751 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، قَالَ: إِنِّي لَفِي حَلَقَةٍ فِيهَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ جَالِسًا، إِذْ جَاءَنَا أَبُو مُوسَي الْأَشْعَرِيُّ مَذْعُورًا، أَوْ قَالَ: فَزِعًا، فَقُلْنَا: مَا شَأْنُكَ؟ قَالَ: إِنَّ عُمَرَ بَعَثَ إِلَيَّ فِي بَعْضِ الْحَاجَةِ فَأَتَيْتُهُ، فَاسْتَأْذَنْتُ ثَلَاثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي فَرَجَعْتُ، وَقُلْتُ لَهُ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «إِذَا اسْتَأْذَنَ أَحَدُكُمْ ثَلَاثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ فَلْيَرْجِعْ» ، فَقَالَ عُمَرُ: لَتَأْتِيَنَّ عَلَي مَا قُلْتَ بِبَيِّنَةٍ، أَوْ لَأَفْعَلَنَّ بِكَ، وَلَأَفْعَلَنَّ، فَقَالَ لِي أَبَيُّ بْنُ كَعْبٍ: لَا يَقُومُ مَعَكَ إِلَّا أَصْغَرُ الْقَوْمِ، قَالَ سَعِيدٌ: فَكُنْتُ أَنَا أَصْغَرَ الْقَوْمِ، فَأَتَيْتُ عُمَرَ، فَحَدَّثْتُهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا اسْتَأْذَنَ أَحَدُكُمْ ثَلَاثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ فَلْيَرْجِعْ»سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں ایک محفل میں بیٹھا ہوا تھا۔ جس میں سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ تشریف فرما تھے۔ اسی دوران سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ گھبرائے ہوئے ہمارے پاس آئے۔ ہم نے دریافت کیا: آپ کو کیا ہوا ہے، تو وہ بولے: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے کسی کام کے لیے بلوایا، جب میں ان کے ہاں آیا، تو میں نے تین مرتبہ اندر آنے کی اجازت مانگی۔ جب مجھے اجازت نہیں ملی تو میں واپس آ گیا۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جب کوئی شخص تین مرتبہ اجازت مانگے اور اسے اجازت نہ دی جائے، تو وہ واپس چلا جائے۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا۔ تم نے جو بات بیان کی ہے یا تو اس کا کوئی ثبوت لے کر آؤ، ورنہ پھر میں تمہیں سخت سزا دوں گا۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: آپ کے ساتھ اٹھ کر وہ شخص جائے گا، جو حاضرین میں سب سے کم سن ہو۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں۔ میں چونکہ وہاں سب سے کم سن تھا، تو میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا۔ اور انہیں یہ بات بتائی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جب کوئی شخص (کسی کے ہاں اندر آنے کی) تین مرتبہ اجازت مانگے اور اسے اجازت نہ ملے، تو اسے واپس چلے جانا چاہئے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ نے عمر رضی الله عنہ سے ان کے پاس حاضر ہونے کی اجازت طلب کی تو انہوں نے کہا: «السلام عليكم» کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟ عمر رضی الله عنہ نے (دل میں) کہا: ابھی تو ایک بار اجازت طلب کی ہے، تھوڑی دیر خاموش رہ کر پھر انہوں نے کہا: «السلام عليكم» کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟ عمر رضی الله عنہ نے (دل میں) کہا: ابھی تو دو ہی بار اجازت طلب کی ہے۔ تھوڑی دیر (مزید) خاموش رہ کر انہوں نے پھر کہا: «السلام عليكم» کیا مجھے اندر داخل ہونے کی اجازت ہے؟ عمر رضی الله عنہ ن۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الاستئذان والآداب/حدیث: 2690]
1؎:
اس سے معلوم ہوا کہ بسا اوقات ایک ادنی شخص کو علم دین کی وہ بات معلوم ہو سکتی ہے جو کسی بڑے صاحب علم کو معلوم نہیں، چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ کو یہ نہیں معلوم تھا کہ تین بار اجازت طلب کرنے پر اگر اجازت نہ ملے تو لوٹ جانا چاہیے۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں انصار کی مجالس میں سے ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا اتنے میں ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ گھبرائے ہوئے آئے، تو ہم نے ان سے کہا: کس چیز نے آپ کو گھبراہٹ میں ڈال دیا ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے عمر رضی اللہ عنہ نے بلا بھیجا تھا، میں ان کے پاس آیا، اور تین بار ان سے اندر آنے کی اجازت طلب کی، مگر مجھے اجازت نہ ملی تو میں لوٹ گیا (دوبارہ ملاقات پر) انہوں نے کہا: تم میرے پاس کیوں نہیں آئے؟ میں نے کہا: میں تو آپ کے پاس گیا تھا، تین بار اجازت مانگی، پھر مجھے اجازت نہ دی گئی، رسول اللہ صلی الل۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5180]
1۔
اجازت طلب کرنے کے لئے اصل شرعی ادب اسلام علیکم کہنا ہے اور تین بار سلام کہہ کر اجازت مانگی جائے۔
اسی پر دستک دینے یا گھنٹی بجانے کو قیاس کرنا چاہیے۔
اس سے زیادہ خلاف ادب ہے، نہ معلوم گھر والا کسی خاص کام میں مشغول ہو یا آرام کر رہا ہو، تو اسے پریشان نہ کیا جائے۔
علاوہ ازیں دستک دینے یا گھنٹی بجانے میں بھی بے ادبی یا بد تمیزی کا مظاہرہ نہ کیا جائے۔
بعض لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ اتنی زور سے دستک دیتے ہیں کہ اڑوس پروس کے لوگوں کا سکون بھی بر باد ہو جاتا ہے۔
اسی طرح بعض لوگ گھنٹی اس طرح تسلسل سے بجاتے ہیں جیسے انہوں نے مردوں کو زندہ کرنا یا بہروں کو سنانا ہے یہ بے ہوگیاں ہماری اخلاقی پستی کی غماز ہیں۔
2: اجازت یا جواب نہ ملنے پر بلاوجہ ناراض انہیں ہونا چاہیے، بلکہ واپس آجانا چاہیے۔
3: حضرت عمر رضی اللہ احادیث رسول کی روایت میں اس لئے شدید تھے کہ لوگ کہیں یقین واعتماد کے بغیر رسول ﷺکی طرف سے نسبت نہ کرنے لگیں اور اللہ انہیں جزائے خیر دے یہ ان کی بہت بڑی دانائی کی سختی تھی۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے تین مرتبہ عمر رضی اللہ عنہ سے (اندر آنے کی) اجازت طلب کی لیکن انہیں اجازت نہیں دی گئی، تو وہ لوٹ گئے، عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے پیچھے ایک آدمی بھیجا اور بلا کر پوچھا کہ آپ واپس کیوں چلے گئے تھے؟ تو انہوں نے کہا کہ ہم نے ویسے ہی تین مرتبہ اجازت طلب کی جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے، اگر ہمیں تین دفعہ میں اجازت دے دی جائے تو اندر چلے جائیں ورنہ لوٹ جائیں، تب انہوں نے کہا: آپ اس حدیث پر گواہ لائیں ورنہ میں آپ کے ساتھ ایسا ایسا کروں گا یعن۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3706]
فوائد و مسائل:
(1)
کسی کے گھر میں بلا اجازت داخل ہونا منع ہے۔
(2)
اجازت طلب کرنے کا طریقہ یہ۔
السلام علیکم کیا میں اندر آ سکتاو ہوں؟ (سنن أبي داؤد، باب كيف: الإستئدان، حديث: 5177)
(3)
اگر ایک بار اجازت مانگنے پر جواب نہ ملے تو دوسری اور تیسری بار اجازت طلب کرنی چاہیے۔
آج کل اجازت مانگنے کا طریقہ مختلف ہو گیا ہے جیسے گھنٹی بجانا، یہ بھی وقفے وقفے سے صرف تین بار بجائی جائے۔
اگرکوئی جواب نہ ملے تو واپس چلا جائے۔
گھنٹی بجا بجا کر سارے محلے کو پریشان نہ کیا جائے۔
(4)
اگر تین بار اجازت مانگنے پر بھی اجازت نہ ملے تو اہل خانہ سے ناراض ہوئے بغیر واپس ہو جانا چاہیے۔
ممکن ہے صاحب خانہ گھر میں موجود نہ ہو یا کوئی ایسی معقول وجہ ہو جس کی بنا پر وہ اجازت نہ دے رہا ہو۔
(5)
حضرت عمر ؓ نے گواہ اس لیے طلب فرمایا کہ وہ مزید اطمینان چاہتے تھے۔
اور اس کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ لوگ جب دیکھیں گے کہ عمر ؓ حدیث رسول اللہ ﷺ کے بارے میں بھی غیر ذمہ دار لوگ کا رویہ رکھتے ہیں تو ہر شخص بالا تحقیق احادیث بیان کرنے کی جرأت نہیں کرے گا۔
اس طرح غیرذمہ دار لوگ غلط الفاظ کے ساتھ یا اپنے پاس سے بنا کر احادیث بیان نہیں کریں گے۔
(6)
حدیث دین کی بنیاد ہے لہٰذا صحیح اور ضعیف میں فرق کرنا بہت ضروری ہے۔
(7)
احادیث کی کتابوں میں ضعیف احادیث موجود ہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ ائمہ حدیث ہر حدیث کے ساتھ سند بیان کیا کرتے تھے جس سے سامعین کو حدیث کے درجے کا علم ہو جاتا تھا۔
بعض اوقات اس لیے ضعیف حدیث بیان کر دیتے تھے کہ ممکن ہے اس حدیث کی دوسری سند مل جائے جس سے اس کا ضعف ختم ہو کر حدیث قابل قبول ہو جائے تا ہم ہر وہ حدیث جو ایک سے زیادہ سندوں سے مروی ہو قابل قبول نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے بعض شروط کا پایا جانا ضروری ہے جس کی تفصیل اصول حدیث کی کتابوں میں موجود ہے۔