حدیث نمبر: 698
698 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَجُلٍ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ عَرَفَةَ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: «حَجَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَصُمْهُ، وَحَجَجْتُ مَعْ أَبِي بَكْرٍ فَلَمْ يَصُمْهُ، وَحَجَجْتُ مَعَ عُمَرَ فَلَمْ يَصُمْهُ، وَحَجَجْتُ مَعَ عُثْمَانَ فَلَمْ يَصُمْهُ، وَأَنَا لَا أَصُومُهُ وَلَا آمُرُ بِهِ وَلَا أَنْهَي عَنْهُ»
اردو ترجمہ مسند الحمیدی

ابن ابونجیح اپنے والد کے حوالے سے ایک صاحب کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے عرفہ کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں دریافت کیا، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بولے: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن روزہ نہیں رکھا تھا۔ میں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کیا، تو انہوں نے بھی اس دن روزہ نہیں رکھا۔ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کیا، تو انہوں نے بھی اس دن روزہ نہیں رکھا۔ میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کیا، تو انہوں نے بھی اس دن روزہ نہیں رکھا تو میں اس دن روزہ نہیں رکھوں گا اور اس کا حکم بھی نہیں دوں گا اور اس سے منع بھی نہیں کروں گا۔

حوالہ حدیث مسند الحميدي / حدیث: 698
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف فيه جهالة ولكن الحديث صحيح أخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3604، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 2836، 2838، 2839، 2840، والترمذي فى «جامعه» برقم: 751، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1806، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 5175 برقم: 5212، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 5595»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 751

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 751 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´میدان عرفات میں یوم عرفہ کے روزے کی کراہت کا بیان۔`
ابونجیح یسار کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی الله عنہما سے عرفہ کے دن عرفات میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا۔ آپ نے اس دن کا روزہ نہیں رکھا۔ ابوبکر کے ساتھ حج کیا، انہوں نے بھی نہیں رکھا، عمر کے ساتھ کیا۔ انہوں نے بھی نہیں رکھا۔ عثمان کے ساتھ کیا تو انہوں نے بھی نہیں رکھا (رضی الله عنہم)، میں بھی اس دن (وہاں عرفات میں) روزہ نہیں رکھتا ہوں، البتہ نہ تو میں اس کا حکم دیتا ہوں اور نہ ہی اس سے روکتا ہوں۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 751]
اردو حاشہ:
1؎:
اس کا مطلب یہ ہے کہ ابو نجیح نے اس حدیث کو پہلے ابن عمرسے ایک آدمی کے واسطے سے سنا تھا پھر بعد میں ابن عمر سے ان کی ملاقات ہوئی تو انہوں نے اسے براہ راست بغیر واسطے کے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 751 سے ماخوذ ہے۔