666 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ عُبَيْدُ بْنُ جُرَيْجٍ كَانَ يَصْحَبُ ابْنَ عُمَرَ، أَنَّهُ سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، فَقَالَ: رَأَيْتُكَ تَصْنَعُ شَيْئًا لَمْ أَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِكَ يَصْنَعُهُ، رَأَيْتُكَ لَا تُهِلُّ حَتَّي تَنْبَعِثَ بِكَ رَاحِلَتُكَ، وَرَأَيْتُكَ تَلْبَسُ هَذِهِ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ وَتَوَضَّأُ فِيهَا، وَرَأَيْتُكَ لَا تَسْتَلِمُ مِنَ الْبَيْتِ إِلَّا هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ، وَرَأَيْتُكَ تُصَفِّرُ لِحْيَتَكَ، فَأَجَابَهُ ابْنُ عُمَرَ، فَقَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُهِلُّ حَتَّي تَنْبَعِثَ بِهِ رَاحِلَتُهُ، وَرَأَيْتُهُ يَلْبَسُ هَذِهِ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ وَيَتَوَضَّأُ فِيهَا، وَرَأَيْتُهُ لَا يَسْتَلِمُ مِنْ هَذَا الْبَيْتِ إِلَّا هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ، وَرَأَيْتُهُ يُصَفِّرُ لِحْيَتَهُ»عبید بن جریج جو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے شاگرد ہیں وہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا وہ بولے: میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ کچھ ایسے کام کرتے ہیں، جو میں نے آپ کے اصحاب میں سے کسی کو کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ اس وقت تلبیہ پڑھنا شروع کرتے ہیں جب آپ کی سواری کھڑی ہوتی ہے۔ میں نے آپ کو دیکھا ہے آپ یہ سبتی جوتے پہنتے ہیں اور انہی میں وضو کر لیتے ہیں اور میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ بیت اللہ کے صرف دو ارکان کا استلام کرتے ہیں اور میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ اپنی داڑھی پر زرد خضاب استعمال کرتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں جواب دیا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت تلبیہ پڑھنا شروع کیا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کھڑی ہوئی تھی۔ اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سبتی جوتے پہنے ہوئے دیکھا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پہن کر ہی وضو کر لیتے تھے اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے دو ارکان کا استلام کرتے تھے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی داڑھی پر زرد خضاب استعمال کرتے تھے۔
تشریح، فوائد و مسائل
سيدنا عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے ہر ہر عمل کو سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع رکھا ہوا تھا۔۔ اور یہی دین و شریعت ہے اور آٹھویں ذوالحجہ کو احرام باندھنے کا عمل اور ان کا جواب اس قیاس و اجتہاد پر مبنی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میقات میں سفر حج شروع کرنے سے پہلے احرام یا تلبیہ نہ پکارتے تھے بلکہ بالکل آخری وقت میں کہتے جب اس سے چارہ نہ ہوتا۔
اس کی زردی شاید بالوں میں بھی لگ جاتی ہو معلوم ہوا کہ زرد رنگ کا استعمال مردوں کو بھی درست ہے بشرطیکہ زعفران کا زرد رنگ نہ ہو۔
احرام 8 ذی الحجہ کو باندھنا مسنون ہے۔
حج قران والے اس سے مستثنیٰ ہیں۔
اصلاح: روایت ہذا میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا رکن یمانی کو چھونا مذکور ہے اور رکن یمانی کو صرف چھونا ہی چایئے۔
چومنا بوسہ صرف حجر اسود کے لیے ہے۔
ہمارے محترم بزرگ (حضرت حاجی محمد صدیق صاحب کراچی والے مراد ہیں)
نے توجہ دلائی ہے کہ میں نے کسی جگہ رکن یمانی کے لیے بھی چومنا لکھ دیا ہے اللہ میرے سہو کو معاف کرے کسی بھائی کو اس بخاری شریف میں کسی جگہ میرے قلم سے اگر رکن یمانی کو بوسہ دینے کا لفظ نظر آئے تو اس کی اصلاح کر کے وہاں صرف رکن یمانی کو ہاتھ لگانا درج فرمائیں۔
(راز)
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سبتی جوتے پہننا جائز ہے بلکہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ انہیں بطور خاص پہنتے تھے اور ان سے محبت کرتے تھے، البتہ ایک حدیث کی بنا پر امام احمد رحمہ اللہ کا موقف ہے کہ سبتی جوتے پہن کر قبرستان میں نہیں چلنا چاہیے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسم نے ایک شخص کو آواز دے کر فرمایا تھا: ’’اے سبتی جوتے پہننے والے! اس مقام پر انہیں اتار دو۔
‘‘ (مسند أحمد: 83/5)
لیکن ضروری نہیں کہ اس نے سبتی جوتا پہن رکھا تھا، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منع فرمایا بلکہ ممکن ہے کہ جوتوں کو گندگی لگی ہوئی ہو یا اکرام میت کی وجہ سے اسے جوتے اتارنے کا حکم دیا ہو۔
(2)
اس حدیث میں سبتی جوتوں کا ذکر تخصیص کے لیے نہیں بلکہ اتفاقی ہے۔
بہرحال سبتی جوتے پہننا جائز ہیں اور شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
واللہ أعلم
حجر اسود اور رکن یمانی کو رکنین یمانیین اور شامی اور عراقی کو شامیین کہتے ہیں۔
حجر اسود کے علاوہ رکن یمانی کو چھونا یہی رسول کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام کا طریقہ رہا ہے۔
اسی پر عمل درآمد ہے۔
حضرت معاویہ ؓ نے جو کچھ فرمایا ان کی رائے تھی مگر فعل نبوی مقدم ہے۔
(1)
اکثر محدثین کا موقف ہے کہ شامی ارکان کا استلام مسنون نہیں۔
استلام کے معنی ہاتھ سے مس کرنا ہیں۔
اس کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ اس کے متعلق جب امیر معاویہ ؓ سے گفتگو کرتے تو درج ذیل آیت پڑھتے: ﴿لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّـهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ (الأحزاب21: 33)
’’تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی میں بہترین نمونہ ہے۔
‘‘ (2)
واضح رہے کہ شعبہ نے امام مسلم کی روایت میں اس واقعے کو بالکل برعکس بیان کیا ہے، یعنی حضرت ابن عباس ؓ بیت اللہ کے تمام کونوں کا استلام کرتے اور امیر معاویہ ؓ انہیں اس سے روکتے تھے، حالانکہ واقعہ اس کے برعکس ہے جس کی ہم پہلے وضاحت کر آئے ہیں۔
(فتح الباري: 598/3)
مذکورہ روایت میں حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ کے متعلق بھی بیان ہوا ہے کہ وہ بیت اللہ کے تمام کونوں کا استلام کرتے تھے۔
اس کے متعلق تفصیل بایں طور ہے کہ جب عبداللہ بن زبیر اپنے دور حکومت میں بیت اللہ کی تعمیر سے فارغ ہوئے اور حطیم کو بیت اللہ میں شامل کر دیا، نیز رکن شامی اور عراقی دونوں کو قواعد ابراہیم کے مطابق استوار کیا تو تنعیم گئے، وہاں سے احرام باندھ کر عمرہ کیا اور بیت اللہ کے چاروں کونوں کا استلام کیا، پھر آپ کی شہادت تک لوگ بیت اللہ کے چاروں کونوں کا استلام کرتے تھے۔
اس سے معلوم ہوا کہ عبداللہ بن زبیر ؓ نے ایک معقول وجہ کے پیش نظر طواف کرتے وقت تمام کونوں کا استلام کیا تھا، لیکن حجاج بن یوسف نے جب بیت اللہ کو پہلی بنیادوں پر تعمیر کر دیا تو پھر چاروں کونوں کے استلام کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے۔
(فتح الباري: 598/3)
واللہ أعلم
1۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا مقصد یہ ہے کہ وضو کرتے وقت پاؤں کا وظیفہ انھیں دھونا ہے خواہ جوتا ہی کیوں نہ پہنا ہو۔
اگر پاؤں موزوں یا جرابوں میں نہیں ہیں تو ان کا دھونا معین ہے بصورت دیگران پر مسح کیا جا سکتا ہے۔
ایسا نہیں ہے کہ جوتوں کو موزوں کا حکم دے کر ان پر مسح کرنے کی اجازت دے دی جائے۔
اگر وضو کرنے والا جوتا پہنے ہوئے ہے تو وضو کے وقت دو صورتیں ممکن ہیں۔
(1)
۔
جوتا پہنے ہوئے پاؤں دھوئے جائیں۔
یہ اس صورت میں ہو سکتا ہے کہ پاؤں میں چپل، سوفٹی وغیرہ ہو کیونکہ بند جوتے میں پاؤں نہیں دھوئے جا سکتے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جوتا پہنے پہنے پاؤں دھونا ثابت ہے چنانچہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کے وقت نعلین کی موجودگی میں پاؤں پر پانی ڈالا پھر انھیں ادھر ادھر موڑا تاکہ پانی پاؤں کے تمام حصوں تک پہنچ جائے۔
(سنن أبي داود، الطهارة، حدیث: 117 عن علي، و حدیث: 137 عن إبن عباس)
نعل سے مراد عربی جوتا ہے جو چپل کی طرح ہوتا ہے۔
اس سے بند جوتا مراد نہیں۔
2۔
دوسری صورت یہ ہے کہ جوتا اتار کر پاؤں دھوئے جائیں۔
اس میں کوئی تکلف نہیں ہو تا بلکہ پاؤں دھونے میں آسانی رہتی ہے۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا استدلال لفظ (يُتَوَضَّأُ فيها)
سے ہے کیونکہ وضو میں اصل غسل اعضاء ہے لفظ (تَوَضَّأُ)
دھونے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے نیز اگر مسح کیا ہوتا تو (يُتَوَضَّأُ فيها)
کے بجائے (يَتَوَضَّأُ عَلَيْهَا)
ہونا چاہیے تھا۔
3۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس عنوان کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے، دوسرا جز بایں الفاظ ہے کہ جوتوں پر مسح نہ کیا جائے۔
اس سے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ ان روایات کے ضعف کی طرف اشارہ کرنا چاہتے ہیں جن میں جوتوں پر مسح کرنے کا ذکر ہے مثلاً حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق روایات میں ہے کہ انھوں نے وضو کرتے وقت جوتوں پر مسح کیا اور نماز پڑھی۔
(سنن الکبری للبيهقي: 287/1)
اس سلسلے میں ایک مرفوع روایت بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جوتوں پر مسح فرمایا۔
(سنن أبي داود، الطهارة، حدیث: 159)
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے جن روایات کے ضعف کی طرف اشارہ کیا ہے ان کی صحت اور ضعف میں اختلاف ہے۔
شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے ان روایات کو صحیح کہا ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھیے (تمام المنة، ص: (115۔
113)
وفتاوی الدین الخالص: 2 /359۔
363)
دلائل کے اس اختلاف کی وجہ سے اہل علم کا ایک گروہ جوتوں پر مسح کے جواز کا قائل ہے جبکہ بعض اہل علم اسے ناجائز کہتے ہیں دلائل کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ مسح کرنے کی گنجائش موجود ہے تاہم چپل نما جوتوں پر مسح نہ کرنا ہی بہتر ہے۔
3۔
عرب فطری طور پر سادہ زندگی بسر کرنے کے عادی تھے۔
جوتوں کے متعلق ان کا عمومی ذوق یہ تھا کہ اونٹ بکری کی کھال کو خشک کیا اسے کاٹ کر اس میں تسمے لگا لیے ان کے یہی جوتے ہوتے تھے لیکن عرب کے علاوہ دوسرے لوگ چمڑے کو دباغت سے خشک کرتے ان کے بال وغیرہ دور کرتے پھر اس چمڑے کو جوتے میں استعمال کرتے جن جوتوں پر بال نہ ہوتے انھیں سبتی جوتا کہا جاتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس قسم کے سبتی جوتے بطور تحفہ آتے اور آپ انہیں استعمال فرماتے۔
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما چونکہ شدید الاتباع تھے اس لیے جہاں سے اس قسم کا جوتا ملتا وہ اسے حاصل کرتے اور پہنتے تھے ان پر اعتراض ہوا تو انھوں نے یہ جواب دیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قسم کا جوتا پہنتے دیکھا ہے پھر آپ نے ضمناً یہ بات بیان فرمائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں وضو کرتے تھے یعنی ان پر مسح نہیں کرتے تھے۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس ضمنی بات سے ایک اہم مسئلہ مستنبط فرمایا۔
روایت میں بیان شدہ دیگر مسائل کے متعلق کتاب الحج اور كتاب اللباس میں بحث ہوگی۔
تو پھر استلام نہیں کرنا چاہیے رکن یمانی کو تو صرف ہاتھ لگانا ہوتا ہے اس لیے اس میں زیادہ دقت پیش نہیں آتی لیکن حجر اسود کو بوسہ دینا ہوتا ہے اس لیے یہاں بہت بھیڑ ہو جاتی ہے جس کی بنا پر اس کو ہاتھ لگا کر ہاتھ چومنا بھی ممکن نہیں ہوتا۔
(1)
لايمانيين: بیت اللہ کےچار کونے ہیں، وہ رکن (کونہ)
جس میں حجراسود ہے اور اس سے طواف کا آغاز ہوتا ہے اس کو بوسہ دینا ہوتا ہے، اگر براہ راست بوسہ دینا ممکن نہ ہو تو ہاتھ یا چھڑی لگا کر اس کو بوسہ دیا جاتا ہے، اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو محض اشارہ کافی ہے اور اشارہ کی صورت میں ہاتھ کو بوسہ نہیں دیا جائے گا، اس سے اگلے دو کونے شامی اور عراقی ہیں، ان کو تغلیباً شامیان کہا جاتا ہے، چوتھا رکن (کونہ)
جو حجراسود سے پہلے ہے، یمانی ہے، کیونکہ وہ یمن کی جہت میں ہے، اس کو صرف ہاتھ لگایا جاتا ہے، رکن یا ہاتھ کو چوما نہیں جاتا، رکن حجراسود اور رکن یمانی کو ایک کے نام کو غلبہ دے کر يمانيان کہہ دیا جاتا ہے، جیسے ماں وباپ کو ابوان، شمس وقمر کو قمران اور ابوبکروعمر کو عمران کہہ دیا جاتا ہے، یہ دونوں کونے چونکہ ابراہیمی بنیادوں پر ہیں، اس لیے صرف ان دونوں کو مس کیا جاتا ہے اور اس پر ائمہ اربعہ اور محدثین کا اتفاق ہے۔
(2)
النعال السبتية: نعال، نعل کی جمع ہے، چپل، جوتا اور سبت مونڈنے کو کہتے ہیں یا رنگدار چمڑے کو کہتے ہیں، اس کی تفسیر خود حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہا نے کردی ہے کہ بن بال جوتے اور آپ ان کو پہن کر ہی وضو کرلیتے تھے۔
(3)
تصبغ بالصفرة: آپ زرد رنگ استعمال کرتے ہیں، یہ رنگ بالوں اور کپڑوں دونوں کے لیے استعمال ہوتا تھا۔
فوائد ومسائل: 1۔
حدیث میں مذکورہ چاروں کام مجموعی اعتبار سے صرف حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کیا کرتے تھے یا ابن جریج نے صرف ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو یہ چاروں کا م کرتے دیکھا کیونکہ بعض صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کو نوں کومس کرتے تھے، خاص کراس وقت جب حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کعبہ کی تعمیر ابراہیمی بنیادوں پر کردی تھی اس طرح بعض تابعین رحمۃ اللہ علیہ بھی چاروں کونوں کو مس کرتے تھے لیکن اب یہ اختلاف ختم ہو چکا ہے۔
2۔
بعض لوگوں کا خیال تھا کہ احرام، تلبیہ ذوالحجہ کا چاند دیکھتے ہی شروع کر دینا چاہیے لیکن چونکہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام اور تلبیہ کا آغاز اس وقت کیا تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالحلیفہ سے حج کے لیے چلے تھے اور مکہ میں افعال حج کا آغاز یوم الترویہ (آٹھ ذوالحجہ) (جس میں لوگ اپنے جانوروں کو اس دور میں پانی پلایا کرتے تھے)
کو ہوتا ہے، اس لیے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما مکہ میں تلبیہ آٹھ ذوالحجہ کو شروع کرتے۔
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ۔
شافعی رحمۃ اللہ علیہ۔
اوراحمد رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک افضل یہ ہے کہ تلبیہ کا آغاز، مسجد ذوالحلیفہ کے پاس سوار ہو کر شروع کیا جائے اور امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک مسجد کے اندر دو رکعت پڑھنے کے بعد تلبیہ شروع کر دیا جائے۔
اس لیے امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے باب، اپنے مسلک کے مطابق ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی حدیث کی روشنی میں باندھا ہے کہ تلبیہ کا آغاز سوار ہو کر کیا جائے گا۔
اس کا تعلق اپنے ملک اور علاقہ سے چلتے وقت سے ہے، مکہ میں امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک تلبیہ اور احرام آٹھ ذوالحجہ سے شروع کرنا افضل ہے اور احناف کے نزدیک یکم ذوالحجہ سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد ذوالحلیفہ میں دو رکعت نمازفجر پڑھی اور پھر مصلی پر ہی احرام باندھ کر صدائے لبیک بلند کی۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکن یمانی اور حجر اسود کا استلام کسی بھی چکر میں ترک نہیں کرتے تھے، راوی کہتے ہیں اور عبداللہ بن عمر بھی ایسا ہی کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1876]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت اللہ کے کسی رکن کو چھوتے نہیں دیکھا سوائے حجر اسود اور رکن یمانی کے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1874]
عبید بن جریج سے روایت ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: ابوعبدالرحمٰن! میں نے آپ کو چار کام ایسے کرتے دیکھا ہے جنہیں میں نے آپ کے اصحاب میں سے کسی کو کرتے نہیں دیکھا ہے؟ انہوں نے پوچھا: وہ کیا ہیں ابن جریج؟ وہ بولے: میں نے دیکھا کہ آپ صرف رکن یمانی اور حجر اسود کو چھوتے ہیں، اور دیکھا کہ آپ ایسی جوتیاں پہنتے ہیں جن کے چمڑے میں بال نہیں ہوتے، اور دیکھا آپ زرد خضاب لگاتے ہیں، اور دیکھا کہ جب آپ مکہ میں تھے تو لوگوں نے چاند دیکھتے ہی احرام باندھ لیا لیکن آپ نے یوم الترویہ (آٹھویں ذی الحجہ) کے آنے تک احرام نہیں باندھا، تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رہی رکن یمانی اور حجر اسود کی بات تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف انہیں دو کو چھوتے دیکھا ہے، اور رہی بغیر بال کی جوتیوں کی بات تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی جوتیاں پہنتے دیکھی ہیں جن میں بال نہیں تھے اور آپ ان میں وضو کرتے تھے، لہٰذا میں بھی انہی کو پہننا پسند کرتا ہوں، اور رہی زرد خضاب کی بات تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زرد رنگ کا خضاب لگاتے دیکھا ہے، لہٰذا میں بھی اسی کو پسند کرتا ہوں، اور احرام کے بارے میں یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت تک لبیک پکارتے نہیں دیکھا جب تک کہ آپ کی سواری آپ کو لے کر چلنے کے لیے کھڑی نہ ہو جاتی۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1772]
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دونوں یمانی رکنوں ۱؎ کے علاوہ کسی اور چیز پر ہاتھ پھیرتے نہیں دیکھا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2952]
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے ارکان میں سے کسی کا استلام نہیں کرتے تھے سوائے حجر اسود اور اس رکن کے جو جمحی لوگوں کے گھروں کی طرف حجر اسود سے قریب ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2954]
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طواف میں صرف حجر اسود اور رکن یمانی کا استلام کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2951]
(2) ان دو کو چھونا سنت ہے، باقی کونوں یا دیواروں کو چھونا سنت نہیں۔ (مزید تفصیل کے لیے دیکھیے، حدیث: 2918 اور اس کے فوائد)
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بجز حجر اسود اور اس کے جو اس سے قریب ہے یعنی رکن یمانی جو بنی جمح کے محلے کی طرف ہے بیت اللہ کے کسی کونے کا استلام نہیں فرماتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2946]
فوائدومسائل: (1)
بیت اللہ کے چار کونے ہیں۔
حجرالاسود والا کو نہ، رکن یمانی، رکن شامی اور رکن عراقی۔
نبی اکرمﷺ کے زمانہ مبارک میں حجر اسود اور رکن یمانی تو اسی مقام پر تھے جہاں ابراہیم علیہ السلام نے کعبہ کی تعمیر کرتے وقت بنائے تھے البتہ رکن شامی اور رکن عراقی ابراہیمی تعمیر پر قائم نہیں تھے کیونکہ اہل مکہ نے کعبہ شریف تعمیر کرتے وقت اس کا کچھ حصہ چھوڑدیا تھا۔
یہ چھوڑا ہوا حصہ حطیم یا حجر کہلاتا ہے۔
موجودہ تعمیر بھی اسی انداز سے ہےکہ حطیم کعبہ شریف کی عمارت سے باہر ہے۔
(2)
حجر اسود کا استلام بوسہ دینا یا ہاتھ لگانا یا اشارہ کرنا ہے۔
رکن یمانی کا استلام صرف ہاتھ لگانا ہے۔
(3)
حجر اسود کے سوا کعبہ شریف کے کسی حصے کو چومنا خلاف سنت ہے۔
ملتزم کو بھی بوسہ نہیں دیا جاتا۔
اسی طرح کعبہ شریف کے علاوہ کسی اور عمارت مزار یا یادگار وغیرہ کو بوسہ دینا بھی جائز نہیں۔
«. . . 418- وعن سعيد بن أبى سعيد عن عبيد بن جريج أنه قال لعبد الله بن عمر: يا أبا عبد الرحمن، رأيتك تصنع أربعا لم أر أحدا من أصحابك يصنعها، قال: وما هي يا ابن جريج؟ قال: رأيتك لا تمس من الأركان إلا اليمانيين، ورأيتك تلبس النعال السبتية، ورأيتك تصبغ بالصفرة، ورأيتك إذا كنت بمكة أهل الناس إذا رأوا الهلال ولم تهل أنت حتى كان يوم التروية، قال عبد الله بن عمر: أما الأركان فإني لم أر رسول الله صلى الله عليه وسلم يمس من الأركان إلا اليمانيين، وأما النعال السبتية فإني رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يلبس النعال التى ليس فيها شعر ويتوضأ فيها، فأنا أحب أن ألبسها، وأما الصفرة فإني رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصبغ بها، فأنا أحب أن أصبغ بها، وأما الإهلال فإني لم أر رسول الله صلى الله عليه وسلم يهل حتى تنبعث به راحلته. . . .»
”. . . عبید بن جریج رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: اے ابوعبدالرحمٰن! میں نے اپ کو چار ایسی چیزیں کرتے ہوئے دیکھا ہے جو کہ آپ کے ساتھیوں میں سے کوئی بھی نہیں کرتا۔ انہوں نے پوچھا: اے ابن جریج! یہ کون سی چیزیں ہیں؟ میں نے کہا: آپ (طواف کے دوران میں) صرف دو یمنی رکنوں (کعبہ کی دو دیواریں جو یمن کی طرف ہیں) کو چھوتے ہیں اور میں نے دیکھا ہے کہ آپ بغیر بالوں والے جوتے پہنتے ہیں اور میں نے دیکھا ہے کہ آپ زرد خضاب لگاتے ہیں اور جب آپ مکہ میں ہوتے ہیں (اور) لوگ (ذوالحجہ کا) چاند دیکھتے ہی لبیک کہنا شروع کرتے ہیں جبکہ آپ ترویہ کے دن (۸ ذولحجہ) سے پہلے لبیک نہیں کہتے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رہا مسئلہ ارکان کا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو یمنی ارکان چھونے کے علاوہ نہیں دیکھا کہ آپ نے کسی رکن کو چھوا ہو، رہے بغیر بالوں والے جوتے، تو میں نے دیکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بغیر بالوں والے جوتے پہنتے اور ان میں وضو کرتے تھے اور میں پسند کرتا ہوں کہ انہیں پہنوں، رہا زرد خضاب تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خضاب لگاتے ہوئے دیکھا ہے اور میں اس وجہ سے یہ خضاب لگانا پسند کرتا ہوں، رہا لبیک کہنا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (منیٰ کی طرف ۸ ذوالحجہ کو) سواری روانہ کرنے سے پہلے لبیک کہتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا۔ . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 631]
[وأخرجه البخاري 166، ومسلم 1187، من حديث مالك به، سقط من الأصل واستدركته من رواية يحييٰ بن يحييٰ]
تفقه:
➊ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اتباعِ سنت میں سبقت لے جانے والے تھے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر عمل سے محبت کرتے تھے۔
➋ ہر سوال کا دلیل سے جواب دینا اہل ایمان کا عظیم شعار ہے۔
➌ بعض لوگ اگر کسی مسنون عمل کو ترک کردیں تو یہ اس عمل کے متروک ہونے کی دلیل نہیں ہے۔
➍ جس مسئلے کا علم نہ ہو تو اہلِ علم سے پوچھ لینا چاہئے۔
➎ اہلِ حق میں بعض اجتہادی امور میں اختلاف ہوسکتا ہے اور ایسا اختلاف صحابہ و تابعین کے زمانے میں بھی ہوا ہے۔
➏ جب کسی مسئلے میں اختلاف ہوجائے تو اسے دلیل یعنی قرآن وحدیث اور اجماع سے حل کرنا چاہئے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: «لِّيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَن بَيِّنَةٍ وَّيَحْيَىٰ مَنْ حَيَّ عَن بَيِّنَةٍ» تاکہ جو ہلاک ہو تو دلیل دیکھ کر ہلاک ہو اور جو زندہ رہے تو دلیل دیکھ کر زندہ رہے۔[الانفال: 42] نیز دیکھئے [سورة النحل: 64]
➐ بالوں کو سرخ مہندی لگانا مستحب ہے، واجب نہیں ہے۔ مشہور تابعی ابواسحاق عمرو بن عبداللہ السبیعی رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے علی (رضی اللہ عنہ) کو منبر پر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا۔۔۔ آپ کے سر اور داڑھی کے بال سفید تھے۔ الخ [تهذيب الآثار لابن جرير الطبري تحقيق على رضا: 935، وسنده صحيح، مصنف عبدالرزاق 3/189 ح5267، المعجم الكبير للطبراني 1/93 ح155]
◄ عامر الشعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا آپ کے سر اور داڑھی کے بال سفید تھے، آپ کی داڑھی نے کندھوں کے درمیان کو بھرا ہوا تھا۔ الخ [الآحاد والمثاني لابن ابي عاصم 1/137 ح154، وسنده صحيح، رواية يحييٰ القطان عن إسماعيل بن ابي خالد عن عامر الشعبي محمولة على السماع، انظر الجرح والتعديل 2/175، عن ابن المديني رحمه الله بلفظ آخر وسنده صحي،]
◄ عتی بن ضمر رحمہ اللہ نے کہا: میں نے اُبی بن کعب (رضی اللہ عنہ) کو دیکھا، آپ کے سر اور داڑھی کے بال سفید تھے۔ [تهذيب الآثار للطبراني ص499 ح942 وسنده صحيح]
استحباب کے دلائل وہ روایات ہیں جن میں بالوں کو رنگنے اور یہود ونصاریٰ کی مخالفت کا حکم دیا گیا ہے۔ دیکھئے [صحيح بخاري 5899، وصحيح مسلم 2103]