746 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، أَنَّهُ سَمِعَ عِيَاضَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ هَذِهِ الْعَرَاجِينَ، يُمْسِكُهَا فِي يَدِهِ، وَيَدْخُلُ الْمَسْجِدَ وَهِيَ فِي يَدِهِ، فَرَأَي نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ، فَحَكَّهَا، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَي النَّاسِ مُغْضَبًا، فَقَالَ: «أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يُبْزَقَ فِي وَجْهِهِ» ، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا قَامَ إِلَي الصَّلَاةِ فَإِنَّمَا يُوَاجِهُ رَبَّهُ، فَلَا يَبْزُقْ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَلَا عَنْ يَمِينِهِ، وَلْيَبْزُقْ عَنْ يَسَارِهِ، أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَي، فَإِنْ عَجَّلَتْ بِهِ بَادِرَةٌ وَهُوَ يُصَلِّي، فَلْيَتْفُلْ فِي ثَوْبِهِ، وَلَيْقُلْ هَكَذَا» ، وَدَلَّكَ سُفْيَانُ بِكُمِّهِسیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ عراجین (زرد رنگ کی مخصوص قسم کی لکڑی) پسند تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے اپنے ہاتھ میں رکھتے تھے۔ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے قبلہ کی سمت میں (دیوار پر) بلغم لگا ہوا دیکھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھرچ دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم عالم میں لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا: ”کیا کوئی شخص اس بات کو پسند کرتا ہے، اس کے چہرے کے سامنے کی طرف تھوک دیا جائے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب بندہ نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے، تو وہ اپنے پروردگار کی طرف رخ کرتا ہے، تو اسے اپنے سامنے کی طرف یا اپنے دائیں طرف نہیں تھوکنا چاہئے۔ بلکہ اپنے بائیں پاؤں کے نیچے تھوک لینا چاہئے۔ اور اگر نماز کے دوران آدمی کو زیادہ شدت کے ساتھ تھوکنے کی ضرورت پیش آ جائے، تو اسے اپنے کپڑے پر تھوک کر پھر اسے اس طرح مل دینا چاہئے۔“ سفیان نامی راوی نے اپنی آستین کے ذریعے اسے مل کے دکھایا۔
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
عنوان میں بصاق (تھوک)
اور اس روایت میں بلغم کے ذکر سے امام بخاری ؒ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ تھوک بلغم اور ناک کی رطوبت وغیرہ تمام ہی ناگوار اور قابل نفرت چیزیں ہیں، ان ناپسندیدہ چیزوں کا مسجد کے بارے میں ایک ہی حکم ہے۔
(فتح الباري: 661/1)
2۔
اس روایت میں بائیں طرف تھوکنے کے الفاظ سے امام بخاری ؒ نے ایک اختلاف کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔
قاضی عیاض ؒ کے نزدیک مسجد میں تھوکنا جائز ہے، لیکن اس کا دفن نہ کرنا گناہ ہے، جبکہ امام نووی ؒ کہتے ہیں کہ مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس گناہ کی تلافی اس کا دفن کردینا ہے۔
امام بخاری ؒ کے قائم کردہ عنوان سے قاضی عیاض کے موقف کے راجح ہونے کی طرف اشارہ ہے۔
واللہ أعلم۔
3۔
روایت آخر میں ایک سند نقل کر کے امام بخاری ؒ نے یہ بھی وضاحت کردی ہے کہ روایت اگرچہ بصیغہ عن بیان ہوئی ہے، لیکن امام زہری ؒ کا سماع اپنے شیخ حمید بن عبدالرحمٰن سے ثابت ہے، لہٰذا اس میں تدلیس کا کوئی شبہ نہیں ہے۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی قبلہ (والی دیوار پر) بلغم دیکھا تو اسے کنکری سے کھرچ دیا، اور لوگوں کو اپنے سامنے اور دائیں طرف تھوکنے سے روکا، اور فرمایا: " (جنہیں ضرورت ہو) وہ اپنے بائیں تھوکے یا اپنے بائیں پاؤں کے نیچے۔" [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 726]