حدیث کتب › مسند الحميدي ›
حدیث نمبر: 676
676 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعُمَرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مِنَ الْوَحْدَةِ مَا أَعْلَمُ، مَا سَرَي رَاكِبٌ بِلَيْلٍ وَحْدَهُ أَبَدًا»اردو ترجمہ مسند الحمیدی
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اکیلے رہنے کے بارے میں جو کچھ مجھے پتا ہے اگر لوگوں کو پتا چل جائے، تو کوئی بھی شخص اکیلا رات کے وقت (سفر نہ کرے)“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ محمد ابراہیم بن بشیر
676- سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اکیلے رہنے کے بارے میں جو کچھ مجھے پتہ ہے اگر لوگوں کو پتہ چل جائے، تو کوئی بھی شخص اکیلا رات کے وقت (سفر نہ کرے)“ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:676]
فائدہ:
رات کو اکیلا سفر کرنا مکروہ ہے جیسا کہ امام تر مذی رحمہ اللہ نے اس حدیث پر باب قائم کیا ہے۔ لیکن بامر مجبوری یا جنگی حالات میں اکیلے سفر کرنا درست ہے۔ [صحيح البخاري: 2997]
رات کو اکیلا سفر کرنا مکروہ ہے جیسا کہ امام تر مذی رحمہ اللہ نے اس حدیث پر باب قائم کیا ہے۔ لیکن بامر مجبوری یا جنگی حالات میں اکیلے سفر کرنا درست ہے۔ [صحيح البخاري: 2997]
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 676 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2998 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
2998. حضرت ابن عمر ؓسے روایت ہے۔ وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’تنہا سفر کرنے کا جو نقصان، مجھے معلوم ہے وہ اگر لوگوں کو معلوم ہوجائے تو کوئی سوار بھی رات کے وقت اکیلا سفر نہ کرے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2998]
حدیث حاشیہ: اکثر علماء نے اکیلے سفر کرنے کو مکروہ رکھا ہے۔
کیونکہ حدیث میں ہے کہ اکیلا مسافر شیطان ہے‘ اور دو دو شیطان ہیں اور تین جماعت ہیں۔
امام بخاریؒ کی غرض اس باب کے لانے سے یہ ہے کہ ضرورت کے وقت جیسے جاسوسی وغیرہ کے لئے اکیلے سفر کرنا درست ہے۔
بعضوں نے کہا اگر راہ میں کچھ ڈر نہ ہو تو اکیلے سفر کرنے میں کوئی قباحت نہیں اور ممانعت کی حدیث اس پر محمول ہے جب ڈر ہو۔
(وحیدی)
آج کل ریل موٹر ہوائی جہاز کے سفر بھی اگر بصورت جماعت ہی کئے جائیں تو اس کے بہت سے فوائد ہیں جو تنہائی کی حالت میں نہیں ہیں۔
سفر میں اکیلے ہونا فی الواقع بے حد تکلیف کا موجب ہے خواہ وہ سفر ریل‘ موٹر‘ ہوائی جہاز کا بھی کیوں نہ ہو۔
کیونکہ حدیث میں ہے کہ اکیلا مسافر شیطان ہے‘ اور دو دو شیطان ہیں اور تین جماعت ہیں۔
امام بخاریؒ کی غرض اس باب کے لانے سے یہ ہے کہ ضرورت کے وقت جیسے جاسوسی وغیرہ کے لئے اکیلے سفر کرنا درست ہے۔
بعضوں نے کہا اگر راہ میں کچھ ڈر نہ ہو تو اکیلے سفر کرنے میں کوئی قباحت نہیں اور ممانعت کی حدیث اس پر محمول ہے جب ڈر ہو۔
(وحیدی)
آج کل ریل موٹر ہوائی جہاز کے سفر بھی اگر بصورت جماعت ہی کئے جائیں تو اس کے بہت سے فوائد ہیں جو تنہائی کی حالت میں نہیں ہیں۔
سفر میں اکیلے ہونا فی الواقع بے حد تکلیف کا موجب ہے خواہ وہ سفر ریل‘ موٹر‘ ہوائی جہاز کا بھی کیوں نہ ہو۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2998 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2998 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
2998. حضرت ابن عمر ؓسے روایت ہے۔ وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’تنہا سفر کرنے کا جو نقصان، مجھے معلوم ہے وہ اگر لوگوں کو معلوم ہوجائے تو کوئی سوار بھی رات کے وقت اکیلا سفر نہ کرے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2998]
حدیث حاشیہ:
1۔
امام بخاری ؒنے عنوان کو مبہم رکھا ہے۔
اس کے متعلق جواز یا عدم جواز کی صراحت نہیں کی۔
دراصل رات کے وقت سفر کرنے کی دو حالتیں ممکن ہیں۔
ایک صورت تو امن و سلامتی کی ہے۔
اس سفر میں غالب گمان یہ ہوتا ہے کہ دشمن کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچاسکے گا۔
تو اس حالت میں تنہا سفر کرنا جائز ہے جیسا کہ حضرت زبیر ؓ کی حدیث میں ہے۔
دوسری حالت خوف و ہراس کی ہے۔
اس صورت میں تنہا سفر کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے مروی حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔
2۔
شارح بخاری ابن منیر ؒ فرماتے ہیں جنگ کی مصلحت کے لیے تنہا سفر کرنا جائز ہے جیسا کہ دشمن کے حالات معلوم کرنا اور جاسوسی کرنا اور جنگی انتظامات کے لیے جانا ایسے حالات میں رات کے وقت تنہا سفر کرنا جائز ہے ان کے علاوہ تنہا سفر کرنا خرابی سے خالی نہیں۔
(فتح الباري: 167/6)
1۔
امام بخاری ؒنے عنوان کو مبہم رکھا ہے۔
اس کے متعلق جواز یا عدم جواز کی صراحت نہیں کی۔
دراصل رات کے وقت سفر کرنے کی دو حالتیں ممکن ہیں۔
ایک صورت تو امن و سلامتی کی ہے۔
اس سفر میں غالب گمان یہ ہوتا ہے کہ دشمن کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچاسکے گا۔
تو اس حالت میں تنہا سفر کرنا جائز ہے جیسا کہ حضرت زبیر ؓ کی حدیث میں ہے۔
دوسری حالت خوف و ہراس کی ہے۔
اس صورت میں تنہا سفر کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے مروی حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔
2۔
شارح بخاری ابن منیر ؒ فرماتے ہیں جنگ کی مصلحت کے لیے تنہا سفر کرنا جائز ہے جیسا کہ دشمن کے حالات معلوم کرنا اور جاسوسی کرنا اور جنگی انتظامات کے لیے جانا ایسے حالات میں رات کے وقت تنہا سفر کرنا جائز ہے ان کے علاوہ تنہا سفر کرنا خرابی سے خالی نہیں۔
(فتح الباري: 167/6)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2998 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1673 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´تنہا سفر کرنے کی کراہت کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اگر لوگ تنہائی کا وہ نقصان جان لیتے جو میں جانتا ہوں تو کوئی سوار رات میں تنہا نہ چلے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الجهاد/حدیث: 1673]
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اگر لوگ تنہائی کا وہ نقصان جان لیتے جو میں جانتا ہوں تو کوئی سوار رات میں تنہا نہ چلے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الجهاد/حدیث: 1673]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اگر حالات ایسے ہیں کہ راستے غیر مامون ہیں، جان ومال کا خطرہ ہے تو ایسی صورت میں بلاضرورت تنہا سفر کرنا ممنوع ہے، اور اگر کوئی مجبوری درپیش ہے تو کوئی حرج نہیں، نبی اکرم ﷺ نے بعض صحابہ کو بوقت ضرورت تنہا سفر پر بھیجا ہے۔
وضاحت:
1؎:
اگر حالات ایسے ہیں کہ راستے غیر مامون ہیں، جان ومال کا خطرہ ہے تو ایسی صورت میں بلاضرورت تنہا سفر کرنا ممنوع ہے، اور اگر کوئی مجبوری درپیش ہے تو کوئی حرج نہیں، نبی اکرم ﷺ نے بعض صحابہ کو بوقت ضرورت تنہا سفر پر بھیجا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1673 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3768 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´تنہائی کی کراہت کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اگر تم میں سے کسی کو تنہائی کی برائی اور خرابی معلوم ہو جاتی، تو وہ کبھی رات میں تنہا نہ چلتا “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3768]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اگر تم میں سے کسی کو تنہائی کی برائی اور خرابی معلوم ہو جاتی، تو وہ کبھی رات میں تنہا نہ چلتا “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3768]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل: (1)
لمبے سفر میں بسا اوقت ایسے حالات پیش آسکتے ہیں کہ ساتھی سے تعاون اور مدد حاصل کرنے کی ضرورت پڑے، اس لیے سفر میں نیک ہم سفر کا ساتھ ہونا چاہیے۔
(2)
رات کو زیادہ خطرات پیش آ سکتے ہیں، اس لیے رات کو اکیلے سفر کرنے سے اجتناب ٖضروری ہے۔
(3)
۔
اگر انتہائی مجبوری ہو تو اکیلے سفر کیا جا سکتا ہے جیسے حضرت ابوذر ؓ نے ہجرت کا سفر اکیلے طے کیا تھا۔
(4)
آبادی میں ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا عرف عام میں سفر نہیں کہلاتا اس میں تنہائی جائز ہے۔
فوائد و مسائل: (1)
لمبے سفر میں بسا اوقت ایسے حالات پیش آسکتے ہیں کہ ساتھی سے تعاون اور مدد حاصل کرنے کی ضرورت پڑے، اس لیے سفر میں نیک ہم سفر کا ساتھ ہونا چاہیے۔
(2)
رات کو زیادہ خطرات پیش آ سکتے ہیں، اس لیے رات کو اکیلے سفر کرنے سے اجتناب ٖضروری ہے۔
(3)
۔
اگر انتہائی مجبوری ہو تو اکیلے سفر کیا جا سکتا ہے جیسے حضرت ابوذر ؓ نے ہجرت کا سفر اکیلے طے کیا تھا۔
(4)
آبادی میں ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا عرف عام میں سفر نہیں کہلاتا اس میں تنہائی جائز ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3768 سے ماخوذ ہے۔