حدیث کتب › مسند الحميدي ›
حدیث نمبر: 640
640 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، وَأَيُّوبُ السِّخْتِيَانِيُّ، وَأَيُّوبُ بْنُ مُوسَي، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ، إِلَّا أَنَّهُمْ قَالُوا: «وَلَا ثَوْبٌ مَسَّهُ زَعْفَرَانُ، وَلَا وَرْسٌ» فِي آخِرِ الْحَدِيثِاردو ترجمہ مسند الحمیدی
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: ”وہ ایسا کپڑا نہیں پہنے گا، جس پر زعفران یا ورس لگا ہوا ہو۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ محمد ابراہیم بن بشیر
640- سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: "وہ ایسا کپڑا نہیں پہنے گا، جس پر زعفران یا ورس لگا ہوا ہو۔" [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:640]
فائدہ:
اس حدیث میں احرام کے بعض آداب کا بیان ہے، حج یا عمرہ کرنے والے پر ضروری ہے کہ وہ ان چیزوں کا خیال رکھتے ہوئے احرام باندھے۔ احرام کے لباس کی مختصر تفصیل یہ ہے کہ مرد کے لیے احرام کا لباس دو چادریں ہیں، وہ احرام کی حالت میں شلوار، قمیض نہیں پہن سکتا، وہ اپنے سر پر پگڑی یا کپڑا بھی نہیں رکھ سکتا بلکہ سر ننگا ہی رکھے گا، وہ ہر طرح کی جوتی پہن سکتا ہے لیکن اگر فوجی بوٹ یا موزے پہنے ہوں، تو چونکہ فوجی بوٹ اور موزے ٹخنوں کو بھی ڈھانپ لیتے ہیں، اس لیے ان کوٹخنوں کے نیچے تک کاٹ دے۔ بعض لوگوں کا حج اور عمرے کے موقع پر قینچی جوتی کو فرض قرار دینا درست نہیں ہے۔
یاد رہے کہ عورت کے احرام کے لیے مذکورہ چیزوں کی پابندی ضروری نہیں ہے، بلکہ وہ عام حالات کی طرح احرام کی حالت میں بھی سر، ٹخنے اور جسم کے سارے حصوں کو ڈھک کر رکھے گی، ہاں یہ ضرور ہے کہ حالت احرام میں چہرے پر نقاب اور ہاتھوں پر دستانے پہننے سے منع کیا گیا ہے، لیکن یہ حالت صرف اس وقت ہو گی جب مردموجود نہ ہوں، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب ہمارا سامنا مردوں سے ہوتا تو ہم اپنے چہروں کو چھپا لیتی تھیں۔ [سنن ابي داود: 1833 ـ سنن ابن ماجه: 4930] اس کو شیخ البانی نے حسن کہا ہے۔
یہاں ایک بات بطور نصیحت عرض ہے کہ حج یا عمرہ کے موقع پر جتنی احتیاط کی جاتی ہے کہ کہیں میرا حج ضائع نہ ہو جائے، اس طرح زندگی کے ہر ہر موڑ پر ہمیں مکمل احتیاط کرنی چاہیے اور ممنوع کاموں سے کلی اجتناب کرنا چاہیے۔
اس حدیث میں احرام کے بعض آداب کا بیان ہے، حج یا عمرہ کرنے والے پر ضروری ہے کہ وہ ان چیزوں کا خیال رکھتے ہوئے احرام باندھے۔ احرام کے لباس کی مختصر تفصیل یہ ہے کہ مرد کے لیے احرام کا لباس دو چادریں ہیں، وہ احرام کی حالت میں شلوار، قمیض نہیں پہن سکتا، وہ اپنے سر پر پگڑی یا کپڑا بھی نہیں رکھ سکتا بلکہ سر ننگا ہی رکھے گا، وہ ہر طرح کی جوتی پہن سکتا ہے لیکن اگر فوجی بوٹ یا موزے پہنے ہوں، تو چونکہ فوجی بوٹ اور موزے ٹخنوں کو بھی ڈھانپ لیتے ہیں، اس لیے ان کوٹخنوں کے نیچے تک کاٹ دے۔ بعض لوگوں کا حج اور عمرے کے موقع پر قینچی جوتی کو فرض قرار دینا درست نہیں ہے۔
یاد رہے کہ عورت کے احرام کے لیے مذکورہ چیزوں کی پابندی ضروری نہیں ہے، بلکہ وہ عام حالات کی طرح احرام کی حالت میں بھی سر، ٹخنے اور جسم کے سارے حصوں کو ڈھک کر رکھے گی، ہاں یہ ضرور ہے کہ حالت احرام میں چہرے پر نقاب اور ہاتھوں پر دستانے پہننے سے منع کیا گیا ہے، لیکن یہ حالت صرف اس وقت ہو گی جب مردموجود نہ ہوں، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب ہمارا سامنا مردوں سے ہوتا تو ہم اپنے چہروں کو چھپا لیتی تھیں۔ [سنن ابي داود: 1833 ـ سنن ابن ماجه: 4930] اس کو شیخ البانی نے حسن کہا ہے۔
یہاں ایک بات بطور نصیحت عرض ہے کہ حج یا عمرہ کے موقع پر جتنی احتیاط کی جاتی ہے کہ کہیں میرا حج ضائع نہ ہو جائے، اس طرح زندگی کے ہر ہر موڑ پر ہمیں مکمل احتیاط کرنی چاہیے اور ممنوع کاموں سے کلی اجتناب کرنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 640 سے ماخوذ ہے۔