735 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُسْلِمٍ الْهَجَرِيًّ، أَنَّهُ رَأَي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَي فِي جِنَازَةِ ابْنَةٍ لَهُ عَلَي بَغْلَةٍ تُقَادُ بِهِ، فَيَقُولُ لِلْقَائِدِ أَيْنَ أَنَا مِنْهَا؟ فَإِذَا قِيلَ لَهُ: أَمَامَهَا، قَالَ: أَحْبِسِ، قَالَ: وَرَأَيْتُهُ حِينَ صَلَّي عَلَيْهَا كَبَّرَ أَرْبَعًا، ثُمَّ قَامَ سَاعَةً، فَسَبَّحَ بِهِ الْقَوْمُ فَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: أَكُنْتُمْ تَرَوْنَ أَنِّي أَزِيدُ عَلَي أَرْبَعٍ وَقَدْ «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَبَّرَ أَرْبَعًا، وَسَمِعَ نِسَاءً يَرْثِينَ فَنَهَاهُنَّ» ، وَقَالَ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَي عَنِ الْمَرَاثِي»ابراہیم بن مسلم ہدی بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیدنا عبداللہ بن اوفیٰ رضی اللہ عنہ کو اپنی صاحبزادی کے جنازے میں شریک دیکھا وہ ایک خچر پر سوار تھے، جسے ہانک کر لے جایا جا رہا تھا، تو انہوں نے خچر کو لے جانے والے سے کہا: میں جنازے سے کہاں ہوں جب انہیں کہا گیا: آپ ان سے آگے ہیں۔ تو انہوں نے فرمایا: تم اس کو روک دو۔ راوی کہتے ہیں: میں نے انہیں دیکھا کہ انہوں نے اس خاتون کی نماز جنازہ میں چار تکبیریں کہیں پھر وہ تھوڑی دیر کے لیے کھڑے رہے، تو حاضرین نے سبحان اللہ کہنا شروع کر دیا۔ (یعنی انہیں متوجہ کرنا چاہا) تو انہوں نے سلام پھیر دیا وہ بولے: کیا تم لوگ یہ سوچ رہے تھے کہ میں چاروں تکبیروں سے زیادہ تکبیریں کہہ دوں گا، جبکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چار تکبیریں کہتے ہوئے دیکھا ہے۔ پھر انہوں نے کچھ خواتین کو مرثیہ پڑھتے ہوئے سنا: تو انہیں اس سے منع کیا اور بولے: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مرثیہ پڑھنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابراہیم بن مسلم ہجری کہتے ہیں کہ میں نے صحابی رسول عبداللہ بن ابی اوفی اسلمی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کے ایک بیٹے کی نماز جنازہ پڑھی، تو انہوں نے اس میں چار تکبیریں کہیں، چوتھی تکبیر کے بعد کچھ دیر ٹھہرے، (اور سلام پھیرنے میں توقف کیا) تو میں نے لوگوں کو سنا کہ وہ صف کے مختلف جانب سے «سبحان الله» کہہ رہے ہیں، انہوں نے سلام پھیرا، اور کہا: کیا تم لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ میں پانچ تکبیریں کہوں گا؟ لوگوں نے کہا: ہمیں اسی کا ڈر تھا، عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ایسا کرنے والا نہیں تھا، لیکن چوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چار۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1503]
فائدہ: اس سے معلوم ہواکہ رسول اللہ ﷺ کا عمل چوتھی تکبیر کے فوراً بعد سلام پھیرنے کا بھی تھا اور چوتھی تکبیر کے بعد کوئی دعا پڑھ کرسلام پھیرنے کا بھی اس لئے دونوں ہی طریقے ہی درست ہیں مذکورہ روایت بعض حضرات کے نزدیک حسن ہے۔