739 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مَصَرِّفٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَي: هَلْ أَوْصَي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: لَمْ يَتْرُكْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا يُوصِي فِيهِ، قُلْتُ: وَكَيْفَ أَمَرَ النَّاسَ بِالْوَصِيَّةِ وَلَمْ يُوصِ؟ قَالَ: «أَوْصَي بِكِتَابِ اللَّهِ» قَالَ طَلْحَةُ: قَالَ الْهُزَيْلُ بْنُ شُرَحْبِيلٍ: أَبُو بَكْرٍ يَتَقَدَّمُ عَلَي وَصَي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَّ أَبُو بَكْرٍ أَنَّهُ وَجَدَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ عَهْدًا، فَخَزَمَ بِهِ أَنْفَهُطلحہ بن مصرف بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن ابواوفیٰ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی وصیت کی تھی انہوں نے جواب دیا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی کوئی چیز چھوڑی ہی نہیں تھی جس کے بارے میں آپ وصیت کرتے۔ میں نے دریافت کیا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے بارے میں وصیت کرنے کے بارے میں کیوں حکم دیا؟ جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود وصیت نہیں کی، تو انہوں نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی کتاب کے مطابق وصیت کی تھی۔ طلحہ نامی راوی کہتے ہیں: ہزیل بن شرحبیل فرماتے ہیں: کیا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کسی ایسے شخص سے آگے نکل سکتے تھے، جس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت کی ہو؟ حالانکہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس بات کے خواہشمند ہوتے تھے کہ انہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی حکم کا پتہ چلے اور وہ اسے مکمل طور پر تسلیم کر لیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
رسول اللہ ﷺ نے اللہ کی کتاب پر عمل کرنے کا حکم دیا تھا۔
اس حکم پر وصیت کا اطلاق بطور مشاکلہ ہے لہٰذا وصیت کی نفی اور اثبات میں کوئی منافات نہیں، یعنی جس وصیت کی نفی کی، وہ مال یا امامت و خلافت کی وصیت تھی اور جسے ثابت کیا، وہ اللہ کی کتاب پر عمل کرنے کا حکم تھا۔
2۔
بہر حال حضرت علی ؒ "وصي رسول اللہ" نہیں ہیں یہ شیعہ حضرات کا خود ساختہ پروپیگنڈا ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں اور نہ اس کی کوئی بنیاد ہی ہے۔
واللہ اعلم۔
(وحیدی)
حدیث میراث نازل ہونے کے بعد مال میں مطلق وصیت کرنا منسوخ ہو گیا۔
اس حدیث میں بظاہر تناقص معلوم ہوتا ہے کہ وصیت کی نفی پھر اس کا اثبات ہے لیکن اس میں کوئی تضاد نہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال و دولت اور خلافت و امارت کے متعلق کوئی وصیت نہیں فرمائی البتہ قرآن و حدیث کو مضبوطی سے تھامنے اور ان پر عمل پیرا ہونے کی وصیت فرمائی تھی جو حسب ذیل ہے۔
’’میں تم میں دو چیز یں چھوڑے جا رہا ہوں۔
جب تک تم ان دونوں پر کاربند رہو گے دنیا کی کوئی طاقت تمھیں گمراہ نہیں کر سکے گی۔
ان میں سے ایک اللہ کی کتاب اور دوسری اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔
‘‘ (الموطأ للإمام مالك، القدر، حدیث: 1662)
حقیقت یہ ہے کہ جب تک مسلمان اس وصیت پر عمل کرتے رہے ان کا دنیا میں طوطی بولتا تھا اور جب اسے نظر انداز کر دیا دنیا میں ذلیل و خوار ہو کر رہ گئے۔
آج بھی اس پر عمل کر کے اپنی کھوئی ہوئی عزت کو بحال کیا جا سکتا ہے۔
واللہ المستعان۔
(1)
حضرت ابن ابی اوفیٰ ؓ کا مطلب یہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے مال کی وصیت نہیں کی کیونکہ آپ نے کوئی مال نہیں چھوڑا تھا۔
حضرت طلحہ بن مصرف نے اس حکم کو عام خیال کر کے دوبارہ سوال کیا کہ لوگوں پر وصیت کیوں فرض کی گئی ہے؟ تو انہوں نے وضاحت فرمائی کہ رسول اللہ ﷺ نے کتاب اللہ پر عمل کرنے کی وصیت کی تھی، چنانچہ ابن حبان کی روایت میں وضاحت ہے، حضرت ابن ابی ؓ سے سوال ہوا کہ رسول اللہ ﷺ نے کوئی وصیت فرمائی تھی؟ انہوں نے جواب دیا: رسول اللہ ﷺ نے کوئی چیز قابل وصیت نہیں چھوڑی تھی۔
پھر سوال ہوا کہ جب آپ نے کوئی وصیت نہیں فرمائی تو لوگوں کو وصیت کرنے کا حکم کیوں دیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ ﷺ نے کتاب اللہ کو مضبوطی سے پکڑنے کی وصیت فرمائی تھی۔
(صحیح ابن حبان: 382/13، و فتح الباري: 443/5)
الغرض مال یا خلافت کے متعلق وصیت کی نفی ہے اور کتاب اللہ کو مضبوطی سے پکڑنے کی وصیت کا اثبات ہے۔
(2)
جب تک لوگ اس وصیت پر عمل پیرا رہے دنیوی ترقی کی راہ پر گامزن رہے اور جب قرآن و حدیث کو چھوڑ دیا ذلت و رسوائی ان کا مقدر بن گئی، پھر مسلمان فرقوں میں بٹ کر مغلوب ہو گئے۔
طلحہ بن مصرف کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی الله عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت کی تھی؟ انہوں نے کہا: نہیں ۱؎ میں نے پوچھا: پھر وصیت کیسے لکھی گئی اور آپ نے لوگوں کو کس چیز کا حکم دیا؟ ابن ابی اوفی نے کہا: آپ نے کتاب اللہ پر عمل پیرا ہونے کی وصیت کی۔ [سنن ترمذي/كتاب الوصايا/حدیث: 2119]
وضاحت:
1؎:
ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے یہ سمجھا کہ یہ سوال کسی خاص وصیت کے تعلق سے ہے اسی لیے نفی میں جواب دیا، اس سے مطلق وصیت کی نفی مقصود نہیں ہے، بلکہ اس نفی کا تعلق مالی وصیت یا علی رضی اللہ عنہ سے متعلق کسی مخصوص وصیت سے ہے، ورنہ آپ ﷺ نے وصیت کی جیسا کہ خود ابن ابی اوفیٰ نے بیان کیا۔
طلحہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن ابی اوفی سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت کی تھی؟ کہا: نہیں ۱؎، میں نے کہا: پھر مسلمانوں پر وصیت کیسے فرض کر دی؟ کہا: آپ نے اللہ کی کتاب سے وصیت کو ضروری قرار دیا ہے ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3650]
(2) ”مسلمانوں پر وصیت“ شاید ان کا اشارہ: ﴿كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ… الخ﴾ کی طرف ہو‘ حالانکہ یہ آیت تو منسوخ ہے۔ یا ممکن ہے ان احادیث میں بھی وصیت کے فرض ہونے کی صراحت نہیں بلکہ وصیت میں تاخیر سے روکا گیا ہے کہ اگر کوئی وصیت کرنا چاہتا ہے تو تاخیر نہ کرے۔
(3) ”کتاب اللہ… کی وصیت فرمائی“ اور یہی آپ کا ساری زندگی مطلوب ومقصود رہا‘ لہٰذا وصیت بھی اسی سے متعلق فرمائی۔
طلحہ بن مصرف کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی چیز کی وصیت کی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں، میں نے کہا: پھر کیوں کر مسلمانوں کو وصیت کا حکم دیا؟ تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی کتاب (قرآن) پر چلنے کی وصیت فرمائی ۱؎۔ مالک کہتے ہیں: طلحہ بن مصرف کا بیان ہے کہ ہزیل بن شرحبیل نے کہا: بھلا ابوبکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصی پر حکومت کر سکتے تھے؟ ابوبکر رضی اللہ عنہ کا تو یہ حال تھا کہ اگر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم پاتے تو۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الوصايا/حدیث: 2696]
فوائد ومسائل: (1)
سائل کا سوال خلافت کی وصیت کے بارے میں تھا۔
حضرت ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے واضح کردیا کہ رسو ل اللہ نے اس قسم کی کوئی وصیت نہیں فرمائی۔
(2)
سائل کا دوسرا سوال ایک اشکال کا اظہار ہے کہ رسول اللہﷺ نے عام مسلمانوں کو وصیت کا حکم دیا ہے تو خود بھی وصیت کی ہوگی، خصوصاً خلافت جیسے اہم معاملے میں ضرور فرمایا ہوگا کہ میرے بعد فلاں خلیفہ ہوگا تو جواب میں فرمایا گیا کہ رسول اللہﷺ نے پورے قرآن پر عمل کرنے کی وصیت فرمائی تھی۔
جس میں یہ حکم بھی ہے: ﴿وَاُولِی الْأَمْرِ مِنْکُمْ﴾ (النساء4؍59)
’’ تم (مسلمانوں)
میں سے جوصاحب امر ہوں ان کا حکم مانو۔‘‘
(2)
حضرت ابوبکر ؓ کی سیرت مبارکہ کا سب سے اہم پہلو اتباع رسول اللہﷺ ہے، اس لیے یہ ممکن ہی نہیں کہ نبئ کریمﷺ حضرت علی ؓ کو خلیفہ متعین فرمائیں اور حضرت ابوبکر خود یہ منصب سنبھال لیں، بلکہ وہ تو رسول اللہﷺ کے مقرر کئے ہوئے خلیفے کے اطاعت میں آخری حد تک جانے کو تیار ہوجاتے۔