حدیث نمبر: 730
730 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَبُو يَعْفُورَ الْعَبْدِيُّ، قَالَ: أَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَي فَسَأَلْتُهُ عَنْ أَكْلِ الْجَرَادِ، فَقَالَ: «غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّ غَزَوَاتٍ أَوْ سَبِعَ، فَكُنَّا نَأْكُلُ الْجَرَادَ»
اردو ترجمہ مسند الحمیدی

ابو یعفور عبدی بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن ابواوفیٰ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے ان سے ٹڈی دل کھانے کے بارے میں دریافت کیا: انہوں نے بتایا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چھ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) سات غزوات میں حصہ لیا ہے۔ ہم ٹڈی دل کھا لیا کرتے تھے۔

حوالہ حدیث مسند الحميدي / حدیث: 730
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 5495، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1952، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5257، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 4367، 4368 ، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3812، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1821، 1822، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2053، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 19059، 19060، 19061، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 19418 برقم: 19457»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 5495 | صحيح مسلم: 1952 | سنن ابي داود: 3812 | سنن نسائي: 4361 | سنن نسائي: 4362 | بلوغ المرام: 1137

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5495 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
5495. سیدنا ابن ابی اوفی‬ ؓ س‬ے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ہم نے نبی ﷺ کے ساتھ مل کر چھ یا سات جنگیں لڑیں ہم آپ کے ہمراہ ٹڈی کھایا کرتے تھے سفیان ابو عوانہ اور اسرائیل نے ابو یعفور سے بیان کیا اور ان سے ابن ابی اوفی ؓ نے ساتھ غزوات کے الفاظ بیان کیے ہیں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5495]
حدیث حاشیہ: ٹڈی کھانا بلا تردد جائز ہے۔
یہ عطیہ بھی ہے اور عذاب بھی کیونکہ جہاں ان کا حملہ ہو جائے کھےتیاں برباد ہو جاتی ہیں۔
إلاما شاءاللہ۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5495 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5495 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
5495. سیدنا ابن ابی اوفی‬ ؓ س‬ے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ہم نے نبی ﷺ کے ساتھ مل کر چھ یا سات جنگیں لڑیں ہم آپ کے ہمراہ ٹڈی کھایا کرتے تھے سفیان ابو عوانہ اور اسرائیل نے ابو یعفور سے بیان کیا اور ان سے ابن ابی اوفی ؓ نے ساتھ غزوات کے الفاظ بیان کیے ہیں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5495]
حدیث حاشیہ:
(1)
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسے کھاتے تھے۔
(فتح الباري: 769/9)
لیکن حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ٹڈی کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ’’یہ اللہ کے بہت بڑے بڑے لشکروں میں سے ہے، نہ میں اسے کھاتا ہوں اور نہ حرام ٹھہراتا ہوں۔
‘‘ (سنن أبي داود، الأطمعة، حدیث: 3813)
لیکن اس کی سند ضعیف ہے اور امام ابو داود رحمہ اللہ نے اس کے مرسل ہونے کی طرف اشارہ کیا ہے۔
اسے ایک روایت میں سمندر کا شکار کہا گیا ہے، چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم حج یا عمرے کے سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نکلے تو ہمارا ٹڈی دل سے سامنا ہوا۔
ہم نے انہیں اپنی جوتیوں اور لاٹھیوں سے مارنا شروع کر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اسے کھاؤ، یہ تو سمندر کا شکار ہے۔
‘‘ (سنن ابن ماجة، الصید، حدیث: 3222)
لیکن حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس کی سند کو ضعیف قرار دیا ہے۔
(فتح الباري: 768/9) (2)
امام نووی رحمہ اللہ نے اس کے حلال ہونے پر اجماع نقل کیا ہے، البتہ امام ابن العربی نے حجاز اور اندلس کی ٹڈی کے متعلق تفصیل بیان کی ہے کہ اندلس میں پائی جانے والی ٹڈی زہریلی اور نقصان دہ ہے، لہذا اسے نہ کھایا جائے۔
اگر یہ بات صحیح ہے تو اسے حلال ہونے سے مستثنیٰ قرار دینا قرین قیاس ہے۔
(فتح الباري: 769/9)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5495 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1952 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات غزوات میں شرکت کی، ہم مکڑی کھاتے تھے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5045]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: مکڑی کی اباحت پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے، ابن العربی مالکی نے اندلس کی مکڑی (ٹڈی)
کو اس کے زہریلی ہونے کی بنا پر مستثنیٰ قرار دیا ہے، امام شافعی، امام ابوحنیفہ، امام احمد اور جمہور فقہاء کا نظریہ ہے کہ مکڑی (ٹڈی)
خود مر جائے، یا اسے کوئی کسی طریقہ سے مارے، وہ حلال ہے، لیکن امام مالک کا مشہور قول یہی ہے کہ اگر وہ خود مر جائے تو حلال نہیں ہے، اگر اس کو مارا جائے مثلا اس کے بعض اعضاء کاٹ دئیے جائیں، یا اسے پانی میں جوش دیا جائے یا آگ میں بھون لیا جائے تو پھر حلال ہے، (شرح نووی)
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1952 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3812 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´ٹڈی کھانے کا بیان۔`
ابویعفور کہتے ہیں میں نے ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے سنا اور میں نے ان سے ٹڈی کے متعلق پوچھا تھا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چھ یا سات غزوات کئے اور ہم اسے آپ کے ساتھ کھایا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3812]
فوائد ومسائل:
فائدہ: یہ ایک پردار کیڑا ہے جو فصلوں کو تباہ کرتا ہے۔
حلال ہونے کی وجہ سے اسے ذبح کیے بغیر کھایا جاتا ہے۔
معروف حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ہمارے لئے مرے ہوئے (بغیر ذبح) دو جانور حلال کئے گئے ہیں۔
ایک مچھلی دوسرا ٹڈی۔
(سنن ابن ماجة، الصید، حدیث: 3218)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3812 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4362 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´ٹڈی کا بیان۔`
ابویعفور کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے ٹڈی کے مارنے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چھ جنگیں کی ہیں، ہم (ان میں) ٹڈی کھاتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4362]
اردو حاشہ: چھ جنگوں میں سابقہ روایت میں سات جنگوں کا ذکر ہے۔ چھ، سات کے منافی نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4362 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4361 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´ٹڈی کا بیان۔`
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات جنگیں کیں، ہم (ان میں) ٹڈی کھاتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4361]
اردو حاشہ: اس ٹڈی سے مراد وہ ٹڈی نہیں جو عام گھروں میں ہوتی ہے بلکہ اس سے مراد وہ ٹڈی ہے جسے مکڑی بھی کہا جاتا ہے، وہ جو فصلوں کو بھی چٹ کر جاتی ہے۔ یہ حلال جانور ہے۔ اس کو ذبح کرنے کی بھی ضرورت نہیں کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: [أُحِلَّتْ لنا مَيْتتانِ و دَمانِ،  الجرادُ والحيتانُ والكبدُ والطحالُ ] ہمارے لیے دو مردار اور دو خون حلال کیے گئے ہیں۔ دو مردار (جنھیں ذبح نہ کیا گیا ہو) ٹڈی (مکڑی) اور مچھلی ہیں۔ اور دو خون جگر اور تلی ہیں۔ (مسند أحمد: 2/ 97 وسنن الکبریٰ للبیهقي: 1/ 254) اس میں بھی مچھلی کی طرح دم مسفوح ہے (بہنے والا خون) نہیں ہوتا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4361 سے ماخوذ ہے۔