخنوں کے درمیان کسی بھی جگہ تک رکھے تو بھی کوئی حرج نہیں، لیکن جو ٹخنوں سے نیچے ہو وہ حصہ جہنم میں ہو گا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: ” اللہ تعالیٰ اس کی طرف نہیں دیکھے گا جو اپنا تہبند تکبر کی وجہ سے گھسیٹے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3573]
فوائد و مسائل:
تہبند گھسیٹنےکا مطلب یہ ہے کہ کپڑا اتنا نیچے لٹکایا جائے کہ وہ زمین تک پہنچ جائے اور چلتے وقت زمین پر لگتا رہے۔
مرد کے لئے ایسا کرنا حرام ہے۔
عورت کے لئے یہ جائز ہے کیونکہ یہ اس کے لیے پردے کا باعث ہے اس طرح اس کے پاؤں اجنبیوں کے نظر سے چھپے رہتے ہیں۔