677 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ مُنْقِذًا سُفِعَ فِي رَأْسِهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ مَأْمُومَةً، فَخَبَلَتْ لِسَانَهُ، وَكَانَ إِذَا بَايَعَ يُخْدَعُ فِي الْبَيْعِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَايِعْ وَقُلْ: لَا خِلَابَةَ، ثُمَّ أَنْتَ بِالْخِيَارِ ثَلَاثًا "، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَسَمِعْتُهُ يُبَايِعُ، وَيَقُولُ: لَا خِذَابَةَسیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا منقذ رضی اللہ عنہ (یہ ایک انصاری صحابی ہیں) کو زمانہ جاہلیت میں سر میں چوٹ لگی تھی جس کے نیچے ان کی زبان میں لکنت آ گئی تھی جب وہ کوئی سودا کرتے تھے، تو سودا کرنے کے دوران ان کے ساتھ دھوکہ ہو جاتا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سودا کرتے ہوئے یہ کہو کہ دھوکہ نہیں ہو گا۔ پھر تمہیں تین دن تک اختیار ہو گا (اگر تم چاہو تو سودے کو کالعدم قرار دو)“ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے انہیں سودا کرتے ہوئے سنا: وہ یہ کہہ رہے تھے «لا خذابة» (یعنی لکنت کی وجہ سے وہ لام کو ذال پڑھ رہے تھے)
تشریح، فوائد و مسائل
اس تنبیہ کے باوجود اگر کوئی دھوکا دیتا ہے تو سودا کر نے والے آدمی کو اختیار ہے کہ وہ تین دن تک واپس کر دے۔
یہ حدیث اوپر گزر چکی ہے۔
یہاں باب کی مناسبت یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے مال کو تباہ کرنا برا جانا۔
ا س لیے اس کو یہ حکم دیا کہ بیع کے وقت یوں کہا کرو، دھوکا فریب کا کام نہیں ہے۔
(1)
"لا خلابة" کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی دھوکا ثابت ہوا تو مال واپس کر دیا جائے گا۔
(2)
عنوان سے اس حدیث کی مطابقت اس طرح ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مال ضائع کرنے اور اسے تباہ کرنے کو برا خیال فرمایا، اس لیے اسے حکم دیا کہ وہ خریدوفروخت کے وقت کہہ دیا کرے کہ اس معاملے میں دھوکا فریب نہیں ہو گا۔
1۔
(لاَخِلاَبَةَ)
کے معنی یہ ہیں کہ میرے ساتھ دھوکا نہیں ہونا چاہیے، گویا وہ مشروط خرید وفروخت کرتا ہے، یعنی اگر خریدو فروخت میں دھوکا ظاہر ہوا تو یہ معاہدہ صحیح نہیں ہوگا۔
2۔
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے مہلب کے حوالے سے لکھا ہے کہ اگر فروخت کردہ چیز کی تعریف میں مبالغہ آمیزی سے کام لیا گیا اور اس کی مدح سرائی میں زمین وآسمان کے قلابے ملا دیے گئے تو یہ دھوکا دہی میں نہیں ہوگا کیونکہ ایسی چیزیں معاملات میں داخل نہیں ہوتیں۔
(فتح الباري: 421/12)
3۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا مقصد یہ ہے کہ حیلہ سازی بھی دھوکے کی ایک قسم ہے اس بنا پر مسلمان کی یہ شان نہیں کہ وہ حیلہ سازی کر کے شرعی احکام سے پہلوتہی کرے، اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کا مؤاخذہ ہوگا۔
واللہ أعلم۔
امام احمد ؒ نے اس حدیث سے یہ حکم دیا ہے کہ اگر کسی شخص کو اسباب کی قیمت معلوم نہ ہو، اور وہ تہائی قیمت زیادہ دے یا ایک سدس تو وہ اسباب بائع کو پھیر سکتا ہے اورحنفیہ اور شافعیہ نے اس کا انکار کیا ہے۔
یہ حبان بن منقذ ؓ صحابی تھے، جنگ احد میں ان کے سر میں زخم آیا تھا، جس کی وجہ سے ان کی عقل میں فتور آگیا۔
(وحیدی)
(1)
یہ شخص حضرت حبان بن عنقذ ؓ تھے۔
جنگ کے دوران میں ان کے سرپر پتھر لگنے کی وجہ سے ان کی زبان اور ان کی زبان اور عقل متاثر ہوگئی تھی۔
اس بنا پر انھیں اکثر خریدوفروخت کرتے وقت نقصان ہوجاتا۔
جب انھوں نے شکایت کی تو رسول اللہ ﷺ: ’’جب تم کوئی چیز خریدکرو تو بائع (بیچنے والا)
کے ساتھ یہ شرط کرلیا کرو کہ اس میں کسی قسم کا دھوکا نہ ہو۔
‘‘ کیونکہ دین خیر خواہی کا نام ہے۔
(2)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خریدوفروخت کرتے وقت دھوکا دہی اور فریب کاری حرام ہے۔
ایک روایت میں اتنا اضافہ ہے: ’’جب تو کوئی چیز خریدے تو تجھےتین دن تک اختیار ہوگا۔
‘‘ (السنن الکبریٰ للبیھقي: 273/5)
اس کا مطلب یہ ہے کہ اس قسم کے الفاظ استعمال کرنے سے خریدار کو بیع فسخ کرنے کا اختیار مل جاتا ہے۔
(فتح الباري: 427/4)
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا کہ خرید و فروخت میں اسے دھوکا دے دیا جاتا ہے (تو وہ کیا کرے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: " جب تم خرید و فروخت کرو، تو کہہ دیا کرو «لا خلابة» (دھوکا دھڑی کا اعتبار نہ ہو گا) " تو وہ آدمی جب کوئی چیز بیچتا تو «لا خلابة» کہہ دیتا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3500]
فائدہ۔
اس شرط اور صراحت کے ساتھ اگر بعد میں واضح ہو کہ دوسرے فریق نے کوئی دھوکا دیا ہے۔
تو اسے بیع فسخ کرنے کا حق حاصل رہے گا۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا کہ وہ بیع میں دھوکہ کھا جاتا ہے تو آپ نے اس سے فرمایا: " جب تم بیچو تو کہہ دیا کرو: فریب اور دھوکہ دھڑی نہ ہو، چنانچہ وہ شخص جب کوئی چیز بیچتا تو کہتا: دھوکہ دھڑی نہیں " ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4489]
«. . . 288- وبه: أن رجلا ذكر لرسول الله صلى الله عليه وسلم أنه يخدع فى البيوع، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إذا بايعت فقل: لا خلابة" فكان الرجل إذا بايع يقول: لا خلابة. . . .»
". . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک آدمی کا ذکر کیا گیا جس کے ساتھ خرید و فروخت میں دھوکا کیا جاتا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: "جب تم کوئی چیز بیچو تو کہو، کوئی دھوکا نہیں ہے"، پھر وہ آدمی جب کوئی چیز بیچتا تو کہتا: کوئی دھوکا نہیں ہے . . ." [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 509]
تفقه:
➊ سودا کرتے وقت اگر کوئی کہہ دے کہ "کوئی دھوکا نہیں ہے" اور بعد میں ثابت ہوجائے کہ اسے دھوکا دیا گیا ہے تو وہ سودا واپس کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔
➋ جس شخص کا اس حدیث میں ذکر ہے وہ سیدنا منقذ بن حبان رضی اللہ عنہ تھے۔
➌ اسلام ہر شخص کے لئے خیر خواہی کا نام ہے۔
➍ فریقین کی مرضی سے خرید و فروخت حلال ہے بشرطیکہ کتاب وسنت کے کسی حکم کے خلاف نہ ہو۔
➎ مشہور تابعی سعید بن المسیب رحمہ اللہ نے فرمایا: جب تم ایسے علاقے میں جاؤ جہاں پورا پورا ماپ تول ہوتا ہو تو اس علاقے میں لمبا عرصہ قیام کرو اور اگر تم ایسے علاقے میں جاؤ جہاں ماپ تول پورا پورا نہیں ہوتا تو وہاں زیادہ عرصہ قیام نہ کرو۔ [الموطأ 2/685 ح1430، وسنده صحيح]
➏ امام محمد بن المنکدر (تابعی) رحمہ اللہ فرماتے تھے: اللہ اس بندے سے محبت کرتا ہے جو بیچتے وقت نرمی کرتا ہے، خریدتے وقت نرمی کرتا ہے، قرض ادا کرتے وقت نرمی کرتا ہے اور قرض وصول کرتے وقت بھی نرمی کرتا ہے۔ [الموطأ 2/685 ح1431، وسنده صحيح]
➐ امام ابن شہاب زہری رحمہ اللہ سے پوچھا: گیا: ایک شخص (کسی سے) ایک جانور کرائے پر لیتا ہے اور پھر اس سے زیادہ کرائے پر کسی کو دے دیتا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ [الموطأ 2/686 ح432 وسنده صحيح]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص نے ذکر کیا کہ اسے بیع میں عام طور پر دھوکہ دیا جاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " سودا کرتے وقت کہہ دیا کرو کہ کوئی فریب و دھوکہ نہیں ہو گا۔ " (بخاری و مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 694»
« أخرجه البخاري، البيوع، باب ما يكره من الخداع في البيع، حديث:2117، ومسلم، البيوع، باب من يخدع في البيع، حديث:1533.»
تشریح: 1. اس حدیث سے معلوم ہوا کہ غبن فاحش کے معلوم ہونے پر خیار ثابت ہے۔
یہ رائے امام احمد اور امام مالک رحمہما اللہ کی ہے‘ مگر جمہور علماء اس کے قائل نہیں ہیں‘ وہ کہتے ہیں کہ حبان بن منقذ کو بالخصوص یہ اجازت اس لیے دی کہ ان کی عقل اور زبان میں کمزوری واقع ہوگئی تھی جیسا کہ مسند احمد میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے۔
(مسند أحمد:۳ /۲۱۷) صحیح بات یہ ہے کہ لاَ خِلاَبَۃَ کی صدا لگانا بھی اپنی جگہ ایک طرح کی شرط ہے جس سے ثابت ہورہا ہے کہ دھوکے اور فریب کی صورت میں مشتری کے لیے خیار ثابت ہے اور خیار الشرط بھی اسی کو کہتے ہیں۔
2.آپ نے جو الفاظ ان کو تلقین فرمائے ان الفاظ کی برکت سے انھیں بعد میں کبھی دھوکا نہیں ہوتا تھا۔