حدیث نمبر: 711
711 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً قَبْلَ نَجْدٍ، فَبَلَغَتْ سِهَامُنَا اثْنَا عَشَرَ بَعِيرًا، اثْنَا عَشَرَ بَعِيرًا، وَنَفَلَنَا بَعِيرًا بَعِيرًا»
اردو ترجمہ مسند الحمیدی

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نجد کی طرف ایک جنگی مہم پر بھیجا تو ہمارے حصے میں بارہ اونٹ آئے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایک اونٹ ہمیں مزید عطیے کے طور پر عطا کیا۔

حوالہ حدیث مسند الحميدي / حدیث: 711
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 3134، 4338، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1749، 1750، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4833، 4834، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2741، 2743، 2744، 2745، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2524، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 12917، 12918، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 4669 برقم: 5276»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 2741 | سنن ابي داود: 2743 | سنن ابي داود: 2744 | سنن ابي داود: 2745

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2741 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´لشکر کے کسی ٹکڑے کو انعام میں کچھ زیادہ دینے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نجد کی جانب ایک لشکر میں بھیجا اور اس لشکر کا ایک دستہ دشمن سے مقابلہ کے لیے بھیجا گیا، پھر لشکر کے لوگوں کو بارہ بارہ اونٹ ملے اور دستہ کے لوگوں کو ایک ایک اونٹ بطور انعام زیادہ ملا تو ان کے حصہ میں تیرہ تیرہ اونٹ آئے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2741]
فوائد ومسائل:
لشکر میں سے کوئی دستہ جب کوئی خاص کارروائی کرے۔
تو اس کی مناسبت سے اسے اضافی انعام دینا مستحب ہے۔
جب کہ عام غنیمت میں سبھی شریک ہوں گے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2741 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2745 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´لشکر کے کسی ٹکڑے کو انعام میں کچھ زیادہ دینے کا بیان۔`
اس سند سے بھی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک سریہ میں بھیجا، تو ہمارے حصہ میں بارہ بارہ اونٹ آئے، اور ایک ایک اونٹ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بطور انعام دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے برد بن سنان نے نافع سے عبیداللہ کی حدیث کے ہم مثل روایت کیا ہے اور اسے ایوب نے بھی نافع سے اسی کے مثل روایت کیا، مگر اس میں یہ ہے کہ ہمیں ایک ایک اونٹ بطور نفل دئیے گئے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2745]
فوائد ومسائل:
مذکور بالا احادیث میں جمع وتطبیق یہی ہے۔
کہ امیر نے جو انعام دیا۔
رسول اللہ ﷺ نے اس کی توثیق فرمائی۔
جس کو براہ راست رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کر دیا گیا جو صحیح ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2745 سے ماخوذ ہے۔